جی ڈی اے کا بدین پریس کلب کے سامنے احتجاج کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260207-8-1
بدین(نمائندہ جسارت)جی ڈی اے اور اس کی اتحادی جماعتوں کی جانب سے 8 فروری ملک بھر میں یوم سیاہ منانے کی کال پر بدین میں بھی حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے بھرپور احتجاج کی تیاری کے سلسلے میں عوامی رابطہ مہم جاری ہے۔ جی ڈی اے میں شامل مرزا گروپ ، سندھ یونائیٹڈ پارٹی ، فنگشنل لیگ کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور عہدیدران اپنی اپنی پارٹیز کے اجلاس کے علاوہ عوامی رابطہ مہم کے سلسلہ میں کاروباری اور شہری تنظیموں سے ملاقات کر کے آٹھ فروری کو ملک بھر میں پرامن طریقے سے مکمل شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام اور احتجاجی مظاہرہ میں شرکت کے لیے اپیل کی گئی ہے ، اس سلسلہ میں جی ڈی اے مرزا گروپ کے رہنما حسنین مرزا ، سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے مرکزی نائب صدر ایڈوکیٹ امیر آزاد پھنور ، تحریک انصاف کے رہنما عزیز اللہ ڈیرو ، دیگر رہنماؤں دلبر خواجہ ، سکندر میمن ، حاجی غلام رسول میمن ، دانش نور اور دیگر کا کہنا ہے کہ یومِ سیاہ پر عوام کا خاموش احتجاج جعلی نظام کے خلاف ریفرنڈم ہوگا، انہوں نے کہا شٹر ڈاؤن ہڑتال آئینی اور جمہوری حق ہے جبکہ پیپلز پارٹی حکومت خوفزدہ ہے اور جعلی مینڈیٹ پر قائم حکومت عوام کے اتحاد سے گھبرا رہی ہے، انہوں نے کہا کہ 8 فروری کو عوام اپنے ووٹ کی حرمت کے لیے ہڑتال اور احتجاج کو کامیاب بنائے گی۔ جی ڈی اے اور اتحادی جماعتوں کے مطابق بدین میں یوم سیاہ کے موقع پر تین بجے دوپہر بدین پریس کلب کے سامنے بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا ، جس میں جی ڈی اے کے قائدین بھی شرکت کریں گے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جی ڈی اے
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک