فراڈ کیس؛ سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے بھائی کو بڑا ریلیف، عدالت نے گرفتاری روک دی
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
اسلام آباد:
سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے بھائی کو فراڈ کیس میں بڑا ریلیف مل گیا، جس کے تحت عدالت نے ان کی گرفتاری روک دی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے فراڈ کیس میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے بھائی نجف حمید کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے اسپیشل جج سینٹرل کے فیصلے پر آئندہ سماعت تک کارروائی معطل کر دی، جب کہ عدالت نے نجف حمید کی گرفتاری سے بھی روک دیا۔
عدالت نے نجف حمید کی درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے متعلقہ فریقین سے جواب طلب کر لیا اور کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ اسپیشل جج سینٹرل نے 16 جنوری کو نجف حمید کی ضمانت قبل از گرفتاری سے متعلق فیصلہ واپس لینے کی ایف آئی اے کی درخواست منظور کی تھی، جس کے بعد نجف حمید نے ضمانت منسوخی کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا اور اسپیشل جج سینٹرل کی جانب سے 24 جنوری کو سنائے گئے ضمانت منسوخی کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔
گزشتہ سماعت میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے بھائی نجف حمید کی ضمانت بحالی کی درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس راجا انعام امین منہاس کے روبرو ایف آئی اے فراڈ کیس کی سماعت کے دوران نجف حمید عدالت میں موجود تھے، جہاں عدالتنے نجف حمید کی ضمانت بحالی کی درخواست پر نوٹس جاری کیے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے بھائی نجف حمید کی اسلام آباد کی درخواست فراڈ کیس عدالت نے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔