اسلام آباد: پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران 59.65 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی تازہ رپورٹ کے مطابق 30 جنوری 2026 کو ختم ہونے والے کاروباری ہفتے میں ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر 4.
مرکزی بینک کے ذخائر میں 5.61 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا اور یہ 16.15 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، جبکہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں 1.07 کروڑ ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ 5.18 ارب ڈالر رہ گئے۔
اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ جنوری 2026 کے دوران ملکی زرمبادلہ ذخائر میں مجموعی طور پر 59.65 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا، جس سے معیشت کے لیے مالی استحکام کی صورت حال مضبوط ہوئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے ذخائر میں کروڑ ڈالر
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔