امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کی گئی باراک اوباما اور ان کی اہلیہ کی نہایت نامناسب ویڈیو کی مذمت تو کی لیکن معافی مانگنے سے صاف انکار کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ٹرمپ ٹروتھ سوشل پر شیئر کی گئی ویڈیو کے آخر میں سابق صدر باراک اوباما اور سابق خاتونِ اول میشل اوباما کو بندروں کی شکل میں دکھایا گیا تھا۔

ایک منٹ پر مشتمل یہ ویڈیو صدر ٹرمپ کے اکاؤنٹ پر تقریباً 12 گھنٹے تک آن لائن رہی تاہم اس کے بعد اسے ہٹا دیا گیا تھا۔

ویڈیو کے پہلے حصے میں انتخابات کے حوالے سے بے بنیاد دھاندلی کے الزامات دہرائے گئے لیکن آخر میں مختصر طور پر ایک AI تیار کردہ کلپ شامل تھا۔

TRUMP DELETES VIDEO SHOWING OBAMAS AS APES

‘Staffer erroneously made the post’ — WH pic.

twitter.com/XmBOxQkHK1

— RT (@RT_com) February 6, 2026

جس میں سابق صدر اوباما اور ان کی اہلیہ کے چہروں کو بندروں کے جسموں پر لگائے گئے تھے جو جنگل میں رقص کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں

صدر ٹرمپ نے باراک اوباما اور انکی اہلیہ کی نہایت نامناسب تصویر شیئر کردی

جب رپورٹرز نے صدر ٹرمپ سے پوچھا کہ کیا وہ ویڈیو پر معافی مانگیں گے تو انھوں نے برملہ جواب دیا کہ نہیں، میں نے کوئی غلطی نہیں کی ہے۔

تاہم صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ وہ پوری ویڈیو نہیں دیکھ پائے تھے۔ صرف ویڈیو کا پہلا حصہ دیکھا تھا جو میرے خیال میں بالکل ٹھیک تھا۔

Donald Trump condemned but did not apologize for a video on his social media account depicting former Barack and Michelle Obama as apes, a post that triggered swift, bipartisan criticism for dehumanizing people of African descent https://t.co/F6BeMeJWSE pic.twitter.com/mXbZQWc4iA

— Reuters (@Reuters) February 7, 2026

البتہ انھوں نے اس بات بھی اعتراف کیا کہ ویڈیو کے آخری حصہ جس میں بندروں کی شکل پر اوباما اور ان کی اہلیہ کے چہرے لگائے گئے تھے، شاید کسی اسٹاف ممبر نے غلطی سے پوسٹ کردیا تھا۔

 

 

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اوباما اور کی اہلیہ

پڑھیں:

ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر

 ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔ 

پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔

ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔  

رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان