کمر درد سے نجات کے لیے نیند کی درست پوزیشن کون سی؟ ماہرین کیا کہتے ہیں
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
صحت مند جسم کے لیے متوازن غذا جتنی ضروری ہے، اتنی ہی اہم پُرسکون اور بھرپور نیند بھی سمجھی جاتی ہے۔ اچھی نیند نہ صرف ذہنی کارکردگی کو بہتر بناتی ہے بلکہ جذباتی توازن برقرار رکھنے، جسم کو تازہ دم رکھنے اور روزمرہ توانائی بحال کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
طبی رپورٹس کے مطابق مناسب نیند ہارمونز کو متوازن رکھنے، مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے اور یادداشت و سوچنے کی صلاحیت میں اضافہ کرنے میں بھی مدد دیتی ہے۔
تاہم نیند کے دوران چند ایسی عادتیں بھی ہوتی ہیں جو صحت کو متاثر کر سکتی ہیں، جن میں سب سے عام مسئلہ غلط انداز میں سونا ہے۔ ماہرین کے مطابق نامناسب پوزیشن میں نیند نہ صرف آرام میں کمی کا باعث بنتی ہے بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ کمر درد جیسے مسائل کو بھی جنم دے سکتی ہے۔
پیٹ کے بل سونے سے گردن اور ریڑھ کی ہڈی پر غیر ضروری دباؤ پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں پٹھوں میں کھچاؤ اور اکڑن پیدا ہو سکتی ہے۔ اگر ریڑھ کی ہڈی کو مناسب سہارا نہ ملے تو پہلے سے موجود تکالیف بڑھنے کے ساتھ ساتھ نئے مسائل پیدا ہونے کا خطرہ بھی رہتا ہے۔ اسی لیے ماہرین عام طور پر کمر کے بل یا کروٹ لے کر سونے کو بہتر قرار دیتے ہیں۔
کمر کے بل لیٹنے سے جسم کا وزن یکساں طور پر تقسیم ہو جاتا ہے اور دباؤ کم پڑتا ہے، جبکہ گھٹنوں کے نیچے تکیہ رکھنے سے ریڑھ کی ہڈی کا قدرتی خم برقرار رہتا ہے اور نچلی کمر کو سہارا ملتا ہے۔
اسی طرح کروٹ لے کر سونا بھی ریڑھ کی ہڈی کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے۔ اس انداز میں گھٹنوں کے درمیان تکیہ رکھنے سے جسم سیدھی حالت میں رہتا ہے اور کولہوں و کمر کے نچلے حصے پر دباؤ کم ہو جاتا ہے۔
بعض ماہرین ٹانگوں کو ہلکا سا جسم کی جانب موڑ کر سونے کا مشورہ دیتے ہیں کیونکہ اس سے ریڑھ کی ہڈی کے مہروں کے درمیان مناسب فاصلہ پیدا ہوتا ہے، جو خاص طور پر کمر کے دائمی مسائل رکھنے والوں کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ اس پوزیشن کو مزید آرام دہ بنانے کے لیے جسم کو زیادہ اکڑانے کے بجائے ڈھیلا چھوڑ دینا بہتر رہتا ہے۔
کمر درد سے بچاؤ کے لیے صرف پوزیشن ہی نہیں بلکہ چند اضافی عادات بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ درست گدے کا انتخاب بنیادی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ درمیانی سختی والا گدا جسم کو مناسب سہارا فراہم کرتا ہے اور نیند کے دوران ریڑھ کی ہڈی کو قدرتی حالت میں رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اگر گدا پرانا ہو چکا ہو یا جسم کا وزن ٹھیک طرح نہ سنبھال پاتا ہو تو اسے تبدیل کرنا زیادہ بہتر سمجھا جاتا ہے۔
اسی طرح تکیے کا درست ہونا بھی ضروری ہے تاکہ گردن غیر فطری زاویے پر نہ مڑے۔ کمر کے بل سونے والوں کے لیے نسبتاً پتلا تکیہ مناسب رہتا ہے، جبکہ کروٹ لے کر سونے والوں کو قدرے موٹا تکیہ زیادہ سہولت فراہم کرتا ہے۔
ماہرین نیند کے معمولات کو بھی خاص اہمیت دیتے ہیں اور مشورہ دیتے ہیں کہ روزانہ تقریباً ایک ہی وقت پر سونا اور جاگنا جسمانی گھڑی کو متوازن رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
سونے کے لیے کمرے کا ماحول بھی بڑا کردار ادا کرتا ہے۔ قدرے ٹھنڈا، خاموش اور تاریک کمرہ نیند کو گہرا بنانے میں مددگار ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سونے سے پہلے موبائل فون یا دیگر اسکرینوں کا استعمال کم کرنا بھی مفید سمجھا جاتا ہے کیونکہ ان سے خارج ہونے والی روشنی نیند کے قدرتی نظام میں خلل ڈال سکتی ہے۔
ماہرین یہ بھی تجویز کرتے ہیں کہ سونے سے پہلے خود کو ذہنی طور پر پُرسکون کرنے والی سرگرمیاں اختیار کی جائیں، جیسے مطالعہ، مراقبہ یا ہلکی پھلکی اسٹریچنگ۔ دن بھر جسمانی طور پر متحرک رہنا اور رات کو ہلکا کھانا کھانا بھی بہتر نیند کے حصول میں مدد دیتا ہے۔
اگر کمر درد سے بچاؤ چاہتے ہیں تو اپنی سونے کی پوزیشن پر توجہ دیں اور صحت بخش نیند کے لیے ان مفید عادات کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا لیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ریڑھ کی ہڈی دیتے ہیں نیند کے رہتا ہے جاتا ہے کمر کے ہے اور کے لیے
پڑھیں:
وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔
سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزاماتبدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔
تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرارطالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔
اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میںرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔
بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویررپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔
اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز