صحت مند جسم کے لیے متوازن غذا جتنی ضروری ہے، اتنی ہی اہم پُرسکون اور بھرپور نیند بھی سمجھی جاتی ہے۔ اچھی نیند نہ صرف ذہنی کارکردگی کو بہتر بناتی ہے بلکہ جذباتی توازن برقرار رکھنے، جسم کو تازہ دم رکھنے اور روزمرہ توانائی بحال کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ 

طبی رپورٹس کے مطابق مناسب نیند ہارمونز کو متوازن رکھنے، مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے اور یادداشت و سوچنے کی صلاحیت میں اضافہ کرنے میں بھی مدد دیتی ہے۔

تاہم نیند کے دوران چند ایسی عادتیں بھی ہوتی ہیں جو صحت کو متاثر کر سکتی ہیں، جن میں سب سے عام مسئلہ غلط انداز میں سونا ہے۔ ماہرین کے مطابق نامناسب پوزیشن میں نیند نہ صرف آرام میں کمی کا باعث بنتی ہے بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ کمر درد جیسے مسائل کو بھی جنم دے سکتی ہے۔ 

پیٹ کے بل سونے سے گردن اور ریڑھ کی ہڈی پر غیر ضروری دباؤ پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں پٹھوں میں کھچاؤ اور اکڑن پیدا ہو سکتی ہے۔ اگر ریڑھ کی ہڈی کو مناسب سہارا نہ ملے تو پہلے سے موجود تکالیف بڑھنے کے ساتھ ساتھ نئے مسائل پیدا ہونے کا خطرہ بھی رہتا ہے۔ اسی لیے ماہرین عام طور پر کمر کے بل یا کروٹ لے کر سونے کو بہتر قرار دیتے ہیں۔ 

کمر کے بل لیٹنے سے جسم کا وزن یکساں طور پر تقسیم ہو جاتا ہے اور دباؤ کم پڑتا ہے، جبکہ گھٹنوں کے نیچے تکیہ رکھنے سے ریڑھ کی ہڈی کا قدرتی خم برقرار رہتا ہے اور نچلی کمر کو سہارا ملتا ہے۔

اسی طرح کروٹ لے کر سونا بھی ریڑھ کی ہڈی کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے۔ اس انداز میں گھٹنوں کے درمیان تکیہ رکھنے سے جسم سیدھی حالت میں رہتا ہے اور کولہوں و کمر کے نچلے حصے پر دباؤ کم ہو جاتا ہے۔

بعض ماہرین ٹانگوں کو ہلکا سا جسم کی جانب موڑ کر سونے کا مشورہ دیتے ہیں کیونکہ اس سے ریڑھ کی ہڈی کے مہروں کے درمیان مناسب فاصلہ پیدا ہوتا ہے، جو خاص طور پر کمر کے دائمی مسائل رکھنے والوں کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ اس پوزیشن کو مزید آرام دہ بنانے کے لیے جسم کو زیادہ اکڑانے کے بجائے ڈھیلا چھوڑ دینا بہتر رہتا ہے۔

کمر درد سے بچاؤ کے لیے صرف پوزیشن ہی نہیں بلکہ چند اضافی عادات بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ درست گدے کا انتخاب بنیادی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ درمیانی سختی والا گدا جسم کو مناسب سہارا فراہم کرتا ہے اور نیند کے دوران ریڑھ کی ہڈی کو قدرتی حالت میں رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اگر گدا پرانا ہو چکا ہو یا جسم کا وزن ٹھیک طرح نہ سنبھال پاتا ہو تو اسے تبدیل کرنا زیادہ بہتر سمجھا جاتا ہے۔

اسی طرح تکیے کا درست ہونا بھی ضروری ہے تاکہ گردن غیر فطری زاویے پر نہ مڑے۔ کمر کے بل سونے والوں کے لیے نسبتاً پتلا تکیہ مناسب رہتا ہے، جبکہ کروٹ لے کر سونے والوں کو قدرے موٹا تکیہ زیادہ سہولت فراہم کرتا ہے۔

ماہرین نیند کے معمولات کو بھی خاص اہمیت دیتے ہیں اور مشورہ دیتے ہیں کہ روزانہ تقریباً ایک ہی وقت پر سونا اور جاگنا جسمانی گھڑی کو متوازن رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

سونے کے لیے کمرے کا ماحول بھی بڑا کردار ادا کرتا ہے۔ قدرے ٹھنڈا، خاموش اور تاریک کمرہ نیند کو گہرا بنانے میں مددگار ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سونے سے پہلے موبائل فون یا دیگر اسکرینوں کا استعمال کم کرنا بھی مفید سمجھا جاتا ہے کیونکہ ان سے خارج ہونے والی روشنی نیند کے قدرتی نظام میں خلل ڈال سکتی ہے۔

ماہرین یہ بھی تجویز کرتے ہیں کہ سونے سے پہلے خود کو ذہنی طور پر پُرسکون کرنے والی سرگرمیاں اختیار کی جائیں، جیسے مطالعہ، مراقبہ یا ہلکی پھلکی اسٹریچنگ۔ دن بھر جسمانی طور پر متحرک رہنا اور رات کو ہلکا کھانا کھانا بھی بہتر نیند کے حصول میں مدد دیتا ہے۔

اگر کمر درد سے بچاؤ چاہتے ہیں تو اپنی سونے کی پوزیشن پر توجہ دیں اور صحت بخش نیند کے لیے ان مفید عادات کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا لیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ریڑھ کی ہڈی دیتے ہیں نیند کے رہتا ہے جاتا ہے کمر کے ہے اور کے لیے

پڑھیں:

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔

متعلقہ مضامین

  • جیفری ایپسٹین سے روابط رکھنے والے ماڈلنگ اسکاؤٹ کی پیرس میں پراسرار موت
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے
  • علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان 
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی