لیہ، سانحہ اسلام آباد کیخلاف شیعہ تنظیموں کی پریس کلب تک احتجاجی ریلی
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
رہنمائوں نے کہا کہ حکومت اور سیکیورٹی اداروں کو چاہیے کہ وہ اسلام آباد ترلائی سانحہ میں ملوث دہشت گرد عناصر اور ان کے سہولت کاروں کو قرار واقعی سزا دے بلکہ واقعہ کی جوڈیشل کمیشن کے ذریعے تحقیقات کرائی جائیں اور حقائق کو منظر عام پر لایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلام آباد کی مسجد خدیجة الکبری میں نماز جمعہ کے اجتماع میں نمازیوں پر ہونے والے خودکش حملے کے خلاف مجلس وحدت مسلمین لیہ، شیعہ علما کونسل لیہ، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے زیراہتمام پریس کلب تک احتجاجی ریلی نکالی گئی، مولانا ذوالفقار علی حیدری، صفدر حسین خان، ساجد خان گشکوری سمیت دیگر نے شرکت کی۔ ریلی کے شرکاء نے اسلام آباد واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور سیکیورٹی اداروں کو چاہیے کہ وہ اسلام آباد ترلائی سانحہ میں ملوث دہشت گرد عناصر اور ان کے سہولت کاروں کو قرار واقعہ سزا دے بلکہ واقعہ کی جوڈیشل کمیشن کے ذریعے تحقیقات کرائی جائیں اور حقائق کو منظر عام پر لایا جائے جو بھی ملک وقوم دشمن عناصر ملوث ہیں تحقیقات کر کے قوم آگاہ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں کوئی فرقہ واریت نہیں ہے تمام محب وطن مذہبی و جمہوری قوتیں ملک و قوم دشمن عناصر کے خلاف ہمیشہ کی طرح آج بھی متحد ہیں اور ملک و قوم کی سلامتی پر ذرہ برابر بھی آنچ نہیں آنے دیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
ہولناک سانحہ، ایک شخص نے خاندان کے 6 افراد کو قتل کرکے خود کو گولی مار دی
واشنگٹن: امریکا کی ریاست آئیووا کے شہر مسکیٹین میں ایک افسوسناک فائرنگ کے واقعے میں ایک شخص نے اپنے ہی خاندان کے 6 افراد کو قتل کرنے کے بعد خودکشی کرلی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ واقعہ پیر کے روز مشرقی آئیووا کے شہر مسکیٹین میں پیش آیا، جو دریائے مسیسیپی کے کنارے واقع ہے۔
پولیس کے ابتدائی بیان کے مطابق واقعے کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ فائرنگ کا تعلق ایک گھریلو یا خاندانی تنازع سے تھا، تاہم حکام نے ابھی تک تنازع کی نوعیت یا اس کے پس منظر کے بارے میں مزید تفصیلات جاری نہیں کیں۔
پولیس کو دوپہر کے وقت فائرنگ کی اطلاع موصول ہوئی، جس کے بعد اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچے تو ایک گھر کے اندر چار افراد کی لاشیں ملیں، جنہیں گولیاں مار کر قتل کیا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق مشتبہ ملزم موقع سے فرار ہوچکا تھا، تاہم جلد ہی اس کی شناخت 52 سالہ ریان ولیس میک فارلینڈ کے نام سے کرلی گئی، جو مسکیٹین کا رہائشی تھا۔
بعد ازاں پولیس نے ملزم کو شہر کے دریا کنارے واقع پیدل چلنے کے راستے کے قریب تلاش کرلیا۔ پولیس چیف انتھونی کیز کے مطابق جب افسران اس سے بات چیت کر رہے تھے تو اس نے خود کو گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں مجموعی طور پر سات افراد ہلاک ہوئے، جن میں چھ خاندان کے افراد اور خود ملزم شامل ہے۔ پولیس نے مزید کہا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور تمام حقائق سامنے آنے کے بعد مزید معلومات فراہم کی جائیں گی۔
امریکا میں گھریلو تنازعات سے جڑے فائرنگ کے واقعات ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گئے ہیں، جبکہ اس افسوسناک سانحے نے مقامی کمیونٹی کو شدید صدمے میں مبتلا کردیا ہے۔