لیہ، سانحہ اسلام آباد کیخلاف شیعہ تنظیموں کی پریس کلب تک احتجاجی ریلی
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
رہنمائوں نے کہا کہ حکومت اور سیکیورٹی اداروں کو چاہیے کہ وہ اسلام آباد ترلائی سانحہ میں ملوث دہشت گرد عناصر اور ان کے سہولت کاروں کو قرار واقعی سزا دے بلکہ واقعہ کی جوڈیشل کمیشن کے ذریعے تحقیقات کرائی جائیں اور حقائق کو منظر عام پر لایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلام آباد کی مسجد خدیجة الکبری میں نماز جمعہ کے اجتماع میں نمازیوں پر ہونے والے خودکش حملے کے خلاف مجلس وحدت مسلمین لیہ، شیعہ علما کونسل لیہ، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے زیراہتمام پریس کلب تک احتجاجی ریلی نکالی گئی، مولانا ذوالفقار علی حیدری، صفدر حسین خان، ساجد خان گشکوری سمیت دیگر نے شرکت کی۔ ریلی کے شرکاء نے اسلام آباد واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور سیکیورٹی اداروں کو چاہیے کہ وہ اسلام آباد ترلائی سانحہ میں ملوث دہشت گرد عناصر اور ان کے سہولت کاروں کو قرار واقعہ سزا دے بلکہ واقعہ کی جوڈیشل کمیشن کے ذریعے تحقیقات کرائی جائیں اور حقائق کو منظر عام پر لایا جائے جو بھی ملک وقوم دشمن عناصر ملوث ہیں تحقیقات کر کے قوم آگاہ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں کوئی فرقہ واریت نہیں ہے تمام محب وطن مذہبی و جمہوری قوتیں ملک و قوم دشمن عناصر کے خلاف ہمیشہ کی طرح آج بھی متحد ہیں اور ملک و قوم کی سلامتی پر ذرہ برابر بھی آنچ نہیں آنے دیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
سانحہ گل پلازہ میں اہم پیش رفت؛ 5 اداروں کے افسران کے بیانات ریکارڈ
کراچی:سانحہ گل پلازہ میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس میں تفتیشی افسر نے 5 اداروں کے افسران کے بیانات ریکارڈ کر لیے۔
سٹی کورٹ نے تفتیش مکمل کرنے کے لیے تفتیشی افسر کو 7 دن کی مہلت دے دی۔
تفتیشی افسر ڈی ایس پی عامر ورک نے عدالت سے کہا کہ بیانات مکمل نہیں ہوئے لہٰذا تفتیش مکمل کرنے کے لیے مہلت دی جائے۔ ایس ایس پی ٹریفک، فائربریگیڈ، سول ڈیفنس اور کے ایم سی افسران کے بیان ریکارڈ کر لیے ہیں۔
مزید پڑھیںسانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل کمیشن رپورٹ پبلک کرنے کی درخواست مسترد
سانحہ گل پلازہ کیس: سرکاری اداروں نے تعاون نہیں کیا، تفتیشی افسر نے پیشرفت رپورٹ عدالت میں جمع کرادی
تفتیشی افسر کے مطابق فائر بریگیڈ کے اس فائر آفیسر کا بیان ریکارڈ کیا ہے، جو پہلی گاڑی کے ساتھ گل پلازہ پہنچا تھا۔ تنویر پاستا، عمار اسماعیل، امین، رمضان، نعمت اللہ اور 11 سالہ حذیفہ کا بیان پہلے ہی ریکارڈ ہوچکا ہے۔
ڈی ایس پی عامر ورک نے 8 سرکاری اداروں کے سربراہوں کو خطوط لکھے ہیں۔