بسنت شو، رقص اور تفریح؛ ندا یاسر ایک بار پھر تنقید کی زد میں کیوں ؟
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
معروف مارننگ شو ہوسٹ ندا یاسر کو اپنے پروگرام میں بسنت اسپیشل سیگمنٹ کرنے پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یوں تو ندا یاسر گزشتہ تقریباً اٹھارہ برس سے یہ مارننگ شو کر رہی ہیں اور سوشل میڈیا پر ان کی بڑی فین فالوونگ موجود ہے۔
وہ اکثر اپنے پروگرام میں مختلف سماجی اور ثقافتی موضوعات پر گفتگو کرتی ہیں تاہم بعض اوقات ان کے موضوعات اور انداز بحث تنازع کا سبب بھی بن جاتے ہیں۔
حال ہی میں انھوں نے اپنے پروگرام میں لاہور میں ہونے والی بسنت کی سرگرمیوں کے حوالے سے ایک خصوصی سیگمنٹ رکھا۔
جس میں معروف کوریوگرافر نگاہ جی، اداکارہ سعدیہ امام، کرن خان، گلوکار جنید اور دیگر مہمان شریک ہوئے۔
پروگرام کے دوران بسنت کے حوالے سے گفتگو کی گئی اور ندا یاسر نے ایک پنجابی گانے پر ڈانس اسٹیپس بھی سیکھے۔
یہ پروگرام جمعہ کی صبح نشر ہوا جس کے بعد سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے انھیں تنقید کا نشانہ بنایا۔
اعتراض کرنے والوں کا مؤقف تھا کہ ایسے تفریحی اور رقص کے مناظر جمعہ کے دن اور موجودہ حالات کے تناظر میں مناسب نہیں۔
کچھ صارفین نے تبصرہ کیا کہ ملک میں مختلف مسائل اور سانحات جاری ہیں، ایسے میں جشن منانا حساسیت کے خلاف ہے۔
کئی تبصروں میں یہ بھی کہا گیا کہ میزبان کو اپنے شو میں زیادہ بامقصد موضوعات کو جگہ دینی چاہیے۔
کچھ صارفین نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ ملک کے دیگر اہم مسائل پر گفتگو کے بجائے بسنت جیسے موضوعات کو نمایاں کرنا درست نہیں۔
واضح رہے کہ آج نماز جمعہ کے دوران اسلام آباد کے ایک امام بارگاہ میں ہونے والے خودکش دھماکے میں 30 سے زائد فراد جاں بحق اور 160 سے زائد زخمی ہیں۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل ندا یاسر
پڑھیں:
’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے طلبہ احتجاج کے تناظر میں ایک اہم پیغام جاری کرتے ہوئے طلبہ اور سونم وانگچک سے اپیل کی ہے۔
سلمان خان نے نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک ہونے کے معاملے پر جاری طلبہ احتجاج کے تناظر میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’’طلبہ کی تعلیم اور سیکیورٹی ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے، اس لیے انہیں خود بھی فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی اپنے والدین کو مزید پریشان کرنا چاہیے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ’’معزز وزیرِ اعظم اس معاملے پر ٹوئٹ کر چکے ہیں، اور مجھے یقین ہے کہ وہ پرچہ لیک کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔ لہٰذا تمام طلبہ سے گزارش ہے کہ وہ اپنے والدین اور گھروں کو واپس چلے جائیں۔‘‘
View this post on Instagramاداکار نے اپنے پیغام میں گزشتہ 25 روز سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے تعلیمی کارکن سونم وانگچک کو بھی مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’’سونم، اب بہت ہو گیا، بھائی۔ براہِ کرم اپنی بھوک ہڑتال مزید طویل نہ کریں۔ اگر مستقبل میں ضرورت پڑی تو احتجاج کا جذبہ برقرار رکھیے، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ اب اس کی ضرورت ہے۔ کچھ کھا لیجیے، اگر چاہیں تو میں اپنے گھر سے آپ کے لیے کھانا بھی بھجوا دوں گا۔‘‘
یہ بیان سلمان خان کی جانب سے 24 گھنٹوں کے دوران اس معاملے پر دوسری عوامی اپیل ہے۔ اس سے قبل بھی انہوں نے نیٹ امتحان کے تنازع پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طلبہ کے مفادات کے تحفظ پر زور دیا تھا۔
View this post on Instagramواضح رہے کہ نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک کے بعد ملک بھر میں طلبہ کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی اور احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔