سوشل میڈیا ویڈیو کا جنون جان لے گیا، بھارتی خاتون کی المناک موت
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
بھارت میں سوشل میڈیا کے لیے ویڈیو بنانے کا شوق ایک خاتون کے لیے جان لیوا ثابت ہو گیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ ریاست اترپردیش کے ضلع بانڈہ میں پیش آیا، جہاں 27 سالہ موہنی اپنے گھر میں ویڈیو ریکارڈ کر رہی تھی۔
اہلِ خانہ کے مطابق موہنی ایک ڈرامائی منظر کی ویڈیو دوبارہ بنانے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس مقصد کے لیے اس نے اپنے گلے میں پھندا ڈالا اور موبائل فون پر ویڈیو بنانے کے لیے اسٹول پر کھڑی ہو گئی۔ اس دوران اچانک اس کا توازن بگڑ گیا اور پھندا گردن کے گرد سخت ہونے کے باعث وہ جانبر نہ ہو سکی۔
رپورٹس کے مطابق واقعے کا علم اس وقت ہوا جب موہنی کی چار سالہ بیٹی کمرے میں پہنچی اور ماں کو لٹکا ہوا دیکھا۔ بچی کی چیخ و پکار پر اہلِ محلہ جمع ہو گئے اور فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی گئی۔
اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور لاش کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں، تاہم ابتدائی شواہد کے مطابق یہ ایک حادثہ ہے۔
یہ واقعہ سوشل میڈیا کے لیے خطرناک مناظر کی نقل کرنے کے رجحان پر ایک بار پھر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔