امیر مقام: 8 فروری کی ہڑتال پر کسی نے کان نہیں دھرا، عوام نے جعلی بیانیہ دفن کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
وفاقی وزیر امور کشمیر امیر مقام نے پشاور میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معرکہ حق میں کامیابی نے عوام کا ذہن بدل دیا اور فیلڈ مارشل اور وزیراعظم کے بہادرانہ فیصلوں نے دشمن کو شکست دی۔
امیر مقام نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز ملک کی خاطر قربانیاں دے رہی ہیں اور خیبر پختونخوا کے عوام ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبے کے لوگ امن اور روزگار چاہتے ہیں اور اس لیے جعلی بیانیہ اب دفن ہو چکا ہے، 8 فروری کی ہڑتال پر کسی نے دھیان نہیں دیا۔
وفاقی وزیر نے زور دے کر کہا کہ دہشت گردی کے خلاف سب کو ایک صفحے پر آنا ہوگا اور اپنے اداروں کو بدنام کرنے سے ملک کی خدمت نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ چاہے قدرتی آفات ہوں یا دہشت گردی کا خاتمہ، فوج کی مدد سے ہی قوم محفوظ رہتی ہے، اور ایسا جذبہ بھارت کے پاس نہیں ہے۔
امیر مقام نے کہا کہ پشاور کے عوام نے جعلی بیانیہ کا جنازہ نکال کر واضح پیغام دیا ہے اور ملکی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوام کی خوشحالی نواز شریف اور شہباز شریف کے ایجنڈے کا حصہ ہے، اور وہ ایک بار پھر پشاور کو مسلم لیگ کا مضبوط گڑھ بنانے کے لیے کوشاں رہیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔