ریاض میں عالمی دفاعی نمائش کا آغاز، پاکستان کے’’فتح 2‘‘سمیت جدید میزائل بھی پیش
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں عالمی دفاعی نمائش 2026 کا آغاز ہو گیا ہے، جس میں دنیا کے 80 ممالک کے دفاعی ادارے شریک ہیں۔ پاکستان کی جانب سے گلوبل انڈسٹریل اینڈ ڈیفنس سلوشنز، ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا اور پاکستان آرڈیننس فیکٹری سمیت کئی ادارے حصہ لے رہے ہیں۔
نمائش میں پاکستان کے ‘فتح 2’ سمیت دیگر جدید میزائل اور دفاعی سازوسامان بھی پیش کیے گئے ہیں، جو بھارت کے خلاف معرکۂ حق میں دفاعی لائن کو مزید مضبوط کرنے میں کلیدی کردار رکھتے ہیں۔
وزیر دفاع خواجہ آصف سعودی حکومت کی دعوت پر نمائش میں شریک ہوئے جبکہ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری بھی اس موقع پر موجود تھے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدوں کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات نہایت مضبوط اور مستحکم ہوئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔