Jasarat News:
2026-07-24@15:35:42 GMT

بنگلا دیش میں ایک ابھری ہوئی ’’جماعت‘‘

اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بنگلا دیش کے دارالحکومت ڈھاکا سے 127 کلومیٹر دور ملک کے جنوب مغرب میں واقع ضلع گوپال گنج کا44 سالہ رمیش چندرا دو عشروں سے بھی زائد مدت سے مجسمہ سازی کرتا آیا ہے۔ وہ گوپال گنج تھری کے حلقے کا ووٹر ہے۔ اِسی حلقے سے بنگلا دیش کی معزول وزیرِاعظم شیخ حسینہ واجد مسلسل 8 بار نیشنل اسمبلی کی رکن منتخب ہوئی تھیں۔ رمیش چندرا نے بہت طویل مدت تک عوامی لیگ کا ساتھ دیا ہے۔
اِس بار انتخابی ماحول میں بہت کچھ مختلف ہے اور غائب بھی۔ طلبہ کی احتجاجی تحریک نے 5 اگست 2024 کو شیخ حسینہ واجد کی حکومت کا تختہ پلٹ دیا تھا اور اُنھیں بھاگ کر بھارت میں پناہ لینا پڑی تھی۔ امن کے نوبیل انعام کے حامل ڈاکٹر محمد یونس کی سربراہی میں قائم عبوری حکومت نے 10مئی 2025 کو انسدادِ دہشت گردی قانون کے تحت عوامی لیگ اور اُس سے وابستہ تمام تنظیموں کی سیاسی سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کردی تھی۔

شیخ حسینہ واجد کے عہدحکومت میں بنگلا دیش میں اندرونی سطح پر دی انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل قائم کیا گیا تھا جو اب عوامی لیگ کے رہنماؤں کے خلاف قتل عام اور انسانیت سوز جرائم کے حوالے سے تحقیقات کر رہا ہے۔ ان جرائم کا تعلق طلبہ تحریک دوران رونما ہونے والے واقعات سے ہے جب سرکاری مشینری طلبہ تحریک سے وابستہ کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف استعمال کی گئی تھی۔ اسی ٹربیونل نے طلبہ تحریک کے دوران احتجاج کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم دینے کی پاداش میں شیخ حسینہ واجد کو سزائے موت کا حکم سنایا ہے۔
نام نہاد دی انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل نے اس سے قبل بنگلا دیش جماعت اسلامی کے متعدد رہنماؤں کو1971 کی جنگ کے دوران پاکستان کا ساتھ دینے اور نام نہاد جنگی جرائم کی پاداش میں موت کی سزا دی تھی۔ 2015 میں علی احسن مجاہد اور2016 میں بنگلا دیش جماعت اسلامی کے سربراہ مطیع الرحمٰن نظامی کو دی گئی سزائے موت پر عمل کیا گیا۔
بنگلا دیش میں جماعت اسلامی کبھی پابندیوں کا شکار تھی۔ اب وہ ملک کی مرکزی اپوزیشن جماعتوں کا انتخابی میدان میں ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ بنگلا دیش کے عوام بدانتظامی اور کرپشن سے نالاں ہیں اور متبادل سیاسی قوت کو گلے لگانا چاہتے ہیں۔

موجودہ (عبوری) حکومت کا کہنا ہے ٹربیونل میں مقدمات کے فیصلے کیے جانے تک عوامی لیگ کی تمام سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد رہے گی یعنی یہ کہ عوامی لیگ 12 فروری کے عام انتخابات میں حصہ نہیں لے سکے گی۔ 2024 کی طلبہ تحریک اور اس کے نتیجے میں شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کے بعد بنگلا دیش میں پہلی بار عام انتخابات ہو رہے ہیں۔ دنیا یہ دیکھنے کے لیے بے تاب ہے کہ بنگلا دیش کے عوام اب کیا کرتے ہیں، متبادل سیاسی قوتوں کو چنتے ہیں یا پرانی ڈگر ہی پر گامزن رہتے ہیں۔ عوامی لیگ کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد ہے اس لیے وہ سوشل میڈیا پر انتخابات کے خلاف مہم چلارہی ہے۔
جب رمیش چندرا سے پوچھا گیا کہ عوامی لیگ پر تو پابندی عائد ہے تو کیا وہ اپنا ووٹ کاسٹ کرے گا تو اس نے کہا کیوں نہیں اور میں جماعت اسلامی کو ووٹ دوں گا۔ ہر انسان کو اِس بات کا اختیار اور حق ہے کہ جسے چاہے حکومت کے لیے منتخب کرے۔ اِس بار جماعت اسلامی کو حکمرانی کا موقع دیا جانا چاہیے۔ رمیش چندرا کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی کا کوئی بھی رہنما کرپشن اور بھتا خوری میں ملوث نہیں ہے۔
رمیش چندرا کی طرح اور بھی بہت سے ووٹرز جماعت اسلامی کی طرف متوجہ ہوئے ہیں۔ اس سے یہ اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ اس بار بنگلا دیش کے عام انتخاب حیران کن نتائج کے حامل ثابت ہوسکتے ہیں۔

معروف حسن گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: شیخ حسینہ واجد بنگلا دیش میں جماعت اسلامی بنگلا دیش کے پابندی عائد طلبہ تحریک عوامی لیگ کے خلاف

پڑھیں:

عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار

وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔

ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • فارم 47 کی ناجائز حکومت عوامی مسائل حل کرنے میں مکمل ناکام ہو چکی ہے، راجہ اظہر
  • بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین مستعفی، اسپیکر پارلیمنٹ قائم مقام ہونگے
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاح پر تبادلہ خیال
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم سپرد خاک، نصف صدی پر محیط سیاسی و تنظیمی خدمات کا باب بند
  • بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی