کراچی ،جماعت اسلامی کی پریس کانفرنس پر پولیس کا دھاوا
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
الیکشن کمیشن سندھ کے باہر گرفتار مسلم پرویز، محمد فاروق و دیگر مرکزی و ضلعی ذمہ داران کو رہا کر دیا گیا
ریاستی جبر کا کھلا مظاہرہ، 14 فروری کو سندھ اسمبلی کے باہر ہر صورت دھرنا دیں گے، جماعت اسلامی
جماعت اسلامی کراچی کے قائم مقام امیر مسلم پرویز، رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق سمیت دیگر مرکزی و ضلعی ذمہ داران کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔ گرفتاریاں الیکشن کمیشن سندھ کے دفتر کے باہر جاری جماعت اسلامی کی عوامی پریس کانفرنس کے دوران کی گئیں۔بعد ازاں الیکشن کمیشن سندھ کے دفتر کے باہر حراست میں لیے جانے والے جماعت اسلامی کے رہنماؤں اور کارکنان کو رہا کر دیا گیا۔ رہائی کے بعد کارکنان کی بڑی تعداد جماعت اسلامی کے مرکز ادارہ نور حق پہنچ گئی جہاں قائم مقام امیر جماعت اسلامی کراچی مسلم پرویز اور رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق نے ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔پولیس انتظامیہ نے کارروائی کے دوران عوامی پریس کانفرنس کا ٹینٹ، اسپیکر اور جنریٹر بھی ضبط کرلیا جبکہ الیکشن کمیشن سندھ کے اطراف واقع دکانیں اور ہوٹلز زبردستی بند کرا دیے گئے۔ پولیس نے عام شہریوں کو بھی حراست میں لینا شروع کر دیا۔گرفتار ہونے والوں میں امرائے اضلاع سفیان دلاور، مدثر حسین انصاری سمیت جماعت اسلامی کے کارکنان انس خان، ابتسام عبرت، عبد الحمید، خالد قریشی اور محمد امجد بھی شامل ہیں۔ پولیس نے الیکشن کمیشن سندھ کے دونوں اطراف کے راستے بند کرکے بھاری نفری تعینات کر دی۔اس موقع پر پولیس انتظامیہ اور جماعت اسلامی کے کارکنان آمنے سامنے آگئے جبکہ کارکنان کی جانب سے شدید نعرے بازی کی گئی۔ جماعت اسلامی کے ترجمان نے کہا کہ انتظامیہ نے جماعت اسلامی کو پرامن عوامی پریس کانفرنس سے روکنا جمہوری اقدار کے منافی ہے۔ترجمان جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ احتجاج ہمارا جمہوری حق ہے، جماعت اسلامی ایک پرامن اور جمہوری جماعت ہے، یہ کارروائی ریاستی جبر اور ریاستی دہشت گردی کا کھلا ثبوت ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ الیکشن کمیشن سندھ کے کالے کرتوت چھپانے کے لیے پریس کانفرنس کی اجازت نہیں دی گئی۔ترجمان نے واضح کیا کہ سندھ حکومت ریاستی طاقت کا جتنا چاہے استعمال کرلے، جماعت اسلامی ہر صورت 14 فروری کو سندھ اسمبلی کے باہر دھرنا دے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: الیکشن کمیشن سندھ کے جماعت اسلامی کے پریس کانفرنس سندھ اسمبلی کے باہر
پڑھیں:
کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
کراچی کے علاقے ڈیفنس میں زیادتی کا شکار غیر ملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
کراچی میں درخشاں تھانے کی حدود میں امریکی خاتون سے زیادتی کے مقدمے کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں ہوئی پولیس نے گرفتار ملزم جیسپر عرف آدی محمود کو عدالت میں پیش کیا۔
متاثرہ خاتون نے عدالت میں زیر دفعہ 164 کا بیان ریکارڈ کروایا، متاثرہ خاتون نے ملزم کو معاف کرنے کا بیان دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ میں ملوث ملزم آدی محمود کو گرفتار کرلیا ہے، ملزم تھانا درخشاں میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے صفائی کا کام کر رہا تھا۔
خاتون نے بیان میں کہا کہ پولیس افسر نے اس کا دستخط شدہ بیان جلادیا، پولیس افسر نے کہا کہ مقدمہ درج کروائیں ورنہ ہمارے لیے مشکل ہوجائے گی۔
متاثرہ خاتون نے کہا کہ ملزم کی زندگی خراب نہیں کرنا چاہتی۔
عدالت نے متاثرہ خاتون کا بیان کیس کا حصہ بنادیا جبکہ عدالت نے ملزم جیسپر کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
عدالت نے تفتیشی افسر کو ملزم کی عمر کے تعین سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔