سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی وکلا کی عمران خان سے فوری ملاقات کی استدعا مسترد کردی
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد میں سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی وکلا کی جانب سے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے فوری ملاقات کی استدعا مسترد کر دی۔
عدالت میں سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے وکیل رہنما لطیف کھوسہ نے عمران خان سے ملاقات کی اجازت دینے کی درخواست کی۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیے کہ بغیر نوٹس جاری کیے اس نوعیت کا کوئی حکم نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے درخواست کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق اعتراضات کی رکاوٹ کو عبور کرنا ہوگا اور یہ بات ذہن میں رکھی جائے کہ متعلقہ مقدمات دیگر عدالتوں میں زیر التوا ہیں۔
چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ عدالت قواعد و ضوابط کے تحت ہی آگے بڑھ سکتی ہے اور نوٹس کے بغیر ملاقات سے متعلق کوئی آرڈر ممکن نہیں۔ عدالت نے اس بنیاد پر پی ٹی آئی وکلا کی فوری ملاقات کی استدعا مسترد کر دی۔
علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کی درخواست ضمانت کو غیر مؤثر ہونے کی بنیاد پر خارج کر دیا، جس کے بعد اس معاملے میں بھی بانی پی ٹی آئی کو کوئی ریلیف نہ مل سکا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ملاقات کی پی ٹی آئی
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔