موڈیز نے پاکستان کے بینکاری شعبے کا آؤٹ لک مثبت سے مستحکم کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستان کے بینکاری شعبے کے آؤٹ لک کو مثبت سے مستحکم قرار دے دیا ہے۔
موڈیز کے مطابق یہ فیصلہ بتدریج معاشی بحالی، مالیاتی نظم و ضبط میں بہتری اور بیرونی کھاتوں کی صورتحال میں استحکام کے تناظر میں کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان معیشت کی بحالی اور ترقی کی راہ پر گامزن: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا ہارورڈ کانفرنس میں خطاب
پیر کو جاری بیان میں موڈیز نے کہا کہ پاکستان میں بینکاری شعبے کا آپریٹنگ ماحول آہستہ آہستہ بہتر ہو رہا ہے، جس کی بنیادی وجہ حکومتی اصلاحات ہیں جو اعتماد اور معاشی سرگرمیوں کو تقویت دے رہی ہیں۔
تاہم ایجنسی کے مطابق اثاثہ جاتی معیار اور منافع کے حوالے سے بعض چیلنجز بدستور موجود ہیں، اس کے باوجود آئندہ 12 سے 18 ماہ کے دوران بینکوں کی مجموعی مالی کارکردگی مستحکم رہنے کی توقع ہے۔
Moody's has revised Pakistan's banking sector outlook to stable, citing a gradual economic recovery amid ongoing challenges related to asset quality and profitability, with a forecasted GDP growth of 3.
— Investify Pakistan (@investifypk) February 9, 2026
موڈیز کا کہنا ہے کہ بینکاری شعبے کا آؤٹ لک حکومتِ پاکستان کے آؤٹ لک سے ہم آہنگ ہے، کیونکہ بینکوں کے اثاثوں کا تقریباً نصف حصہ حکومتی سیکیورٹیز پر مشتمل ہے۔
تاہم ایجنسی نے خبردار کیا کہ مالیاتی کمزوریوں اور بیرونی خطرات کے باعث پاکستان کے طویل المدتی قرضوں کی پائیداری اب بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔
موڈیز کے مطابق پاکستان میں حقیقی جی ڈی پی نمو 2026 میں بڑھ کر 3.5 فیصد رہنے کی توقع ہے، جو 2025 میں 3.1 فیصد تھی۔
مزید پڑھیں: روپے کی قدر میں مضبوطی، پاکستانی معیشت کو کیسے متاثر کر سکتی ہے؟
اسی طرح مہنگائی کی شرح 2024 میں 23 فیصد سے کم ہو کر 2025 میں 4.5 فیصد تک آ گئی، تاہم بیس ایفیکٹس کے باعث 2026 میں اس کے دوبارہ بڑھ کر 7.5 فیصد تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
ایجنسی کا کہنا ہے کہ مہنگائی میں کمی کے باعث پالیسی ریٹس میں نرمی آئی ہے، جس سے قرضوں کی طلب میں اضافہ متوقع ہے۔
اگرچہ شرح سود میں کمی کے بعد مارجنز پر دباؤ آیا، تاہم کاروباری حجم میں اضافہ، نان انٹرسٹ آمدن اور مستحکم اخراجات منافع اور سرمایہ جاتی بفرز کو سہارا دیں گے۔
مزید پڑھیں: کرپٹو مائننگ: پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کے لیے سنگ میل یا خطرناک تجربہ؟
موڈیز نے حالیہ سیلابوں کے باعث زرعی پیداوار پر دباؤ کا خدشہ ظاہر کیا، تاہم صنعتی اور خدمات کے شعبوں میں سرگرمیوں کے مستحکم رہنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2025 کے اوائل میں ایڈوانسز ٹو ڈیپازٹس ریشو ٹیکس کے خاتمے کے بعد قرضوں میں کمی کے باعث نان پرفارمنگ لونز میں اضافہ ہوا۔
ستمبر 2025 تک قرضے بینکاری اثاثوں کا 23 فیصد تھے، تاہم بہتر معاشی حالات کے باعث 2026 میں ڈبل ڈیجٹ کریڈٹ گروتھ کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کی معیشت اہم موڑ پر پہنچ چکی، ہم برآمدات پر مبنی ترقی کی جانب بڑھ رہے ہیں، وزیر خزانہ
موڈیز کا کہنا ہے کہ قرض لینے والوں کی نادہندگی، خصوصاً زراعت اور توانائی کے شعبوں میں، برقرار رہنے کا امکان ہے.
تاہم کم قرض لاگت کے باعث مسئلہ جاتی قرضوں کی شرح مجموعی طور پر 8 فیصد کے آس پاس مستحکم رہنے کی توقع ہے۔
ستمبر 2025 تک ٹائر ون اور مجموعی کیپیٹل ریشوز بالترتیب 18 فیصد اور 22.1 فیصد رہے، جو ریگولیٹری تقاضوں سے کہیں زیادہ ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آؤٹ لک اخراجات بینکاری توانائی زراعت شرح سود کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی کریڈٹ گروتھ مالی کارکردگی مستحکم معیشت مہنگائی موڈیز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آؤٹ لک اخراجات بینکاری توانائی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی مالی کارکردگی مہنگائی موڈیز بینکاری شعبے رہنے کی توقع پاکستان کے موڈیز نے کے مطابق ظاہر کی کے باعث توقع ہے آؤٹ لک
پڑھیں:
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
پشاور (نیوز ڈیسک) سرکاری ملازمین کے لیے بڑی خوشخبری آگئی، پنشن میں 7 فیصد اضافہ یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوگیا۔
تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت نے صوبائی سرکاری پنشنرز کے لیے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے نیٹ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
حکومتی اعلامیے میں کہا گیا کہ پنشن میں 7 فیصد اضافہ یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوگیا اور اس سے تمام صوبائی سرکاری پنشنرز مستفید ہو سکیں گے۔
محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں پنشن میں اضافے کے حوالے سے اہم نکات اور شرائط واضح کی گئی ہیں۔
جس میں کہا ہے کہ یہ 7 فیصد اضافہ 30 جون 2026 تک حاصل کردہ نیٹ پنشن کی بنیاد پر دیا جائے گا اور یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین بھی اس 7 فیصد اضافے کے حقدار ہوں گے۔
یہ اضافہ فیملی پنشن اور کمپیشنٹ الاؤنس کے کیسز پر بھی یکساں طور پر لاگو ہوگا۔
اس کے علاوہ بیرون ملک مقیم صوبائی حکومت کے اہل پنشنرز بھی مقررہ شرائط و ضوابط کے تحت اس اضافے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ 7 فیصد اضافہ پہلے سے ملنے والی کسی بھی “خصوصی اضافی پنشن” پر لاگو نہیں ہوگا۔
خیبرپختونخوا حکومت کے اس اقدام کو صوبے کے لاکھوں ریٹائرڈ ملازمین اور ان کے خاندانوں کے لیے موجودہ معاشی صورتحال میں ایک بڑا ریلیف قرار دیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں۔سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے