زیمبیا سے ڈی پورٹ کیے گئے 3 مسافر کراچی ایئرپورٹ پر گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
کراچی:
ایف آئی اے امیگریشن نے کراچی ایئرپورٹ پر کارروائی کرتے ہوئے مشکوک سفری منصوبے پر تین مسافروں کو حراست میں لے لیا۔
مسافر زیمبیا سے ایتھوپیا کے راستے پاکستان پہنچے تھے۔ حراست میں لیے گئے مسافروں میں مزمل علی، محمد ارسلان اور محمد اویس شامل ہیں۔ ابتدائی تفتیش میں مسافروں نے اعتراف کیا کہ وہ غیر قانونی طور پر جنوبی افریقہ جانے کی کوشش کر رہے تھے۔
مزمل علی نے گجرات کے ایجنٹ نوید کے ذریعے 18 لاکھ روپے کے عوض غیر قانونی سفری انتظامات کروائے، جبکہ محمد ارسلان اور محمد اویس نے ایجنٹ ندیم کو فی کس 3000 امریکی ڈالر ادا کیے۔
ابتدائی تفتیش کے مطابق مسافر ڈیڑھ ماہ تک تنزانیہ میں قیام کے بعد غیر قانونی طور پر زیمبیا داخل ہوئے اور بعد ازاں جنوبی افریقہ پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔
ذرائع کے مطابق زیمبیا حکام نے مسافروں کو غیر قانونی سفر پر گرفتار کر کے واپس ڈی پورٹ کیا۔ ایف آئی اے نے مسافروں کو مزید تحقیقات کے لیے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے فرار ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔اسپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا ہےکہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپا مارا تو ملزمان نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ایس آئی یو کا کہنا ہے کہ فائرنگ کےدوران ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا تھا جب کہ ملزمان بینک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں پولیس نے تفتیشی رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرائی تھی جس میں واردات میں نامعلوم خاتون کے ملوث ہونے کاانکشاف بھی کیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا تھا کہ کلفٹن تین تلوار کے قریب ڈکیتی واردات کے دوران ڈاکٹر آکاش کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے میں گرفتار ملزمان کے بینکوں کے باہر رقم چھیننے اور تاجر کو لوٹنے کے واقعات میں ملوث ہیں۔