پولیو مہم: کتنے بچے ویکسینیشن سے رہ گئے، وجوہات کیا تھیں؟
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
سال کی پہلی ملک گیر پولیو مہم کے دوران تقریباً 9 لاکھ 50 ہزار بچے پولیو کے قطرے پلانے سے محروم رہے جبکہ 53 ہزار خاندانوں نے ویکسین پلانے سے انکار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ بلوچستان نے انسدادِ پولیو مہم کا باضابطہ افتتاح کر دیا
ڈان کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ مہم زیادہ تر شہروں میں 5 فروری کو مکمل ہوئی جبکہ سندھ میں یہ 8 فروری تک جاری رہی۔
پولیو مہم کے دوران 4 کروڑ 43 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے جو پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی کوششوں میں ایک اہم سنگ میل ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق مجموعی طور پر 98 فیصد گھروں تک رسائی حاصل کی گئی تاہم 2 فیصد بچوں کا رہ جانا تشویشناک ہے جو تعداد کے لحاظ سے خاصی زیادہ بنتی ہے۔
بچے رہ جانے کی وجہ، مہمان بچوں نے فگر کور کروایارپورٹ کے مطابق ویکسین سے محروم رہنے والے بچوں میں سے 6 لاکھ 70 ہزار بچے اس وجہ سے رہ گئے کہ ویکسینیشن کے وقت وہ گھروں میں موجود نہیں تھے۔ تاہم مہم کے دوران 25 لاکھ مہمان بچوں کو بھی قطرے پلائے گئے جس سے ان بچوں کی ایک بڑی تعداد کور ہو گئی جو گھروں میں موجود نہیں تھے۔
پولیو پروگرام کے ایک عہدیدار کے مطابق سیکیورٹی خدشات، کمیونٹی بائیکاٹ اور برفباری کے باعث 2 لاکھ 33 ہزار بچے ویکسین سے محروم رہے۔
مزید پڑھیے: 2 فروری سے ملک بھر میں 7 روزہ انسدادِ پولیو مہم شروع، 4 کروڑ 50 لاکھ بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف
ان میں سے ایک لاکھ 84 ہزار بچے خیبر پختونخوا سے تھے جن میں جنوبی خیبر پختونخوا کے ایک لاکھ 13 ہزار بچے شامل ہیں۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی تقریباً 50 ہزار بچے شدید برفباری اور مہم نہ چلنے کے باعث ویکسین سے محروم رہے۔
بلوچستان میں سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر مستونگ، گوادر، چاغی اور آواران میں پولیو مہم ملتوی کی گئی۔ مجموعی طور پر ہدف بنائے گئے بچوں میں سے 0.
نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (ای او سی) کی جانب سے جاری بیان میں تمام متعلقہ اداروں اور شراکت داروں کے تعاون اور فعال شرکت پر شکریہ ادا کیا گیا۔
مزید پڑھیں: 2025 میں پاکستان میں پولیو کے کیسز میں نمایاں کمی
ای او سی کے مطابق پنجاب میں 2 کروڑ 29 لاکھ، سندھ میں ایک کروڑ 5 لاکھ، خیبر پختونخوا میں 71 لاکھ 30 ہزار اور بلوچستان میں 23 لاکھ 60 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے۔ اسلام آباد میں 4 لاکھ 55 ہزار، گلگت بلتستان میں تقریباً 2 لاکھ 61 ہزار اور آزاد کشمیر میں 6 لاکھ 73 ہزار بچوں کو ویکسین دی گئی۔
ای او سی نے مزید بتایا کہ 2026 کی پہلی ملک گیر پولیو مہم پاکستان اور افغانستان میں بیک وقت چلائی گئی جو دونوں ممالک کے درمیان سرحد پار تعاون کی مضبوط مثال ہے۔
سال 2025 میں کتنے پولیو کیسز سامنے آئے؟پاکستان پولیو پروگرام کے سربراہ انوارالحق نے کہا کہ ایک مثبت پیشرفت یہ ہے کہ 2025 میں پولیو کے صرف 31 کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ 2024 میں یہ تعداد 74 تھی۔
انہوں نے بتایا کہ پنجاب، پشاور اور بلوچستان میں اس وقت پولیو وائرس موجود نہیں تاہم سندھ اور جنوبی خیبر پختونخوا پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیے: چمن میں پولیو ٹیم پر دہشتگرد حملہ، پولیس اہلکار شہید
وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے پولیو، عائشہ رضا فاروق نے بتایا کہ مہم کے بعد آزادانہ جائزہ جاری ہے اور ایک ہفتے کے اندر نتائج مرتب کر کے تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ شیئر کیے جائیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان پولیو مہم پولیو مہم کتنے بچے پولیو ویکسین سے محروم
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان پولیو مہم پولیو مہم ویکسین سے محروم خیبر پختونخوا میں پولیو پولیو مہم ہزار بچے پولیو کے کے مطابق بچوں کو مہم کے
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔