نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز کے تحت نیٹ بلنگ کا نیا نظام متعارف
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک )نیپرا نے نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز 2026 کا نوٹیفکیشن جاری کردیا، نئی نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز کااطلاق بائیوگیس صارفین پر بھی ہوگا۔
نئی ریگولیشنز کے تحت نیٹ بلنگ کا نظام متعارف کروادیا گیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق نیٹ میٹرنگ صارفین سے نیشنل ایوریج انرجی پرائس کے مطابق بجلی خریدی جائے گی۔ نیٹ میٹرنگ صارفین کو موجودہ رائج ٹیرف کے حساب سے بجلی فراہم کی جائے گی۔
نیشنل گرڈ کو اضافی بجلی فراہمی پر صارفین کو سہ ماہی بنیادوں پرادائیگی کی جائے گی ۔ نیٹ میٹرنگ کے لیے معاہدے کی مدت پانچ سال تک محدود کردی گئی۔ معاہدہ ختم ہونے کے بعد مزید پانچ سال کی تجدید کی جائے گی۔
نئی ریگولیشنز کے بعد نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز 2015 معطل ہوجائیں گی۔ بلنگ سائیکل کے اختتام پر نئے نظام کے تحت بل جاری ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔