Jasarat News:
2026-07-24@05:18:25 GMT

شاخیں نہیں جڑ کاٹیے

اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

2026 شروع ہوئے ابھی صرف ایک مہینہ اور 9 دن ہی ہوئے ہیں اور اتنے مختصر عرصے میں کراچی کے پانچ بڑے اسپتالوں میں کتوں کے کاٹنے کے پانچ ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، کتوں کے کاٹنے سے ہونے والی بیماری ریبیز کے تین افراد شکار ہوئے جن میں سے دو جہاں بحق ہو گئے جبکہ ایک نوجوان زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے۔ بڑی تعداد میں بچوں کے دل میں کتوں کا ایسا خوف بیٹھ گیا ہے کہ وہ گھروں سے نکلتے ہوئے ڈرتے ہیں جو بچے باہر جاتے ہیں ان کے والدین اس وقت تک تشویش میں مبتلا رہتے ہیں جب تک وہ بخیریت گھر واپس نہیں آجاتے، فجر کی نماز پڑھنے کے لیے مسجد جانے والے شہری خاص طور پر کتوں کے ممکنہ حملے سے ڈرتے رہتے ہیں، پولیو ورکرز کو اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے گھر گھر جانا ہوتا ہے وہ بھی آوارہ کتوں کی بہتات سے ہراساں ہیں، قائد آباد میں پولیو ورکرز کی حفاظت پر مامور 21 سالہ پولیس اہلکار کو آوارہ کتے نے کاٹ لیا جس سے اسے گہرا زخم آیا، علاج کے لیے اسے اسپتال منتقل کیا گیا، اس سے قبل کورنگی میں خاتون پولیو رضاکار کو بھی آوارہ کتے نے کاٹ لیا تھا گزشتہ سال اکتوبر میں بھی ایک خاتون پولیو ورکر کو کتے نے کاٹ کھایا تھا۔

چیف سیکرٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی زیر صدارت ریبیز کنٹرول پروگرام سے متعلق اجلاس ہوا جس میں ریبیز کے علاج، سہولتوں کی دستیابی، عملے کی تربیت اور عوامی آگاہی کے بارے میں تفصیلی جائزہ لیا گیا آصف حیدر شاہ نے صوبے بھر میں 300 ریبیز سینٹرز کو ترقی دینے کا فیصلہ کیا، انہوں نے ہدایت کی کہ صوبے میں ہر 10 سے 15 کلومیٹر کے فاصلے پر ریبیز کے علاج کی سہولت دستیاب ہونی چاہیے تاکہ کتے کاٹے کے واقعہ کی صورت میں فوری طور پر طبی امداد دینا ممکن ہو سکے، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام ریبیز سینٹرز کو اینٹی ویکسین، ضروری ادویات اور تربیت یافتہ انسانی وسائل سے لیس کیا جائے گا، تمام ادویات اور ویکسین وافر مقدار میں خریدی جائیں گی تاکہ علاج میں کسی قسم کی رکاوٹ یا کمی نہ آسکے۔

حکومت کی جانب سے کیے جانے والے مذکورہ بالا تمام اقدامات قابل تحسین ہیں، یہ اقدامات ضرور کیے جانے چاہییں لیکن کیا یہ مناسب نہیں ہوگا کہ شاخیں کاٹنے کے ساتھ ساتھ مسئلے کی جڑ کاٹنے کا عمل بھی شروع کیا جائے جب سے پیپلز پارٹی کی حکومت برسر اقتدار آئی ہے کچھ با اثر خواتین کا کہنا ہے کہ کتوں کو مارنے سے ان کے حقوق متاثر ہوں گے، اس طبقے کے دباؤ کی وجہ سے کتوں کے حقوق پر اتنا زیادہ زور دیا جا رہا ہے کہ انسانوں کے لیے جینا مشکل ہو گیا ہے، آوارہ کتوں کے مارنے پر پابندی لگا دی گئی ہے، زور دیا جا رہا ہے کہ مارنے کے بجائے ویکسی نیشن کے ذریعے انہیں خصی کر دیا جائے برسوں گزر گئے ہیں کتوں کی تعداد کم ہونا تو کجا بہت زیادہ بڑھ گئی ہے، کتوں کو مارنے کی مہم نہیں چلائی جاتی، کسی کی مجال نہیں کہ آوارہ کتوں کی آوارگی میں خلل ڈال سکے، کوئی کتا کسی انسان کو کاٹتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ انسانوں کی طرح شرافت سے کٹوا لے البتہ حکومت کی طرف سے یہ یقین دہانی کرائی جاتی ہے کہ کتے کے کاٹنے کے بعد اسے علاج کی مکمل سہولت دی جائے گی۔

بھیا! پاکستان یورپ میں نہیں ایشیا میں واقع ہے، یہاں کے اپنے مسائل ہیں انہیں حل کرنے کے لیے ہمیں اپنی عقل سے ہی کام لینا ہوگا، یورپی ملکوں میں جو کچھ ہوتا ہے اس کی اندھا دھند نقالی سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ دو چار مرتبہ پورے صوبے میں بڑے پیمانے پر کتے مار مہم چلائی جائے جیسے پہلے چلائی جاتی تھی اس کے بعد جو کچھ کرنا ہے کر لیا جائے ارباب اختیار صرف اتنا سوچ لیں کہ اگر انہیں یا ان کے بچوں میں سے کسی کو کوئی کتا کاٹ لے تو ان کے دل پر کیا گزرے گی؟ کتے کے کاٹنے کے وقت کی دہشت، پھر اس کے انتہائی تکلیف دہ علاج کی اذیت کو خیال میں لایا جائے تو شاید حکومت اپنی حکمت عملی بدلنے پر مجبور ہو جائے ورنہ یہ تو یقینی ہے کہ آوارہ کتے خواص کو نہیں صرف عام لوگوں کو ہی کاٹتے ہیں۔

چیف سیکرٹری سندھ سے ہماری گزارش ہے کہ صوبے کی تمام یونین کونسلوں کو آوارہ کتے مارنے کی مہم چلانے کا پابند کیا جائے اور اس مقصد کے لیے انہیں مکمل وسائل فراہم کیے جائیں جو یقینا ان وسائل سے بہت کم ہوں گے جو کتے کے کاٹنے کے بعد علاج کے لیے درکار ہوتے ہیں۔ اسی طرح صوبے بھر میں مکھیوں اور مچھروں کے خاتمے کے لیے بھی مسلسل اقدامات ناگزیر ہیں، خاص موسم اور مواقع پر مہم چلانا بھی ضروری ہے لیکن یہ کام سال بھر جاری رہنا چاہیے کیونکہ مکھیوں اور مچھروں کی وجہ سے ایک دو نہیں بہت زیادہ بیماریاں جنم لیتی ہیں، لوگوں کو سخت تکلیف سے گزرنا پڑتا ہے، بہت بڑے پیمانے پر سرکاری اور غیر سرکاری وسائل ضائع ہوتے ہیں، اس سے کہیں بہتر ہے کہ صفائی ستھرائی کے

انتظامات پر زیادہ توجہ دی جائے، جہاں بھی سیوریج سسٹم خراب ہے وہاں فوری طور پر اسے ٹھیک کیا جائے، سیوریج سسٹم ٹھیک رہے گا تو سڑکیں بھی کم ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوں گی۔

اسی طرح ہر ممکن کوشش کی جائے کہ کچرا روز کے روز اٹھایا جائے، ہر گلی محلے میں کوڑے کرکٹ کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں، سارا ماحول خراب ہوتا ہے، بیماریاں پھیلتی ہیں کئی کئی روز بعد کچرا اٹھانے کی نوبت آتی، ہے عوام کو بھی آگاہ کیا جائے کہ وہ گلیوں میں کوڑا نہ پھینکیں، کراچی میں زیادہ آبادی فلیٹوں میں رہتی ہے، انہیں بڑا آسان لگتا ہے کہ گھر کا کچرا اٹھایا اور بالکونی یا کھڑکی سے باہر پھینک دیا لیکن اس آسانی کے بعد بیماریوں کی صورت میں جن مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے انہیں اس کا ادراک نہیں ہوتا اس آگہی مہم کے حوالے سے تمام ٹی وی چینلوں کو مختصر اور مؤثر پیغامات پر مبنی ویڈیوز چلانے کا پابند کیا جائے جب نجی چینل نہیں ہوتے تھے صرف پاکستان ٹیلی ویژن کی اجارہ داری تھی اس وقت ’’درست‘‘ اور ’’غلط‘‘ کے عنوان سے ایسی نشریات ہوتی تھیں اسی طرز کی مہم پھر شروع کی جائے، امید ہے کہ نجی ٹی وی چینل وسیع تر قومی مفاد میں یہ مہم مفت چلانے پر تیار ہو جائیں گے۔ بیماریوں کی روک تھام اور صحت مند معاشرے کے قیام کے لیے ایک انتہائی اہم شعبہ کھیلوں کا بھی ہے صوبے میں کھیلوں کے جتنے زیادہ میدان ہوں گے امید ہے اسپتالوں کی ضرورت اتنی ہی کم، اور ترقی کی رفتار تیز تر ہو جائے گی اس کی واضح دلیل یہ ہے کہ جو ممالک اولمپکس اور کھیلوں کے دیگر عالمی مقابلوں میں زیادہ میڈلز حاصل کرتے ہیں وہ سب کے سب ترقی یافتہ ممالک ہیں یعنی کھیل اور ذہنی و جسمانی صحت کا براہ راست تعلق ہے۔

احمد حسن سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے کاٹنے کے ا وارہ کتے کیا جائے کتوں کے کے بعد کے لیے

پڑھیں:

تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف