data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
2026 شروع ہوئے ابھی صرف ایک مہینہ اور 9 دن ہی ہوئے ہیں اور اتنے مختصر عرصے میں کراچی کے پانچ بڑے اسپتالوں میں کتوں کے کاٹنے کے پانچ ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، کتوں کے کاٹنے سے ہونے والی بیماری ریبیز کے تین افراد شکار ہوئے جن میں سے دو جہاں بحق ہو گئے جبکہ ایک نوجوان زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے۔ بڑی تعداد میں بچوں کے دل میں کتوں کا ایسا خوف بیٹھ گیا ہے کہ وہ گھروں سے نکلتے ہوئے ڈرتے ہیں جو بچے باہر جاتے ہیں ان کے والدین اس وقت تک تشویش میں مبتلا رہتے ہیں جب تک وہ بخیریت گھر واپس نہیں آجاتے، فجر کی نماز پڑھنے کے لیے مسجد جانے والے شہری خاص طور پر کتوں کے ممکنہ حملے سے ڈرتے رہتے ہیں، پولیو ورکرز کو اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے گھر گھر جانا ہوتا ہے وہ بھی آوارہ کتوں کی بہتات سے ہراساں ہیں، قائد آباد میں پولیو ورکرز کی حفاظت پر مامور 21 سالہ پولیس اہلکار کو آوارہ کتے نے کاٹ لیا جس سے اسے گہرا زخم آیا، علاج کے لیے اسے اسپتال منتقل کیا گیا، اس سے قبل کورنگی میں خاتون پولیو رضاکار کو بھی آوارہ کتے نے کاٹ لیا تھا گزشتہ سال اکتوبر میں بھی ایک خاتون پولیو ورکر کو کتے نے کاٹ کھایا تھا۔
چیف سیکرٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی زیر صدارت ریبیز کنٹرول پروگرام سے متعلق اجلاس ہوا جس میں ریبیز کے علاج، سہولتوں کی دستیابی، عملے کی تربیت اور عوامی آگاہی کے بارے میں تفصیلی جائزہ لیا گیا آصف حیدر شاہ نے صوبے بھر میں 300 ریبیز سینٹرز کو ترقی دینے کا فیصلہ کیا، انہوں نے ہدایت کی کہ صوبے میں ہر 10 سے 15 کلومیٹر کے فاصلے پر ریبیز کے علاج کی سہولت دستیاب ہونی چاہیے تاکہ کتے کاٹے کے واقعہ کی صورت میں فوری طور پر طبی امداد دینا ممکن ہو سکے، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام ریبیز سینٹرز کو اینٹی ویکسین، ضروری ادویات اور تربیت یافتہ انسانی وسائل سے لیس کیا جائے گا، تمام ادویات اور ویکسین وافر مقدار میں خریدی جائیں گی تاکہ علاج میں کسی قسم کی رکاوٹ یا کمی نہ آسکے۔
حکومت کی جانب سے کیے جانے والے مذکورہ بالا تمام اقدامات قابل تحسین ہیں، یہ اقدامات ضرور کیے جانے چاہییں لیکن کیا یہ مناسب نہیں ہوگا کہ شاخیں کاٹنے کے ساتھ ساتھ مسئلے کی جڑ کاٹنے کا عمل بھی شروع کیا جائے جب سے پیپلز پارٹی کی حکومت برسر اقتدار آئی ہے کچھ با اثر خواتین کا کہنا ہے کہ کتوں کو مارنے سے ان کے حقوق متاثر ہوں گے، اس طبقے کے دباؤ کی وجہ سے کتوں کے حقوق پر اتنا زیادہ زور دیا جا رہا ہے کہ انسانوں کے لیے جینا مشکل ہو گیا ہے، آوارہ کتوں کے مارنے پر پابندی لگا دی گئی ہے، زور دیا جا رہا ہے کہ مارنے کے بجائے ویکسی نیشن کے ذریعے انہیں خصی کر دیا جائے برسوں گزر گئے ہیں کتوں کی تعداد کم ہونا تو کجا بہت زیادہ بڑھ گئی ہے، کتوں کو مارنے کی مہم نہیں چلائی جاتی، کسی کی مجال نہیں کہ آوارہ کتوں کی آوارگی میں خلل ڈال سکے، کوئی کتا کسی انسان کو کاٹتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ انسانوں کی طرح شرافت سے کٹوا لے البتہ حکومت کی طرف سے یہ یقین دہانی کرائی جاتی ہے کہ کتے کے کاٹنے کے بعد اسے علاج کی مکمل سہولت دی جائے گی۔
بھیا! پاکستان یورپ میں نہیں ایشیا میں واقع ہے، یہاں کے اپنے مسائل ہیں انہیں حل کرنے کے لیے ہمیں اپنی عقل سے ہی کام لینا ہوگا، یورپی ملکوں میں جو کچھ ہوتا ہے اس کی اندھا دھند نقالی سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ دو چار مرتبہ پورے صوبے میں بڑے پیمانے پر کتے مار مہم چلائی جائے جیسے پہلے چلائی جاتی تھی اس کے بعد جو کچھ کرنا ہے کر لیا جائے ارباب اختیار صرف اتنا سوچ لیں کہ اگر انہیں یا ان کے بچوں میں سے کسی کو کوئی کتا کاٹ لے تو ان کے دل پر کیا گزرے گی؟ کتے کے کاٹنے کے وقت کی دہشت، پھر اس کے انتہائی تکلیف دہ علاج کی اذیت کو خیال میں لایا جائے تو شاید حکومت اپنی حکمت عملی بدلنے پر مجبور ہو جائے ورنہ یہ تو یقینی ہے کہ آوارہ کتے خواص کو نہیں صرف عام لوگوں کو ہی کاٹتے ہیں۔
چیف سیکرٹری سندھ سے ہماری گزارش ہے کہ صوبے کی تمام یونین کونسلوں کو آوارہ کتے مارنے کی مہم چلانے کا پابند کیا جائے اور اس مقصد کے لیے انہیں مکمل وسائل فراہم کیے جائیں جو یقینا ان وسائل سے بہت کم ہوں گے جو کتے کے کاٹنے کے بعد علاج کے لیے درکار ہوتے ہیں۔ اسی طرح صوبے بھر میں مکھیوں اور مچھروں کے خاتمے کے لیے بھی مسلسل اقدامات ناگزیر ہیں، خاص موسم اور مواقع پر مہم چلانا بھی ضروری ہے لیکن یہ کام سال بھر جاری رہنا چاہیے کیونکہ مکھیوں اور مچھروں کی وجہ سے ایک دو نہیں بہت زیادہ بیماریاں جنم لیتی ہیں، لوگوں کو سخت تکلیف سے گزرنا پڑتا ہے، بہت بڑے پیمانے پر سرکاری اور غیر سرکاری وسائل ضائع ہوتے ہیں، اس سے کہیں بہتر ہے کہ صفائی ستھرائی کے
انتظامات پر زیادہ توجہ دی جائے، جہاں بھی سیوریج سسٹم خراب ہے وہاں فوری طور پر اسے ٹھیک کیا جائے، سیوریج سسٹم ٹھیک رہے گا تو سڑکیں بھی کم ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوں گی۔
اسی طرح ہر ممکن کوشش کی جائے کہ کچرا روز کے روز اٹھایا جائے، ہر گلی محلے میں کوڑے کرکٹ کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں، سارا ماحول خراب ہوتا ہے، بیماریاں پھیلتی ہیں کئی کئی روز بعد کچرا اٹھانے کی نوبت آتی، ہے عوام کو بھی آگاہ کیا جائے کہ وہ گلیوں میں کوڑا نہ پھینکیں، کراچی میں زیادہ آبادی فلیٹوں میں رہتی ہے، انہیں بڑا آسان لگتا ہے کہ گھر کا کچرا اٹھایا اور بالکونی یا کھڑکی سے باہر پھینک دیا لیکن اس آسانی کے بعد بیماریوں کی صورت میں جن مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے انہیں اس کا ادراک نہیں ہوتا اس آگہی مہم کے حوالے سے تمام ٹی وی چینلوں کو مختصر اور مؤثر پیغامات پر مبنی ویڈیوز چلانے کا پابند کیا جائے جب نجی چینل نہیں ہوتے تھے صرف پاکستان ٹیلی ویژن کی اجارہ داری تھی اس وقت ’’درست‘‘ اور ’’غلط‘‘ کے عنوان سے ایسی نشریات ہوتی تھیں اسی طرز کی مہم پھر شروع کی جائے، امید ہے کہ نجی ٹی وی چینل وسیع تر قومی مفاد میں یہ مہم مفت چلانے پر تیار ہو جائیں گے۔ بیماریوں کی روک تھام اور صحت مند معاشرے کے قیام کے لیے ایک انتہائی اہم شعبہ کھیلوں کا بھی ہے صوبے میں کھیلوں کے جتنے زیادہ میدان ہوں گے امید ہے اسپتالوں کی ضرورت اتنی ہی کم، اور ترقی کی رفتار تیز تر ہو جائے گی اس کی واضح دلیل یہ ہے کہ جو ممالک اولمپکس اور کھیلوں کے دیگر عالمی مقابلوں میں زیادہ میڈلز حاصل کرتے ہیں وہ سب کے سب ترقی یافتہ ممالک ہیں یعنی کھیل اور ذہنی و جسمانی صحت کا براہ راست تعلق ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے کاٹنے کے ا وارہ کتے کیا جائے کتوں کے کے بعد کے لیے
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کو متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا ووٹ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کسی قسم کی مداخلت یا دباؤ جمہوری اقدار کے منافی ہوگا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ صرف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے ہو کر گزرتا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی روایت نے ماضی میں پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے دوچار کیا، اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے فیصلے کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں عوام نے اپنا واضح فیصلہ دیا تھا، تاہم عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔
حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے مساوی اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے دباؤ، جانبداری اور غیر ضروری مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ عوام اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں گے، عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے انتخابات میں عوامی حمایت کے ساتھ بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی ممکن نہیں، لہذا تمام متعلقہ حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کا ہر صورت احترام کیا جائے۔