data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ حضرت لال شہباز قلندر کے عرس کی اختتامی تقریب میں شرکت کے لیے سہون پہنچے جہاں انہوںنے فاتحہ خوانی کی، اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہاکہ اسلام آباد میں پیش آنے والے واقعے کے باعث سیکورٹی خطرات تھے، جس کے پیش نظر سخت سیکورٹی انتظامات کیے گئے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ان انتظامات کی وجہ سے زائرین کو ممکنہ تکلیف کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر سال میلے کے انتظامات کو بہتر بنانے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس بار انتظامات مناسب تھے، اگر کوئی کوتاہی ہوئی ہے تو اس سے سیکھا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ انہیں اطلاعات ہیں کہ تین روز کے دوران تقریباً 30 لاکھ زائرین نے عرس میں شرکت کی۔ ان کے مطابق زائرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر مستقبل میں مزید بہتر انتظامات کرنے کی ضرورت ہوگی۔وزیر اعلیٰ نے نشاندہی کی کہ رمضان المبارک کے مواقع پر دکاندار اشیاء کی قیمتیں بڑھا دیتے ہیں، جبکہ دنیا بھر میں مذہبی تہواروں کے موقع پر قیمتیں کم ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بار بہتر حکمت عملی اپناتے ہوئے گندم اور آٹے کی قیمتوں پر کنٹرول رکھا گیا۔انہوں نے کہا کہ جوڈیشل انکوائری کے لیے کہا گیا ہے اور ماورائے عدالت قتل کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت ہر دور میں صحافیوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتی رہی ہے، تاہم صحافیوں کو بھی اپنی اخلاقیات کا خیال رکھنا چاہیے سہون شریف کی ترقی کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ نرسنگ اسکول بنایا جا رہا ہے اور ووکیشنل ٹریننگ کا پروگرام ترتیب دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ نوجوانوں کو ہنر سکھائے بغیر روزگار کے مواقع پیدا نہیں کیے جا سکتے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے کرپشن کے خلاف سخت اقدامات کیے ہیں اور لوگوں کو نوکریوں سے برطرف کیا ہے ۔اس موقع پر صوبائی وزیر اوقاف سید ریاض حسین شاہ شیرازی، صوبائی وزیر ٹقافت سید ذوالفقار علی شاھ پاکستان پیپلزپارٹی ضلع جامشورو کے صدر سید آصف علی شاہ، ڈویژنل کمشنر حیدرآباد فیاض حسین عباسی،ڈی آئی جی حیدرآباد طارق رزاق دھاریجو، ڈپٹی کمشنر جامشورو غضنفر علی قادری، ایس ایس پی جامشورو محمد ظفر صدیق چھانگا، چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف مختیار علی ابڑو، سہون میونسپل کمیٹی کے چیئرمین سید شہزاد حیدر شاہ و دیگر بھی ان کے ساتھ تھے۔ قبل ازیں وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو وزیر اوقاف نے سندھی اجرک اور ٹوپی کا تحفہ پیش کیا جبکہ ڈپٹی کمشنر جامشورو غضنفر علی قادری نے یادگار شیلڈ پیش کی۔ بعد ازاں وزیر اعلیٰ سندھ نے مزار کے احاطے میں قائم طبی کیمپ کا دورہ کیا اور خواتین میں کپڑے تقسیم کیے۔

اسٹاف رپورٹر سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مراد علی شاہ وزیر اعلی انہوں نے نے کہا

پڑھیں:

حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔

یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔

عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔

حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔

مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ

متعلقہ مضامین

  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان