جی بی میں پاور منصوبوں کی عدم تکیمل پر ایچ ایم سی اور ایف ڈبلیو او کو شوکاز نوٹس
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
گلگت بلتستان چیف کورٹ نے ہنزل 20 میگاواٹ اور نلتر 16 میگاواٹ منصوبوں کی عدم تکمیل سے متعلق مقدمہ سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے متعلقہ ٹھیکیدار کمپنیوں کو شوکاز نوٹس جاری کر دیئے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ گلگت بلتستان چیف کورٹ نے ہنزل 20 میگاواٹ اور نلتر 16 میگاواٹ منصوبوں کی عدم تکمیل سے متعلق مقدمہ سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے متعلقہ ٹھیکیدار کمپنیوں کو شوکاز نوٹس جاری کر دیئے ہیں۔ عدالت نے ہدایت کی ہے کہ آئندہ سماعت پر تحریری جواب کے ساتھ پیش ہوں، بصورتِ دیگر عدم حاضری کی صورت میں مذکورہ کمپنیوں کی بولی, سیکیورٹی اور پرفارمنس گارنٹی ضبط کرنے اور معاہدہ منسوخ کرنے کی سزا عائد کی جائے گی۔ عدالت کے مختصر حکم کے مطابق، ڈیوٹی جج جسٹس مشتاق محمد نے مقدمے کی سماعت کے دوران ٹھیکیدار کمپنیاں CNEEC-FWO JV اور HMC کو فریق بناتے ہوئے درخواست میں شامل کر لیا ہے۔ عدالت نے حکم دیا کہ مذکورہ دونوں ٹھیکیدار کمپنیوں کو شوکاز نوٹس کے ہمراہ درخواست کی نقول ارسال کی جائیں۔عدالت نے ڈپٹی سیکریٹری غلام محمد کو ہدایت کر دی کہ وہ صوبائی حکومت اور نومل، ہراموش، بگروٹ، پڈی بنگلہ، کارگاہ اور باسین کے علاقوں کے درمیان مبینہ طور پر طے پانے والے معاہدوں کی نقول عدالت میں جمع کرائیں، جو بجلی کی پیداوار پر ان کے سابقہ حق سے متعلق ہیں۔ مزید کہ درخواست کی نقول حاضر فریقین کو فراہم کی جائیں اور انہیں ہدایت کی جائے کہ وہ پیرا وار (نکتہ وار) جوابات جمع کرائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کو شوکاز نوٹس
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔