data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد:جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے حکومتی اتحادیوں کی جانب سے کی جانے والی حالیہ قانون سازی پر شدید ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف بنایا گیا تو وہ نہ اسے مانیں گے اور نہ ہی اس کی پیروی کریں گے، سیاست اب شریف لوگوں کا کام نہیں رہی حالانکہ سیاست دراصل انبیا کی وراثت اور ان کا فریضہ ہے۔

اسلام آباد میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جیل جانا یا پھانسی چڑھنا کوئی بڑی بات نہیں، اگر اس سے آگے بھی کوئی سزا دی گئی تو اسے بھی قبول کریں گے، ہمارا مؤقف بالکل واضح ہے کہ خالقِ کائنات کی نافرمانی پر مبنی کسی قانون کی اطاعت جائز نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے عام مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایسے قوانین کی پیروی نہ کریں جو قرآن و سنت کے منافی ہوں۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام کی تاریخ گواہ ہے کہ اس جماعت میں مسلکی امتیاز کے بغیر پورے برصغیر سے علما کرام کو اکٹھا کیا گیا، جے یو آئی نے خلافت اور آزادی کی تحریکیں چلائیں اور ہمیشہ اسلامی اقدار کے تحفظ کے لیے جدوجہد کی۔

انہوں نے موجودہ سیاسی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سیاست کا مفہوم اب یہ رہ گیا ہے کہ کسی طرح دھاندلی کے ذریعے اقتدار تک پہنچ جایا جائے،دھاندلی سے کرسی حاصل کرنے والوں کو آج کامیاب سیاست دان کہا جاتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سیاست شریف لوگوں کا کام نہیں رہی حالانکہ سیاست انبیا کی وراثت ہے اور انبیا ہی نے انسانیت کو سیاست کا صحیح مفہوم سمجھایا۔

جے یو آئی کے سربراہ نے کہا کہ انہیں اکثر کہا جاتا ہے کہ مولانا صاحب آپ شریف آدمی ہیں، آپ سیاست کیوں کر رہے ہیں، حالانکہ سیاست قومی اور ملی زندگی کی تدبیر کا نام ہے، سیاست ایک کھلا میدان ہے اور حضور اکرم ﷺ نے بھی سیاست اور اجتماعی نظم کا تذکرہ فرمایا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ علما کرام انبیا کے وارث ہیں اور جس طرح منبرِ رسول ﷺ پر علما کے علاوہ کوئی کھڑا نہیں ہو سکتا، اسی طرح مسندِ سیاست پر بھی علما ہی زیادہ حق رکھتے ہیں، ہمارے ہاں الیکشن میں ٹکٹ نہ ملے تو لوگ جماعت چھوڑ دیتے ہیں، جبکہ قرآن کریم مخلص کارکن کا ذکر کرتا ہے اور مفاد پرست رویوں کی مذمت کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاست دان دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ نماز پڑھتے ہیں، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ وہ ملک کو کون سا نظام اور قانون دے رہے ہیں۔ ہمیں کسی کے نماز روزے پر اعتراض نہیں، اعتراض اس نظام پر ہے جو قرآن و سنت سے متصادم ہو۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پارلیمنٹ میں اکثریت کے زور پر ایسے قوانین پاس کیے جاتے ہیں جو قرآن و سنت کے خلاف ہوتے ہیں، اور پھر کہا جاتا ہے کہ فضل الرحمان نے قانون کو چیلنج کیا ہے، وہ کوئی قانون ذاتی حیثیت میں نہیں مانتے یا مسترد کرتے، بلکہ جس قانون میں اللہ کی نافرمانی ہو، اس کی اطاعت ممکن نہیں۔

انہوں نے آخر میں کہا کہ آئینِ پاکستان کا بھی تقاضا ہے کہ قرآن و سنت کے خلاف قانون سازی نہ کی جائے۔ ہم قرآن و سنت کی بالادستی کے لیے ہر سزا خندہ پیشانی سے قبول کریں گے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: قرآن و سنت کے خلاف فضل الرحمان نے مولانا فضل نے کہا کہ انہوں نے کہ سیاست

پڑھیں:

نتیجہ خیز آپریشن شعبان!

پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔

پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔

گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔

گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟

پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔

 بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔

سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن