قرآن و سنت کے خلاف قانون سازی قبول نہیں، ہر سزا کے لیے تیار ہیں، مولانا فضل الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد:جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے حکومتی اتحادیوں کی جانب سے کی جانے والی حالیہ قانون سازی پر شدید ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف بنایا گیا تو وہ نہ اسے مانیں گے اور نہ ہی اس کی پیروی کریں گے، سیاست اب شریف لوگوں کا کام نہیں رہی حالانکہ سیاست دراصل انبیا کی وراثت اور ان کا فریضہ ہے۔
اسلام آباد میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جیل جانا یا پھانسی چڑھنا کوئی بڑی بات نہیں، اگر اس سے آگے بھی کوئی سزا دی گئی تو اسے بھی قبول کریں گے، ہمارا مؤقف بالکل واضح ہے کہ خالقِ کائنات کی نافرمانی پر مبنی کسی قانون کی اطاعت جائز نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے عام مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایسے قوانین کی پیروی نہ کریں جو قرآن و سنت کے منافی ہوں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام کی تاریخ گواہ ہے کہ اس جماعت میں مسلکی امتیاز کے بغیر پورے برصغیر سے علما کرام کو اکٹھا کیا گیا، جے یو آئی نے خلافت اور آزادی کی تحریکیں چلائیں اور ہمیشہ اسلامی اقدار کے تحفظ کے لیے جدوجہد کی۔
انہوں نے موجودہ سیاسی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سیاست کا مفہوم اب یہ رہ گیا ہے کہ کسی طرح دھاندلی کے ذریعے اقتدار تک پہنچ جایا جائے،دھاندلی سے کرسی حاصل کرنے والوں کو آج کامیاب سیاست دان کہا جاتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سیاست شریف لوگوں کا کام نہیں رہی حالانکہ سیاست انبیا کی وراثت ہے اور انبیا ہی نے انسانیت کو سیاست کا صحیح مفہوم سمجھایا۔
جے یو آئی کے سربراہ نے کہا کہ انہیں اکثر کہا جاتا ہے کہ مولانا صاحب آپ شریف آدمی ہیں، آپ سیاست کیوں کر رہے ہیں، حالانکہ سیاست قومی اور ملی زندگی کی تدبیر کا نام ہے، سیاست ایک کھلا میدان ہے اور حضور اکرم ﷺ نے بھی سیاست اور اجتماعی نظم کا تذکرہ فرمایا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ علما کرام انبیا کے وارث ہیں اور جس طرح منبرِ رسول ﷺ پر علما کے علاوہ کوئی کھڑا نہیں ہو سکتا، اسی طرح مسندِ سیاست پر بھی علما ہی زیادہ حق رکھتے ہیں، ہمارے ہاں الیکشن میں ٹکٹ نہ ملے تو لوگ جماعت چھوڑ دیتے ہیں، جبکہ قرآن کریم مخلص کارکن کا ذکر کرتا ہے اور مفاد پرست رویوں کی مذمت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاست دان دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ نماز پڑھتے ہیں، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ وہ ملک کو کون سا نظام اور قانون دے رہے ہیں۔ ہمیں کسی کے نماز روزے پر اعتراض نہیں، اعتراض اس نظام پر ہے جو قرآن و سنت سے متصادم ہو۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پارلیمنٹ میں اکثریت کے زور پر ایسے قوانین پاس کیے جاتے ہیں جو قرآن و سنت کے خلاف ہوتے ہیں، اور پھر کہا جاتا ہے کہ فضل الرحمان نے قانون کو چیلنج کیا ہے، وہ کوئی قانون ذاتی حیثیت میں نہیں مانتے یا مسترد کرتے، بلکہ جس قانون میں اللہ کی نافرمانی ہو، اس کی اطاعت ممکن نہیں۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ آئینِ پاکستان کا بھی تقاضا ہے کہ قرآن و سنت کے خلاف قانون سازی نہ کی جائے۔ ہم قرآن و سنت کی بالادستی کے لیے ہر سزا خندہ پیشانی سے قبول کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: قرآن و سنت کے خلاف فضل الرحمان نے مولانا فضل نے کہا کہ انہوں نے کہ سیاست
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔