ٹی ٹی پی کو افغانستان میں زیادہ آزادی اور سہولت ملی
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260211-01-7
اسلام آباد ( نمائندہ جسارت)ٹی ٹی پی کو افغانستان میں آزادی کے باعث پاکستان میں کشیدگی میں اضافہ ہوا، اقوام متحدہ کی رپورٹ نے افغان طالبان کا بیانیہ خاک میں ملا دیا۔سیکورٹی کونسل رپورٹ کے مطابق اقوامِ متحدہ کی نگرانی ٹیم کے مطابق افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی خطے کیلیے تشویشناک ہے اور افغانستان سے پاکستان پر حملوں میں اضافہ ہوا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ افغان حکام کا یہ دعویٰ کہ افغانستان میں کوئی دہشت گرد گروہ موجود نہیں، کسی رکن ملک نے تسلیم نہیں کیا، ٹی ٹی پی کو افغانستان میں زیادہ آزادی اور سہولت ملی جس کے نتیجے میں پاکستان کے خلاف حملے بڑھے اور کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ داعش خراسان شمالی افغانستان اور پاکستان کی سرحد کے قریب فعال ہے اور قابل ذکر صلاحیت رکھتی ہے، افغانستان میں چھوڑے گئے امریکی / نیٹو ہتھیاروں کے ذخائر نے پاکستان میں ٹی ٹی پی حملوں کی مہلکیت بڑھا دی، ٹی ٹی پی نے جدید ہتھیار، رات میں دیکھنے والے آلات اور ڈرون نظام استعمال کیے۔ سیکورٹی کونسل رپورٹ میں یہ بھی لکھا گیا کہ القاعدہ کو افغانستان میں سرپرستی حاصل رہی اور اس نے بالخصوص ٹی ٹی پی کو تربیت اور مشاورت فراہم کی،القاعدہ برصغیر کی قیادت کے کابل میں موجود ہونے کی اطلاعات ہیں اور بیرونی کارروائیوں کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کو افغانستان میں ٹی ٹی پی کو
پڑھیں:
آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
تصویر سوشل میڈیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے۔
وزیراعظم کی زیرِ صدارت آئی ٹی کے شعبے کی اسٹریٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ اجلاس ہوا۔
اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
شہباز شریف نے ہدایت کی کہ آئی ٹی کے شعبے کے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
اعلامیہ کے مطابق انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔
اجلاس کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025 میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی۔
وزیراعظم کو ’’کنیکٹ پاکستان وژن 2030‘‘ کے اجراء کی تیاریوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا۔
بریفنگ کے مطابق جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دیے گئے۔