2018 اور 24 کے انتخابات میں طاقتور حلقوں کی مداخلت سے حکومتیں بنیں‘ حافظ نعیم الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور(نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ 2018 اور 2024 کے انتخابات میں طاقتور حلقوں کی مداخلت سے حکومتیں بنیں۔ حکمران جان لیں کہ فارم 47 سے اقتدار پر براجماں ہوکر عوام کے دل نہیں جیتے جاسکتے۔ جماعت اسلامی ملک میں بہتری کے لیے جدوجہد کو مزید تیز کرے گی۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان سے آئین کی بالادستی کے معاملے پر تعاون کریں گے ، کسی کو کندھا فراہم کیا جائے گا نہ اتحاد کا حصہ بنیں گے۔جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کے منصورہ میں ہونے والے اجلاس سے اختتامی خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ بلوچستان کے حالات انتہائی پریشان کن ہیں۔ حکمران ایسی پالیسیاں تشکیل دیں جن سے دہشت گردی کے کارخانوں میں اضافے کے بجائے کمی ہو۔ مجلس شوریٰ اجلاس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، امن عامہ، معیشت ، عالمی حالات اور دیگر داخلی امور سے متعلق معاملات زیربحث آئے۔ شرکا شوریٰ نے ملک کی خارجہ پالیسی، مسئلہ فلسطین و کشمیر پر گفتگو کی۔ مجلس شوریٰ میں تنظیمی معاملات ، بدل دو نظام تحریک پر بھی گفتگو ہوئی۔ مجلس شوریٰ نے داخلی اور عالمی معاملات پر مختلف قراردادوں کی بھی متفقہ منظوری دی۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ چاروں صوبوں کے عوام مسائل کی چکی میں پس رہے ہیں، معیشت بہتر ہوئی ہے اور نہ ہی امن قائم ہوا ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے عوام دہشت گردی کے نرغے میں ہیں، سندھ میں ڈاکو راج ہے ، کراچی مسائل کا گڑھ بن گیا ہے ، پنجاب کی صورتحال بھی سب کے سامنے ہے ، صوبہ پولیس اسٹیٹ بن گیا ہے، وزیراعلیٰ پنجاب کی بہتری کے دعوے اشتہارات کی حد تک ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ پنجاب میں گورننس بہتر ہے توا سکولوں کو کیوں فروخت کیا جارہا ہے، پنجاب کا کسان سب سے زیادہ پریشان کیوں ہے؟۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ معاشرے میں تبدیلی کے لیے ہمیں اپنی کوششیں تیز کرنا ہوںگی، ہمیں عام آدمی کی توجہ کا مرکز بننا ہوگا، جو مسائل کے حل کے لیے آپ کی طرف دیکھے۔ انہوں نے جماعت اسلامی کے قائدین و کارکنان کو پیغام دیا کہ وہ عوامی مسائل کے حل کے لیے کوششیں کریں۔ حافظ نعیم الرحمن نے عوامی کمیٹیوں کی تشکیل کو سراہا اور ان میں مزید اضافہ کرنے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی انتخابی اتحاد کی سیاست نہیں کرے گی، ماضی کے تجربات نے ثابت کیا ہے کہ جماعت اسلامی کو اتحادی سیاست کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ ہم زمینی حقائق کو مدنظر رکھ اپنی پالیسیاں بنائیں گے۔ کسی کے دباؤ میں کبھی نہیں آئیں گے۔ ہم مسلکی الجھنوں کا شکار ہوںگے نہ فروعیات میں پڑیں گے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ نوجوانوں اور خواتین کے حقوق کے لیے کاوشیں جاری رہیں گی۔ انہوں نے معاشرے میں منشیات کے پھیلتے زہر پر تشویش کا اظہار کیا اور کارکنوں کو ہدایات دیں کہ اس ناسور کو ختم کرنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کردیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے اہل ِ فلسطین و کشمیر کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کے عہد کا اعادہ کیا اور حکمرانوں کو متنبہ کیا کہ وہ عوامی خواہشات کے بر خلاف اقدامات سے گریز کریں۔
لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن منصورہ میں مرکزی مجلس شوریٰ کے اختتامی اجلاس سے خطاب کررہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمن نے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
پاکستان سمیت 8 عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ اور الحرم الشریف میں اسرائیلی اشتعال انگیز اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل سے فوری طور پر ان اقدامات کو روکنے اور عالمی برادری سے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ (الحرم الشریف) میں اسرائیل کی حالیہ اشتعال انگیزی اور کشیدگی میں اضافے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں انتہا پسند اسرائیلی وزراء کی قیادت میں یہودی آبادکاروں کی مسلسل اجتماعی دراندازی، مسجد اقصیٰ کے صحن میں اسرائیلی پرچم لہرانا، اسرائیلی پولیس کی جانب سے دو خیمے نصب کرنا اور دیگر اشتعال انگیز اقدامات نہایت خطرناک اور ناقابل قبول ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی انتہا پسند وزراء اور گروہوں کی جانب سے اشتعال انگیزی، مسجد اقصیٰ میں دراندازی پر اکسانے اور تشدد پر مبنی بیانات کی بھی شدید مذمت کی۔ اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ ایسے اقدامات نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور پائیدار امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یروشلم کے قدیم شہر اور اس کے مذہبی مقامات تک رسائی پر پابندیاں، خصوصاً مسلمانوں اور دیگر عبادت گزاروں کے ساتھ امتیازی سلوک، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدامات مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ایک غیرقانونی کوشش ہیں۔
وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ یروشلم یا وہاں موجود اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل بطور قابض طاقت مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے منظم اقدامات کر رہا ہے، جو اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے تقدس اور حیثیت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔
آٹھوں ممالک نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اس حیثیت کے تحفظ پر زور دیا۔ اعلامیے میں مقدس مقامات کی نگرانی کے حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا گیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35 ایکڑ) رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ مزید کہا گیا کہ اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور کے ماتحت یروشلم اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور کا محکمہ ہی وہ واحد قانونی ادارہ ہے جو مسجد اقصیٰ کے انتظام و انصرام اور وہاں داخلے کے معاملات کا مجاز ہے۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بطور قابض طاقت فوری طور پر یروشلم کے قدیم شہر میں عائد تمام پابندیاں ختم کرے، مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کی عبادت میں رکاوٹ ڈالنے سے باز آئے اور مقدس مقامات کے تقدس کا احترام کرے۔
مشترکہ اعلامیے میں عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کو یروشلم میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے خلاف جاری غیرقانونی اقدامات اور خلاف ورزیوں سے باز رکھنے کے لیے واضح، مضبوط اور مؤثر موقف اختیار کرے، تاکہ مقدس مقامات کی حرمت اور تاریخی حیثیت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں