Jasarat News:
2026-07-24@05:13:38 GMT

شریف خاندان: کوئی ایوان اقتدار سے باہر رہ نہ جائے!

اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260211-03-3
اخباری اطلاعات کے مطابق ملک کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار کے بڑے صاحبزادے اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کے داماد، علی مصطفی ڈار باقاعدہ طور پر سیاست میں داخل ہو گئے ہیں۔ انہیں پنجاب میں صوبائی وزیر کا درجہ دے دیا گیا ہے، جس کے تحت وہ صوبائی اسمبلی میں بیٹھنے اور ایوان کی کارروائی میں حصہ لینے کا اختیار رکھیں گے۔ علی مصطفی ڈار، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی چھوٹی اور اکلوتی بہن عاصمہ کے شوہر ہیں، جو دبئی میں مقیم ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے علی ڈار کو ’مصنوعی ذہانت‘ اور ’خصوصی اقدامات کا مشیر مقرر کیا ہے‘ اور اس مقصد کے لیے ایک نیا محکمہ بھی قائم کیا گیا ہے جس کا مقصد صوبے میں جدت پسندی، ٹیکنالوجی کا فروغ اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے وابستہ منصوبے ہوں گے۔ یہ تقرر فوری طور پر نافذ العمل ہے، اپنے نئے کردار میں علی ڈار مستقبل کے ایسے منصوبوں کی تیاری اور نفاذ پر توجہ مرکوز کریں گے جن کا مقصد گورننس میں بہتری، روز گار کے مواقع پیدا کرنا اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور AI کے ذریعے عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانا ہے۔ ایچی سن کالج لاہور سے ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ سن 2000ء میں اعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ چلے گئے تھے۔ بین الاقوامی سطح پر دو دہائیوں سے زائد کام کرنے کے بعد، علی ڈار 2024ء کے انتخابات میں ن لیگ کی کامیابی کے بعد سے پاکستان کے لیے رضاکارانہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ پردے کے پیچھے ان کے کردار میں اعلیٰ سطح کی بین الاقوامی ملاقاتوں میں سہولت کاری اور ٹیک ورئیل اسٹیٹ کے شعبوں سے تعلق رکھنے والی اہم کاروباری شخصیات کو پاکستان کا دورہ کرنے اور سرمایہ کاری کرنے پر آمادہ کرنا شامل ہے۔ شریف خاندان کے موجودہ سربراہ میاں محمد نواز شریف تین بار ملک کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔ با اختیار اور فیصلہ ساز قوتوں کے عدم اتفاق کے سبب وہ چوتھی بار ملک کے وزیر اعظم بنتے بنتے رہ گئے تاہم وہ اس وقت ملک کی برسراقتدار پارٹی مسلم لیگ (ن) کے صدر ہیں اور ان کے برادر خورد محمد شہباز شریف وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہیں جب کہ ان کے سمدھی محمد اسحق ڈار نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کی اہم ذمے داریاں سنبھالے ہوئے ہیں۔ میاں نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز شریف ملک کے سب سے بڑے صوبے کی انتہائی با اختیار وزیر اعلیٰ ہیں۔ ان کے بھتیجے اور شہباز شریف کے صاحبزادے حمزہ شہباز رکن اسمبلی ہیں اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں۔ قبل ازیں ان کے تیسرے بھائی عباس شریف مرحوم، ان کی اہلیہ کلثوم نواز مرحومہ اور ان کی والدہ مرحومہ بھی مختلف مواقع پر اسمبلی کی رکن رہ چکی ہیں۔ ان نہایت قریبی اور ایک ہی گھر کے افراد کے علاوہ بھی ان کے داماد، بھانجے، کزن اور دیگر رشتے دار مختلف سرکاری مناصب اور اسمبلیوں کی رکنیت سے سرفراز ہو چکے ہیں آج بھی مختلف اداروں اور سرکاری محکموں کا تحقیقی جائزہ لیا جائے تو شریف خاندان کے دور و نزدیک کے قرابت دار خاصی بڑی تعداد میں مختلف عنوانات کے تحت سرکاری مراعات سے استفادہ کرتے پائے جائیں گے۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ حکومت جمہوری ہے تو بادشاہت کسے کہتے ہیں؟؟

اداریہ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: وزیر اعلی نواز شریف ملک کے

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی