پاکستان جاپان اقتصادی شراکت داری کی نئی جہت، صنعتی تعاون بڑھانے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
جاپان اور پاکستان کے درمیان تجارتی اور صنعتی تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کے ساتھ ’جاپان پاکستان بزنس سیمینار 2026 ‘ کا انعقاد منگل کے روز سرینا ہوٹل اسلام آباد میں کیا گیا۔
سیمینار کی میزبانی پاکستان میں جاپان کے سفیر اکاماتسو شوئچی نے کی۔
تقریب میں وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئے، جبکہ پاکستانی حکام، کاروباری شخصیات، جامعات، جاپان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے اراکین، جائیکا (JICA)، جیٹرو (JETRO) اور مختلف جاپانی کمپنیوں کے نمائندگان سمیت تقریباً 100 افراد نے شرکت کی۔
جاپانی آٹو انڈسٹری کا نمایاں کرداراپنے خطاب میں سفیر اکاماتسو شوئچی نے کہا کہ جاپانی آٹو موبائل کمپنیوں نے پاکستان میں ایک لاکھ سے زائد روزگار کے مواقع پیدا کیے ہیں اور مقامی سطح پر آٹو پارٹس کی تیاری کے لیے مضبوط سپلائی چین قائم کی ہے۔ ان کے مطابق پرزہ جات کی لوکلائزیشن کی شرح 60 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جاپانی کمپنیاں صنعتی اپ گریڈیشن اور ماحولیاتی اثرات میں کمی کے لیے جدید ٹیکنالوجی میں مسلسل سرمایہ کاری کر رہی ہیں، اور پاکستان کی معیشت میں ان کا کردار آئندہ بھی اہم رہے گا۔
حکومتِ پاکستان کا اظہارِ تشکرمہمانِ خصوصی ہارون اختر خان نے پاکستان کی معیشت میں جاپان کی خدمات کو سراہتے ہوئے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ سیمینار دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری اور صنعتی روابط میں اضافے کا باعث بنے گا۔
سیشن اول: جاپان کی معاشی ترقی کا ماڈلپہلے سیشن میں ماہرین نے جاپان کی معاشی ترقی کے عوامل اور پاکستان کے ساتھ کاروباری تعلقات کی تاریخ پر روشنی ڈالی۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ جاپان میں قلیل مدتی منافع کے بجائے انسانی وسائل کی تعلیم و تربیت میں سرمایہ کاری کو ترجیح دی جاتی ہے، جو طویل المدتی معاشی استحکام کا باعث بنتی ہے۔
شرکا نے اس امر پر بھی تبادلہ خیال کیا کہ پاکستان جاپان کے تجربات سے سیکھ کر اپنی صنعتی ترقی کو کیسے تیز کر سکتا ہے۔
سیشن دوم: آٹو سیکٹر میں جدید رجحاناتدوسرے سیشن میں جاپانی آٹو موبائل کمپنیوں اور پاکستانی آٹو پارٹس سپلائرز نے شرکت کی۔ مقررین نے اعلیٰ معیار کی مستحکم پیداوار کے لیے کائیزن، 5S اور ملازمین کی تربیت کو بنیادی ستون قرار دیا۔
اس موقع پر ہائبرڈ گاڑیوں کے فروغ، پیٹرول کے استعمال میں کمی کے لیے بایو گیس ایندھن میں سرمایہ کاری اور روڈ سیفٹی کے معیار کو بہتر بنانے جیسے موضوعات پر بھی گفتگو ہوئی۔
سیمینار کے اختتام پر اس امید کا اظہار کیا گیا کہ جاپان اور پاکستان کے درمیان صنعتی تعاون، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، جو دونوں ممالک کے لیے معاشی استحکام اور ترقی کا باعث بنیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان جاپان اقتصادی شراکت داری پاکستان جاپان تعلقات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان جاپان تعلقات پاکستان جاپان اور پاکستان سرمایہ کاری کہ جاپان کے لیے
پڑھیں:
گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ترک سفیر ڈاکٹر عرفان نذیر اوغلو نے ملاقات کی،جس میں پاک ترک تعلقات، باہمی تعاون اور دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔منگل کو گورنر آفس اسلام آباد سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور ترکیہ کے برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر گفتگو ہوئی اورخیبرپختونخوا اور ترکیہ کے درمیان اقتصادی روابط کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پرگورنر خیبرپختونخوانے کہا کہ پاک۔بھارت جنگ میں ترکیہ نے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا،نئی نسل کو پاک ترک دوستی میں متحرک کرنا انتہائی ضروری ہے۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے تاجروں اور طلبہ کے ترکیہ دوروں کا سلسلہ شروع کیا جائے،دونوں ممالک کے ثقافتی اور ادبی وفود کے دورے بھی انتہائی ضروری ہیں، ایسے اقدامات سے ترکیہ اور پاکستان دوستی مزید مضبوط ہو گی۔گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ زراعت کے شعبہ میں بھی دونوں ممالک بالخصوص خیبرپختونخوا میں ترقی اور سرمایہ کاری کے وسیع امکانات ہیں۔ گورنر خیبرپختونخوا نے پشاور کو ترکیہ کے کسی بڑے شہر کے ساتھ سسٹر سٹی قرار دینے کی تجویز پیش کی۔ترک سفیر نے بتایا کہ پشاور کو ترکیہ کے ایک شہر کے ساتھ سسٹر سٹی قرار دیا جائے گا، پاکستان کے نوجوانوں کو آئی ٹی اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تربیت کے مواقع فراہم کرنے کے لئے تعاون کریں گے۔ ترک سفیر نے وزیراعظم یوتھ پروگرام کو نوجوانوں کی ترقی کے لئے ایک مثبت اور موثر اقدام قرار دیا۔ترک سفیر نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تعلیم، ٹیکنالوجی اور نوجوانوں کی استعداد کار بڑھانے کے شعبوں میں تعاون مزید فروغ پائے گا۔ملاقات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے خیبر پختونخوا اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر احمد کنڈی بھی موجود تھے۔