سعودی عرب میں بارانِ رحمت کے لیے کل نماز استسقا ادا ہوگی
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
ریاض: سعودی عرب کے فرمانروا خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ملک بھر میں بارش کی دعا کے لیے نمازِ استسقاء ادا کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق شاہی فرمان میں کہا گیا ہے کہ 12 فروری کو مملکت کی تمام بڑی اور چھوٹی مساجد میں یہ خصوصی نماز ادا کی جائے گی تاکہ اللہ تعالیٰ سے بارانِ رحمت کی التجا کی جا سکے۔
اعلامیے میں مسلمانوں کو نصیحت کی گئی ہے کہ وہ عاجزی اور انکساری کے ساتھ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور کثرتِ استغفار کے ذریعے اپنی کوتاہیوں پر معافی طلب کریں۔
مسجد الحرام اور مسجد نبوی سمیت سعودی عرب کی 12 ہزار سے زائد مساجد میں اس روحانی اجتماع کے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ ائمہ کرام خصوصی خطبات اور دعاؤں کا اہتمام کریں گے جن میں امتِ مسلمہ کی مغفرت، رحمت اور خیر و برکت کے لیے اجتماعی دعا کی جائے گی۔
شاہ سلمان نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ توبہ و رجوع الی اللہ اختیار کریں اور اس یقین کے ساتھ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہی زمین کو زندگی عطا کرنے اور آسمان سے بارش نازل کرنے والی ذات ہے۔
اس موقع پر لاکھوں افراد مساجد کا رخ کریں گے اور خشوع و خضوع کے ساتھ بارش کی دعا کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔