اینٹی آکسیڈنٹس الزائمر سے بچاؤ میں مددگار ثابت، تحقیق
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ اینٹی آکسیڈنٹس خصوصاً وٹامن ای اور وٹامن سی دماغی تنزلی اور الزائمر جیسی بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
اینٹی آکسیڈنٹس ایسے مرکبات ہوتے ہیں جو جسم کو فری ریڈیکلز نامی نقصان دہ ذرات سے محفوظ رکھتے ہیں، جو دماغ سمیت جسم کے خلیات کو متاثر کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مینوپاز اور الزائمر کا تعلق، خطرات کم کیسے کیے جاسکتے ہیں؟
تحقیق کا مقصد یہ جانچنا تھا کہ وٹامن ای اور وٹامن سی کی مختلف مقداریں ڈیمنشیا اور ذہنی کمزوری کے خطرے سے کس حد تک وابستہ ہیں۔ اس سلسلے میں محققین نے طویل المدتی مطالعات کا جائزہ لیا جن میں شرکا کی خوراک اور سپلیمنٹس کے ذریعے اینٹی آکسیڈنٹس کی مقدار کا ریکارڈ رکھا گیا۔
مجموعی طور پر 73 تحقیقی مطالعات کو شامل کیا گیا جن میں 28 ہزار سے زیادہ افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا۔ تجزیے کے مطابق وہ افراد جو غذا کے ذریعے زیادہ مقدار میں وٹامن ای استعمال کرتے تھے، ان میں الزائمر کا خطرہ 25 فیصد کم پایا گیا۔
یہ بھی پرھیں: الزائمر سے بچاؤ میں مددگار وٹامنز، تحقیق کیا کہتی ہے؟
جب غذا اور سپلیمنٹس دونوں سے حاصل ہونے والے وٹامن ای کو یکجا کیا گیا تو الزائمر کے خطرے میں کمی 30 فیصد تک پہنچ گئی، اسی طرح غذا اور سپلیمنٹس کے ذریعے وٹامن سی کا زیادہ استعمال کرنے والوں میں بھی الزائمر کا خطرہ تقریباً 30 فیصد کم دیکھا گیا۔
تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ اینٹی آکسیڈنٹس اور عمومی ذہنی کمزوری یا یادداشت میں کمی کے درمیان کوئی واضح تعلق ثابت نہیں ہو سکا، تاہم الزائمر کے حوالے سے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کینسر اور الزائمر کے علاج میں آرٹیفشل انٹیلیجنس (اے آئی) کا استعمال؟
ماہرین کے مطابق پھل، سبزیاں، گری دار میوے اور بیج اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور غذائیں ہیں جو صحت مند خوراک کا حصہ بنائی جا سکتی ہیں تاکہ دماغی صحت کو بہتر رکھا جاسکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news الزائمر اینٹی آکسیڈنٹ ڈیمنشیا وٹامن ای وٹامن سی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: الزائمر اینٹی ا کسیڈنٹ ڈیمنشیا وٹامن ای وٹامن سی اینٹی آکسیڈنٹس وٹامن ای وٹامن سی
پڑھیں:
ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟
سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔
یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔
تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔
مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں
انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔
ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔
تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔
ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔
تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید
ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر