WE News:
2026-07-24@08:09:50 GMT

اینٹی آکسیڈنٹس الزائمر سے بچاؤ میں مددگار ثابت، تحقیق

اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT

اینٹی آکسیڈنٹس الزائمر سے بچاؤ میں مددگار ثابت، تحقیق

ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ اینٹی آکسیڈنٹس خصوصاً وٹامن ای اور وٹامن سی دماغی تنزلی اور الزائمر جیسی بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

 اینٹی آکسیڈنٹس ایسے مرکبات ہوتے ہیں جو جسم کو فری ریڈیکلز نامی نقصان دہ ذرات سے محفوظ رکھتے ہیں، جو دماغ سمیت جسم کے خلیات کو متاثر کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مینوپاز اور الزائمر کا تعلق، خطرات کم کیسے کیے جاسکتے ہیں؟

تحقیق کا مقصد یہ جانچنا تھا کہ وٹامن ای اور وٹامن سی کی مختلف مقداریں ڈیمنشیا اور ذہنی کمزوری کے خطرے سے کس حد تک وابستہ ہیں۔ اس سلسلے میں محققین نے طویل المدتی مطالعات کا جائزہ لیا جن میں شرکا کی خوراک اور سپلیمنٹس کے ذریعے اینٹی آکسیڈنٹس کی مقدار کا ریکارڈ رکھا گیا۔

مجموعی طور پر 73 تحقیقی مطالعات کو شامل کیا گیا جن میں 28 ہزار سے زیادہ افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا۔ تجزیے کے مطابق وہ افراد جو غذا کے ذریعے زیادہ مقدار میں وٹامن ای استعمال کرتے تھے، ان میں الزائمر کا خطرہ 25 فیصد کم پایا گیا۔

یہ بھی پرھیں: الزائمر سے بچاؤ میں مددگار وٹامنز، تحقیق کیا کہتی ہے؟

جب غذا اور سپلیمنٹس دونوں سے حاصل ہونے والے وٹامن ای کو یکجا کیا گیا تو الزائمر کے خطرے میں کمی 30 فیصد تک پہنچ گئی، اسی طرح غذا اور سپلیمنٹس کے ذریعے وٹامن سی کا زیادہ استعمال کرنے والوں میں بھی الزائمر کا خطرہ تقریباً 30 فیصد کم دیکھا گیا۔

تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ اینٹی آکسیڈنٹس اور عمومی ذہنی کمزوری یا یادداشت میں کمی کے درمیان کوئی واضح تعلق ثابت نہیں ہو سکا، تاہم الزائمر کے حوالے سے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کینسر اور الزائمر کے علاج میں آرٹیفشل انٹیلیجنس (اے آئی) کا استعمال؟

ماہرین کے مطابق پھل، سبزیاں، گری دار میوے اور بیج اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور غذائیں ہیں جو صحت مند خوراک کا حصہ بنائی جا سکتی ہیں تاکہ دماغی صحت کو بہتر رکھا جاسکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news الزائمر اینٹی آکسیڈنٹ ڈیمنشیا وٹامن ای وٹامن سی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: الزائمر اینٹی ا کسیڈنٹ ڈیمنشیا وٹامن ای وٹامن سی اینٹی آکسیڈنٹس وٹامن ای وٹامن سی

پڑھیں:

مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ

ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔

یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔

تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔

اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔

تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔


 

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار