وزیراعظم کا عون عباس کے ورثا کیلئے ایک کروڑ کی امداد کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
وزیراعظم شہباز شریف سانحہ اسلام آباد کے دوران خودکش حملہ آور کو روکتے ہوئے شہید ہونے والے عون عباس کے ورثا کیلئے ایک کروڑ اور واقعے میں شہید ہونے والے دیگر افراد کےلیے 50، 50 لاکھ روپے امداد کا اعلان کردیا۔
وزیراعظم شہباز شریف خودکش حملہ آور کو روکنے کے دوران شہید ہونے والے عون عباس کے گھر پہنچنے، جہاں واقعے میں شہید افراد کے ایصال ثواب کےلیے فاتحہ خوانی کی گئی۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اس واقعہ کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، واقعہ کے خلاف پوری قوم یکجا اور یک قالب ہے۔
یہ بھی پڑھیے سانحہ اسلام آباد، بھارتی فنڈنگ اور سرپرستی، ہر قسم کی دہشت گردی فنڈنگ انڈیا سے، پہلے 5 سو اب 15 سو ڈالر دیئے جاتے ہیں، وزیر داخلہ اسلام آباد خودکش دھماکا، مجلس وحدت مسلمین کا 3 روزہ سوگ کا اعلانانہوں نے کہا کہ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، یہ واقعہ تفریق پیدا کرنے کی سازش تھی جو ناکام ہوگئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ افواج پاکستان قوم کےلیے ہر روز قربانیاں دے رہی ہیں۔ شہید کے بارے میں قرآن نے کہا کہ ان کو مردہ نہ کہو یہ زندہ ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بہادر نوجوان نے دہشت گرد کو روکنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ سانحہ اسلام آباد سے پوری قوم سوگوار ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
نائب وزیر اعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان آسیان ریجنل فورم کے ذریعے علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے لیے پرعزم ہے اور مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھا ہوا ہے۔
فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے وزارتی اجلاس سے خطاب میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہو ئے ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کریں۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ جموں و کشمیرکے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے، بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا تشویش ناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے۔
اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے لیے غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہے۔