پاراچنار، سانحہ ترلائی کیخلاف احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
مقررین نے مطالبہ کیا کہ شہداء کو انصاف اور ذمہ داروں کو گرفتاری کیا جائے، زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں، مساجد و امام بارگاہوں کی سیکورٹی میں بہتری اور فرقہ وارانہ تشدد کا خاتمہ کیا جائے۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو
پاراچنار، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے زیراہتمام سانحہ اسلام آباد کیخلاف احتجاج
پاراچنار، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے زیراہتمام سانحہ اسلام آباد کیخلاف احتجاج
پاراچنار، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے زیراہتمام سانحہ اسلام آباد کیخلاف احتجاج
پاراچنار، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے زیراہتمام سانحہ اسلام آباد کیخلاف احتجاج
پاراچنار، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے زیراہتمام سانحہ اسلام آباد کیخلاف احتجاج
پاراچنار، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے زیراہتمام سانحہ اسلام آباد کیخلاف احتجاج
پاراچنار، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے زیراہتمام سانحہ اسلام آباد کیخلاف احتجاج
پاراچنار، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے زیراہتمام سانحہ اسلام آباد کیخلاف احتجاج
پاراچنار، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے زیراہتمام سانحہ اسلام آباد کیخلاف احتجاج
اسلام ٹائمز۔ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے زیراہتمام پاراچنار میں اسلام آباد ترلائی مسجد خودکش حملے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، اس موقع پر مقررین نے مطالبہ کیا کہ شہداء کو انصاف اور ذمہ داروں کو گرفتاری کیا جائے، زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں، مساجد و امام بارگاہوں کی سیکورٹی میں بہتری اور فرقہ وارانہ تشدد کا خاتمہ کیا جائے۔ مظاہرے میں پاراچنار سے ایم ڈبلیو ایم کے رکن قومی اسمبلی حمید حسین نے بھی شرکت کی۔.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کیا جائے
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔