ترلائی دھماکا: بمبار کو روکنے والے شہری کیلیے 1 کروڑکااعلان
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260212-01-12
اسلام آباد ( نمائندہ جسارت)وزیراعظم شہباز شریف نے ترلائی میں خودکش حملہ آور کو دبوچنے کے دوران شہید ہونے والے شہری عون عباس کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لواحقین کیلیے 1 کروڑ روپے امداد کا اعلان کردیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ترلائی میں واقع امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ کا دورہ کیا اور مسجد انتظامیہ، شہدا کے لواحقین سے ملاقاتیں کیں۔وزیراعظم نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہے، اس واقعے کے ذریعے قوم اور مسلمانوں کو تقسیم کرنے کی سازش کی گئی جسے قوم نے اپنے اتحاد سے ناکام بنادیا۔انہوں نے کہا کہ ترلائی دھماکے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، آئی جی، وزیر، فوج، قانون نافذ کرنے والے ادارے ہر روز دہشت گردوں کا پیچھا کر کے انہیں ہلاک کررہے ہیں، پوری قوم افواج پاکستان کی قرض دار ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ بم دھماکے کے واقعے کیوجہ سے پوری قوم سوگوار ہے اور سب کے دل انتہائی دکھی ہیں۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کرے جبکہ یقین دہانی کرائی کہ شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔