Jasarat News:
2026-06-02@22:26:06 GMT

خود مختار مقامی حکومتیں

اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان میں اس نقطے پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ ہم حکمرانی یا گورننس کے بحران سے دوچار ہیں۔ اگرچہ ہم نے گورننس کے بحران کے حل کے لیے 2010 میں اٹھارویں ترمیم منظور کی تھی تا کہ وفاق سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات صوبوں کو منتقل کرے گا اور صوبے اضلاع سمیت تحصیل کی سطح پر اختیارات کی تقسیم کو یقینی بنا کر گورننس کے نظام میں بہتری پیدا کریں گے۔ لیکن اٹھارویں ترمیم اور صوبوں کو اختیارات کی منتقلی کے باوجود صوبے اپنی کارکردگی میں بہتری پیدا نہیں کر سکے۔ پہلے ہم وفاقی سطح پر مرکزیت کے نظام کا شکار تھے اور اب صوبائی مرکزیت کے نظام کا شکار نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چاروں صوبوں میں مقامی حکومتوں پر صوبائی حکومتوں کا مکمل کنٹرول نظر آتا ہے۔ جبکہ باقی صوبوں کے مقابلے میں پنجاب میں تو مقامی حکومتوں کے انتخابات آخری بار 2015 میں منعقد ہوئے تھے۔ ابھی حال ہی میں کوئٹہ اور اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات بھی صوبائی اور مرکزی حکومت کی عدم دلچسپی کی وجہ سے الیکشن کمیشن کو موخر کرنے پڑے۔ پنجاب میں بھی بلدیاتی ایکٹ 2025 کی منظوری کے باوجود یہاں انتخابات کا مستقبل مخدوش نظر آتا ہے۔ کیونکہ صوبائی حکومتیں کسی بھی سطح پر مضبوط اور خود مختار مقامی حکومتوں کے نظام کو پسند نہیں کرتیں یا وہ اس نظام کو اپنے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھتی ہیں۔ اسی وجہ سے مقامی حکومتوں کے قیام کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور اگر عدالتی حکم کی وجہ سے کہیں انتخابات کروانے بھی پڑے تو ان کو اختیارات سے محروم رکھا جاتا ہے۔ ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ صوبائی حکومتوں نے مقامی حکومتوں کے نظام کو مضبوط بنانے کے بجائے متبادل کمپنیوں اور اتھارٹیوں کا نظام بنا لیا ہے جس کا کنٹرول صوبائی حکومتوں کے پاس ہے جو مقامی حکومتوں کے نظام کو غیر موثر کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 140 اے، 32 اور آرٹیکل سات مقامی حکومتوں کے نظام کی مضبوطی کی طرف نشاندہی کرتے ہیں۔ لیکن آئین کے بے شمار قانونی سقم کی وجہ سے صوبائی حکومتیں آئین شکنی کی مرتکب ہوتی ہیں اور ان کو کسی بھی سطح پر جواب دے نہیں بنایا جا سکتا۔ مثال کے طور پر پنجاب میں آخری انتخابات 2015 میں منعقد ہوئے تھے اور آج 2026 ہے۔ صوبائی حکومتوں کو مقامی حکومتوں کے انتخابات کے لیے کیسے پابند بنایا جائے اس پر آئین خاموش نظر آتا ہے اور عدالتوں نے بھی صوبائی حکومتوں کو ریلیف دے کر معاملات کو اور زیادہ خراب کیا ہے۔ آئین میں مقامی حکومتوں کا کوئی وفاقی فریم ورک موجود نہیں ہے کہ صوبے کس طرز کا نظام تشکیل دیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف صوبوں میں ہمیں بلدیاتی نظام میں تضادات اور ٹکراؤنظر آتا ہے۔ اس وقت پاکستان میں مقامی حکومتوں کے نظام کی مضبوطی کے لیے آئین میں موجود سقم کے خاتمے کے لیے آئینی ترامیم کا پیکیج درکار ہے۔ بھارت کے آئین میں ایک مکمل باب مقامی حکومتوں کے بارے میں ہے جس میں وضاحت کے ساتھ اس نظام کی تشکیل اور طریقہ کار موجود ہے۔ ہمیں بھی اپنے آئین میں مقامی حکومتوں کے نظام کی خود مختاری اور مضبوطی کے لیے بھارت کے آئین سے مدد لینی چاہیے۔ ایک مسئلہ مقامی حکومتوں کے تسلسل کا بھی ہے اور یہ تسلسل بھی اسی صورت میں پیدا ہوگا جب ہمارے پاس وفاقی سطح پر بھی کوئی آئینی اور قانونی فریم ورک موجود ہوگا۔ ہمارے ہاں بعض سیاسی جماعتیں مقامی حکومتوں میں وفاقی حکومت کی مداخلت کو صوبائی خود مختاری کے مخالف سمجھتی ہیں۔ حالانکہ صوبائی خود مختاری اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک مقامی حکومتوں کی خود مختاری کو ممکن نہیں بنایا جائے گا۔ اس لیے اگر وفاقی سطح پر مقامی حکومتوں کا کوئی فریم ورک بنتا ہے تو اس سے صوبائی خود مختاری کے خلاف کچھ نہیں ہوگا۔ مقامی حکومتوں کے نظام میں ایک بڑی کمزوری یہ ہے کہ صوبائی حکومتیں مقامی حکومتوں کو ختم کر کے آگے بڑھنے کی کوشش کرتی ہیں جس سے یہ نظام متاثر ہوتا ہے۔ ارکان قومی اسمبلی ترقیاتی فنڈ کو اپنا حق سمجھتے ہیں اور دوسری طرف بیوروکریسی مقامی سطح پر اپنے تسلط کو برقرار رکھنے کی خواہش مند ہوتی ہے۔ آج کی دنیا میں حکمرانی کے نظام کی جو جدت آئی ہے اس میں سب سے زیادہ توجہ اختیارات کی تقسیم کو دی جاتی ہے۔ جیسے عرض کیا کہ پنجاب میں مقامی حکومتوں کا نظام اس وقت موجود ہی نہیں ہے لیکن جن صوبوں میں مقامی حکومتوں کا نظام موجود بھی ہے وہاں پر بھی لوگوں کے بنیادی مسائل حل ہونے کے بجائے ان میں اور زیادہ بگاڑ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ کراچی، لاہور، راولپنڈی، پشاور اور کوئٹہ جیسے بڑے شہروں کے مسائل بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ عالمی ترقیاتی ادارے بھی بار بار پاکستان میں گورننس کے مسائل کی نشاندہی کر رہے ہیں اور ان کے بقول اگر پاکستان نے گورننس کے بحران پر قابو نہ پایا تو وہ سیاسی اور معاشی طور پر آگے نہیں بڑھ سکے گا۔ ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا کام قانون سازی تک محدود ہونا چاہیے اور ملک میں ترقیاتی کاموں کی براہ راست ذمے داری مقامی حکومتوں کی ہونا چاہیے۔ عمومی طور پر ہم مقامی حکومتوں کو جمہوریت کی بنیادی نرسریاں کہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ نظام نچلی سطح سے صوبائی اور مقامی قیادت کو پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔ ایسے میں ہماری قومی ترجیحات کا تعین مقامی حکومتوں کے نظام کے ساتھ براہ راست جڑا ہونا چاہیے۔ لیکن ہم اس نظام کو نظر انداز کر کے آگے بڑھنا چاہتے ہیں اس روش نے ہمارے مسائل اور بڑھا دیے ہیں۔ جماعت اسلامی پاکستان نے اس وقت پنجاب میں بلدیاتی ایکٹ 2025 کے خلاف مہم چلا رہی ہے اور ان کا مطالبہ ہے کہ پنجاب کا موجودہ ایکٹ غیر آئینی اور غیر قانونی ہے اور ساتھ ساتھ وہ انتخابات کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔ اس سے قبل جماعت اسلامی کراچی کے اندر بھی ایک مضبوط اور خود مختار مقامی حکومتوں کے نظام کی بحث کو آگے بڑھاتی رہی ہے۔ یہ بات سمجھنی ہوگی کہ مقامی حکومتوں کی خود مختاری کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ایک وفاقی فریم ورک کی عدم موجودگی ہے اور اس کے لیے آئین کے اندر ترامیم کرنی ہوں گی جو مقامی حکومتوں کے نظام کو آئینی تحفظ دے سکیں۔ مثال کے طور پر قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیاں ختم ہوتی ہیں تو یہ آئینی تقاضا ہے کہ 90 دن کے اندر اندر انتخابات کو لازمی کرانا ہوتا ہے۔ لیکن جب مقامی حکومتیں ختم کی جاتی ہیں تو ہمارے آئین میں اس طرح کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ وہ مخصوص دن میں مقامی حکومتوں کی دوبارہ تشکیل کو یقینی بنا سکیں۔ تعلیم، صحت، صاف پانی اور سیوریج جیسے بنیادی نوعیت کے مسائل لوگوں کے لیے درد سر بنے ہوئے ہیں۔ کراچی اور لاہور میں ترقیاتی کاموں کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے وہ بھی غیر قانونی ہے۔اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ میئر اور ڈپٹی میئر کے انتخابات براہ راست ہوں کیونکہ چور دروازوں سے میئر اور ڈپٹی میئر کے انتخابات کرپشن کی سیاست کو جنم دینے کا سبب بنتے ہیں۔ یہ انتخابات خالصتاً جماعتی بنیادوں پر ہونے چاہییں وگرنہ غیر جماعتی طرز کے انتخابات برادری ازم کو مضبوط کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ ایک تجویز یہ بھی ہے کہ صوبائی حکومتوں کی تشکیل کے 120 دن کے اندر اندر مقامی حکومتوں کے الیکشن کرانے کی پابند ہوں۔ اسی طرح قومی اور صوبائی اسمبلی سمیت مقامی حکومتوں کی مدت بھی ایک جیسی ہونی چاہیے۔ ایک تجویز یہ بھی ہے کہ صوبائی فناننس کمیشن میں اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ وسائل کی تقسیم تمام اصلاع کی سطح پر اور بالخصوص کمزور اضلاع میں زیادہ ترجیح بنیادوں پر کی جائے گی تاکہ ترقی کا عمل کمزور علاقوں میں زیادہ مضبوط بنیادوں پر سامنے آ سکے۔

اداریہ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مقامی حکومتوں کے نظام کو مقامی حکومتوں کے نظام کی میں مقامی حکومتوں مقامی حکومتوں کا مقامی حکومتوں کی صوبائی حکومتوں کے انتخابات حکومتوں کو نظر ا تا ہے خود مختاری گورننس کے کہ صوبائی نہیں ہے کے اندر کا نظام ہیں اور بھی ہے رہا ہے کا سبب ہے اور کے لیے

پڑھیں:

وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر میں جعلی دواؤں کا خاتمہ یقینی بنانےکے لیے وفاقی کابینہ نے دواؤں کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دیدی۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس حوالے سے کہا کہ ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے، یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی دواؤں کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلی بار ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، اس نظام کے تحت جعلی، غیرمعیاری اور نقلی دواؤں کی نشاندہی اور ان کا خاتمہ ممکن ہوگا، نظام کے نفاذ سے عام صارف بآسانی دوا کی میعاد اور قیمت کی مستند معلومات لے سکےگا۔

ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار

وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی، نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں، یہ اہم فیصلہ دواوں کی سپلائی چین کو محفوظ اور معیاری بنانے کیلئے کیا ہے۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا پاکستان میں دواؤں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی دواؤں کے خلاف مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی، پاکستان خطے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے والا نمایاں ملک بن کر سامنے آئے گا، اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گا۔

پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر

مزید :

متعلقہ مضامین

  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی