بنگلادیش میں چینی اثرورسوخ سے امریکا پریشان، نیا منصوبہ تیار
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
بنگلادیش سے چین کے بڑھتے دفاعی تعلقات کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکا متبادل دفاعی منصوبہ تیار کر رہا ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق ڈھاکا میں واشنگٹن کے سفیر نے خبر ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ امریکا کو جنوبی ایشیا میں چین کی بڑھتی ہوئی موجودگی پر تشویش ہے اور وہ بنگلا دیش کی اگلی حکومت کو چینی ہارڈویئر کے متبادل کے طور پر امریکی اور اتحادی دفاعی نظام پیش کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔
چین نے حال ہی میں بنگلا دیش کے ساتھ بھارت کی سرحد کے قریب ڈرون فیکٹری بنانے کے لیے ایک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس سے غیر ملکی سفارت کاروں کو تشویش ہوئی ہے۔
بنگلا دیش JF-17 تھنڈر لڑاکا طیارے خریدنے کے لیے بھی پاکستان کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے جو کہ چین کے ساتھ مل کر مشترکہ طور پر تیار کیا گیا ایک ملٹی رول لڑاکا طیارہ ہے۔
امریکی سفیر برینٹ ٹی کرسٹینسن نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا کو جنوبی ایشیا میں بڑھتے ہوئے چینی اثر و رسوخ پر تشویش ہے اور وہ بنگلا دیشی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ چین کے ساتھ مخصوص قسم کی مصروفیات کے خطرات سے واضح طور پر آگاہ کیا جا سکے۔
انہوں نے مزید تفصیلات پیش کیے بغیر کہا کہ امریکا بنگلا دیش کو اپنی فوجی صلاحیت کی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد کرنے کے لیے بہت سے اختیارات پیش کرتا ہے جس میں امریکی نظام اور اتحادی شراکت داروں کی جانب سے چینی سسٹمز کے متبادل فراہم کرنا بھی شامل ہے۔
چین کی وزارت خارجہ نے کہا کہ جامع تزویراتی شراکت داروں کی حیثیت سے چین اور بنگلا دیش نے سیاسی، اقتصادی اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون کیا ہے جس سے دونوں ممالک کو فائدہ پہنچا ہے۔
وزارت نے رائٹرز کو ایک بیان میں کہا کہ “ہمارا باہمی فائدہ مند اور دوستانہ تعاون کسی تیسرے فریق کے خلاف نہیں ہے اور نہ ہی ہم کسی تیسرے فریق کی مداخلت کو برداشت کریں گے۔”
سفیر نے کہا کہ واشنگٹن “جو بھی حکومت بنگلا دیشی عوام منتخب کریں گے” ان کے ساتھ کام کرے گا۔ یہ دوڑ سابق اتحادیوں، بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی اور اسلامی جماعت اسلامی کی زیر قیادت دو اتحادوں کے درمیان ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل بنگلا دیش کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔