گراں فروشی، ذخیرہ اندوزی… اسلامی تعلیمات کے منافی عمل
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ہم دردی اور غم خواری کا ماہِ مبارک، نیکیوں کا موسمِ بہار، رحمت، مغفرت اور جہنّم سے نجات کا مہینہ ’’رمضان المبارک‘‘ ہم پر سایہ فگن ہو رہا ہے۔ احادیثِ نبویؐ میں اِسے ’’شہرُ المُواساۃ‘‘ یعنی ہم دردی اور غم خواری کا مہینہ قرار دیا گیا ہے۔ ایسا مبارک مہینہ کہ جب سرکش شیاطین قید کردیے جاتے ہیں، خیر کے طالب کی حوصلہ افزائی کی جاتی اور بدی کے محور کو روک دیا جاتا ہے۔ یہ مہینہ اسلام کی عظمت کا نشان اور دین کا شعار ہے۔ اِس مقدّس اور بابرکت مہینے میں جو افسوس ناک اور حد درجہ قابلِ مذمّت امر سامنے آتا ہے، وہ منہگائی، گراں فروشی اور ناجائز منافع خوری ہے۔ رمضان آتے ہی اشیائے صَرف کی قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں اور اشیائے خور ونوش کی مصنوعی قلّت ہو جاتی ہے۔ اِس کی جتنی مذمّت کی جائے، کم ہے اور اِس اَمر پر جتنا افسوس کیا جائے، بجا ہے۔ اسلامی مملکت میں اور مسلمان ہوتے ہوئے ہمارا یہ کردار حد درجہ شرم ناک ہے۔
اسلام تو ہمیں ایثار و ہم دردی، خدمتِ خلق اور نفع رسانی کا حکم دیتا ہے۔ دنیا کے مختلف مذاہب کے ماننے والوں کا یہ عالم ہے کہ وہ اپنے مقدّس تہواروں کے موقع پر بنیادی ضروریاتِ زندگی کی اشیاء مقرّرہ قیمت سے کم کرکے سستے داموں فروخت کرتے ہیں، رعایتی بازار اور تجارتی میلے لگائے جاتے ہیں، جب کہ ہمارے ہاں معاملہ اِس کے بالکل برعکس ہے۔ یہ عمل اسلامی تعلیمات کے منافی، اعلیٰ اخلاقی اقدار کے برخلاف اور بدترین گناہ ہے۔ علاوہ ازیں، گراں فروشی بدترین مالی خیانت اور دھوکا دہی ہے، جس کے متعلق رسولِ اکرمؐ کا ارشادِ گرامی ہے: ’’جس نے دھوکا دہی اختیار کی، وہ ہم میں سے نہیں‘‘۔
ناجائز اور حرام ذرائع سے حاصل شدہ مال، حرام اور بدترین مال ہے، جو بدترین گناہ اور نیکیوں کی بربادی کا ذریعہ ہے۔ رسولِ اکرمؐ کا ارشادِ گرامی ملاحظہ ہو۔ سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ ’’آپؐ نے ایک ایسے شخص کا ذکر کیا، جو طویل سفر کرتا ہے، پراگندہ بال اور غبار آلود، وہ اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اُٹھاتا ہے اور کہتا ہے، اے پروردگار (میری دعائیں قبول فرما)! حالاں کہ اُس کا کھانا حرام، پینا حرام، لباس حرام اور وہ حرام میں پرورش کیا گیا، پھر کیوں کر اُس کی دُعا قبول کی جائے؟‘‘ (مشکوٰۃ کتاب البیوع)۔ رمضان المبارک اور موجودہ حالات کا تقاضا تو یہ ہے کہ عام دنوں کے مقابلے میں اپنے نفعے کی شرح کم کرکے بندگانِ خدا کے لیے راحت رسانی کا سبب اور ذریعہ بنا جائے۔
اسلام میں خدمتِ خلق، ایثار، راست گوئی، دیانت وامانت اور عدل و انصاف کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ یہ نظام انسانیت کی فلاح کا ضامن ہے۔ چناںچہ معاشی سرگرمیاں ہوں یا تجارتی معاملات اور باہمی لین دین، اسلام نے ان میں دیانت و امانت کو بنیادی اہمیت دی ہے۔ اِس حوالے سے اسلام کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ بنیادی طور پر یہ تمام سرگرمیاں انسانیت کی بھلائی اور نفع رسانی کے لیے ہیں۔ تجارتی معاملات اور کاروباری سرگرمیوں کی ابتدا اس سے ہوتی ہے کہ بنیادی اشیائے ضرورت اور صنعت و تجارت سے وابستہ اشیاء کے جو معیارات قائم کیے جائیں، اس میں دیانت و امانت اور عدل کے تقاضوں کو ملحوظ رکھیں۔ اس حوالے سے رسول اکرمؐ کا ارشادِ گرامی ہے: ’’جس میں امانت نہیں، اُس میں ایمان نہیں، جسے عہد کا پاس نہ ہو، اُس میں دین نہیں، اس ذات کی قسم، جس کے قبضۂ قدرت میں محمدؐ کی جان ہے، کسی بندے کا اُس وقت تک دین درست نہیں ہوگا، جب تک کہ اُس کی زبان درست نہ ہو اور اُس کی زبان درست نہ ہوگی، جب تک کہ اُس کا دل درست نہ ہو اور جو کوئی کسی ناجائز کمائی سے کوئی مال کمائے گا اور اُس میں سے خرچ کرے گا، تو اُس کے لیے اُس میں برکت نہیں دی جائے گی اور اگر وہ اُس میں سے خیرات کرے گا، تو وہ قبول نہ ہوگی اور جو اُس میں سے بچ رہے گا، وہ اُس کے دوزخ کی طرف سفر کا توشہ ہوگا، بُری چیز بُری چیز کا کفّارہ نہیں بن سکتی، البتہ اچھی چیز، کفّارہ ہوتی ہے‘‘ (علی متقی الھندی/ کنزالعمال)۔ اسلام کا معاشی نظام اور تجارتی اصول، معاشی عدل، عوام النّاس کو نفع رسانی اور خیر خواہی کی تعلیم دیتا ہے، چناںچہ فقہاء نے اِس حوالے سے اسلام کا یہ اصول بیان کیا ہے کہ ’’تمام انسان باہم ایک دوسرے کے محتاج ہیں اور ان کی ضروریاتِ زندگی کی تکمیل اُس وقت تک ممکن نہیں، جب تک وہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور باہمی ہم دردی کا مظاہرہ نہ کریں (امام راغب اصفہانی/ الذّریعہ الیٰ مکارم الشّریعہ)۔
معاشی عدل اور تجارتی معاملات میں دیانت و امانت کے حوالے سے قرآن و سنّت میں بڑی واضح تعلیمات ملتی ہیں۔ باہمی خرید وفروخت اور تجارتی معاملات میں بددیانتی، دھوکا دہی، ناپ تول میں کمی اور گراں فروشی کو اسلامی تعلیمات کے منافی عمل اور بدترین گناہ قرار دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے حضرت شعیب علیہ السّلام اللہ کے وہ برگزیدہ پیغمبر ہیں، جن کی دعوت اور اصلاح کا بنیادی نکتہ ہی تجارتی سرگرمیوں اور خرید و فروخت کے معاملات کو عدل اور دیانت و امانت کے اصولوں پر رائج کرنا اور اسے پوری طرح نافذ کرنا تھا۔ قرآن کریم میں اِس حوالے سے متعدّد ارشادات ملتے ہیں۔ سورۃ الاعراف میں حضرت شعیبؑ کی یہ ہدایت ہے کہ اُنہوں نے اپنی قوم سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ’’برادرانِ قوم، اللہ کی بندگی اختیار کرو، اُس کے سوا تمہارا کوئی پروردگار نہیں، تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی واضح رہ نمائی آگئی ہے، لہٰذا وزن اور پیمانے پورے کرو، لوگوں کو اُن کی چیزیں کم نہ دیا کرو‘‘۔ وہ مسلسل انحراف، بددیانتی اور اللہ کی نافرمانی کے سبب بالآخر بدترین عذابِ الٰہی سے دوچار ہوئے۔ سورۃ الرحمٰن میں ارشادِ ربّانی ہے: ’’اور اُسی نے آسمان کو بلند کیا اور ترازو قائم کی، کہ ترازو (سے تولنے) میں حد سے تجاوز نہ کرو اور انصاف کے ساتھ ٹھیک تولو اور تول کم مت کرو‘‘ (8-9)۔ سورۃ المطفّفین میں فرمایا گیا: ’’اور ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے خرابی ہے، جو لوگوں سے ناپ کرلیں، تو پورا لیں اور جب اُنہیں ناپ کر یا تول کر دیں، تو کم دیں، کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ (قیامت کے روز) اُٹھائے بھی جائیں گے، ایک بڑے سخت دن، جس دن تمام لوگ ربّ العالمین کے روبرو کھڑے ہوں گے‘‘۔ محسنِ انسانیت، رہبرِ آدمیت، خاتم الانبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سیرتِ طیبہ اور آپؐ کا اسوۂ حسنہ تجارتی معاملات میں دیانت و امانت، سچائی اور راست گوئی کی ایک روشن اور اعلیٰ مثال ہے، خرید وفروخت اور تجارتی معاملات میں آپؐ ہمیشہ اپنا معاملہ صاف رکھتے تھے۔ دیانت و امانت اور عدل و احسان کے اعلیٰ اصولوں پر عمل پیرا ہوتے تھے۔
اعلانِ نبوّت سے قبل جن لوگوں سے آپؐ کا تجارتی حوالے سے تعلق رہا، وہ بھی اس کے معترف اور آپؐ کی عظمت کے قائل نظر آتے ہیں، کفّارِ مکہ نے آپؐ کو ’’صادق و امین‘‘ کے خطابات سے نوازا۔ سائب نامی ایک صحابیؓ جب مسلمان ہو کر خدمتِ نبویؐ میں حاضر ہوئے، تو لوگوں نے ان کی تعریف کی، آپؐ نے فرمایا: ’’میں انہیں تم سے زیادہ جانتا ہوں۔ سائبؓ نے کہا، آپؐ پر میرے ماں باپ قربان ہوں، آپؐ میرے شریکِ تجارت تھے، کتنے اچھے شریک تھے، نہ کھینچا تانی کرتے اور نہ جھگڑا کرتے تھے‘‘ (ابو دائود)۔
قرآنِ کریم میں ارشادِ ربّانی ہے: ’’اے لوگو، جو ایمان لائے ہو، آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقوں سے نہ کھائو، مگر یہ کہ تجارت ہو، تمہاری باہمی رضا مندی سے‘‘ (سورۃ النساء: 29)۔ اس ارشادِ ربّانی سے حلال ذرائع سے مال کے حصول اور کسبِ حلال کی اہمیت واضح ہوتی ہے، جب کہ ناجائز ذرائع سے لوگوں کا مال حاصل کرلینے کو قرآن نے باطل قرار دیا ہے، ناجائز منافع خوری، دھوکا دہی اور گراں فروشی بھی باطل مال کے زمرے میں آتے ہیں، جسے حرام اور ناجائز قرار دیا گیا ہے۔ رسولِ اکرمؐ کا ارشادِ گرامی ہے: ’’سچّے اور امانت دار تاجر روزِ محشر انبیاءؑ، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوںگے‘‘۔ اس فرمانِ نبویؐ میں راست گو اور دیانت دار تاجر کے مقام ومرتبے کو بیان کرتے ہوئے گویا اسلامی معاشرے کے ہر تاجر کو دیانت داری، معاملات کو صاف رکھنے اور راست گوئی کی تعلیم دی گئی ہے، یہ اسلام کے معاشی نظام اور تجارتی اقدار کا بنیادی ستون ہے۔ رسول اکرمؐ کا ارشادِ گرامی ہے: ’’ساری مخلوق اللہ کا کنبہ ہے، اللہ کو اپنی مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب وہ ہے، جو اس کے کنبے سے زیادہ اچھا سلوک کرے‘‘ (مشکوٰۃ/ باب الشفقۃ والرحمۃ علی الخلق)۔
سیدنا انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرمؐ نے ارشاد فرمایا: ’’قسم ہے اُس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، کوئی بندہ اُس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا، جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی کچھ نہ چاہے، جو اپنے لیے چاہتا ہے‘‘ (بخاری)۔ گراں فروشی اور ناجائز منافع خوری سے انسانوں کے حقوق متاثر ہوتے ہیں، اعلیٰ اخلاقی اقدار پامال ہوتی ہیں، معاشی اور معاشرتی توازن میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے، لہٰذا اسلام نے اس کی مذمّت کرتے ہوئے اسے معاشی استحصال کا سبب اور ناجائز قرار دیا ہے۔ اسلام اس امر کا خواہاں ہے کہ تاجر اور صنعت کار کا یہ حق ہے کہ وہ شرعی اور معاشرتی حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنی جائز ضرورتوں کی تکمیل کرے، تاہم اُسے اپنے اس فرض سے غافل نہیں ہونا چاہیے کہ اُس کی تجارتی اور کاروباری سرگرمیاں انسانیت کے لیے خیر و فلاح اور خدمتِ خلق کی ضامن ہوں۔ اُس کی بنیاد ایثار و ہم دردی اور دیانت و امانت پر ہو۔ کاروباری دیانت کا ایک اصول یہ ہے کہ اشیائے صرف اور بنیادی ضروریاتِ زندگی کی اشیاء کی قیمتیں اور اُن کے نرخ جائز حدود میں رکھے جائیں۔ صارفین پر ناجائز دبائو نہ ڈالا جائے۔ گراں فروشی اور ناجائز منافع خوری کو فقہاء نے ’’غبنِ فاحش‘‘ سے تعبیر کیا ہے اور یہ اُصول متعین کیا گیا ہے کہ ناجائز منافع خوروں اور گراں فروشوں کو اسلامی ریاست عادلانہ اور جائز مناسب نرخ پر اشیائے صرف اور ضروریاتِ زندگی کے سامان کو فروخت کرنے پر پابند کرے۔
علاوہ ازیں قانون شکنی اور اس کی خلاف ورزی کی صُورت میں اُن کے خلاف تادیبی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے۔ نبی صادق و امین حضرت محمدؐ نے تجارت و معیشت کی ایسی تمام صُورتوں کو حرام اور ناجائز قرار دیا، جو غیر عادلانہ بنیادوں پر استوار ہوتی ہیں، جس سے براہِ راست انسانوں کے حقوق متاثر ہوتے ہیں۔ چناںچہ گراں فروشی اور ناجائز منافع خوری کے متعلق آپؐ نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص گرانی اور منہگائی کی غرض سے غلّہ اور دیگر اشیائے صرف روکتا ہے (ذخیرہ اندوزی کرتا ہے) وہ گناہ گار ہے‘‘ (صحیح مسلم، کتاب المساقاۃ)۔ آپؐ کا ارشادِ گرامی ہے: ’’ایسا شخص انتہائی بُرا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ غلّہ (اشیائے صرف) کو سستا کردے، تو وہ افسردہ ہوجائے اور منہگا ہوجائے تو اظہارِ مسرت کرے‘‘ (مشکوٰۃ)۔ امام بخاریؒ نے رسول اکرمؐ کا ارشادِ گرامی بیان فرمایا ہے کہ آپؐ نے ’’نجش‘‘ یعنی اشیائے صرف کو مہنگے داموں فروخت کرنے کی منصوبہ بندی کرنے سے بھی منع فرمایا‘‘ (صحیح بخاری، کتاب البیوع)۔
حضرت معقل بن یسارؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اکرمؐ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ: ’’جو شخص مسلمانوں کے بازار کے نرخ میں اس لیے دخل دے کہ اسے گراں کردے، تو اللہ تعالیٰ پر واجب ہوجاتا ہے کہ قیامت کے دن اُسے دہکتی ہوئی آگ میں ڈال دے‘‘ (سنن ابودائود)۔ ذخیرہ اندوزی، اشیائے صرف کی مصنوعی قلّت، گراں فروشی اور ناجائز منافع کے خاتمے کے لیے جس طرح تاجر برادری پر بنیادی ذمّے داری عاید ہوتی ہے، بالکل اسی طرح عوام النّاس کے بنیادی حقوق کا تحفّظ اور اس حوالے سے اقدامات کرنا ریاست کی بھی بنیادی ذمّے داری ہے۔ اسلام کے ابتدائی ادوار میں اس اہم مقصد کے حصول کے لیے مسلم حکم راں اور محکمۂ احتساب اپنی ذمّے داریاں ادا کرتے تھے۔ اسلام میں ریاست کا یہ بنیادی فریضہ ہے کہ وہ عوامی فلاح، عدل وانصاف کے قیام، تجارتی معاملات کی درستی، گراں فروشی، حرام اور ناجائز ذرائع آمدنی کے سدِّباب اور معاشی استحصال کے خاتمے کے لیے ایسے نگراں اور محتسب مقرّر کرے، جو اپنی ذمّے داریاں ادا کرتے ہوئے ناجائز تجارتی سرگرمیوں کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ اسلام میں ’’حسبہ‘‘ کا بنیادی مقصد امربالمعروف، نہی عن المنکر کا قیام، ناجائز اور اسلامی تعلیمات کے منافی تجارتی سرگرمیوں کو اسلامی تعلیمات اور اخلاقی اقدار کا پابند بنانا ہے۔ اس کارِ خیر کا آغاز عہدِ نبویؐ میں ہوا، روایت کے مطابق آپؐ بنفسِ نفیس بازار تشریف لے جاتے اور تجارتی سرگرمیوں کی نگرانی فرماتے۔
اسلامی معاشرے میں تاجر برادری کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اُنہیں معاشی، معاشرتی اور تجارتی سرگرمیوں میں دیانت و امانت، عدل و احسان، ایثار و ہم دردی کے جذبات اور اخلاقی اقدار پیشِ نظر رکھنی چاہئیں۔ ناجائز اور اخلاقی اقدار کے منافی تجارتی سرگرمیوں سے گریز کرنا چاہیے۔ ایثار، ہم دردی اور نفع رسانی وہ اعلیٰ اخلاقی قدر ہے، جس پر اسلام نے بے حد زور دیا ہے۔ رسول اکرمؐ کا فرمان ہے: ’’لوگوں میں بہتر وہ ہے جو انسانوں کو نفع پہنچاتا ہے‘‘۔ رمضان المبارک کا یہ مہینہ نیکیوں کا موسمِ بہار ہے، اس میں ہر نیکی کا اجر بڑھا دیا جاتا ہے، یہ ہم دردی اور غم خواری کا مہینہ ہے، اس ’’شہر المواساۃ‘‘ میں ہمیں، بالخصوص تاجروں کو، ایثار، خیر خواہی، خدمتِ خلق اور نفع رسانی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اس طرح کہ اپنے لیے تو سب ہی جیتے ہیں اِس جہاں میں… ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا۔
ڈاکٹر حافظ محمد ثانی
گلزار
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: گراں فروشی اور ناجائز منافع خوری اسلامی تعلیمات کے منافی تجارتی معاملات میں میں دیانت و امانت تجارتی سرگرمیوں اور نفع رسانی اخلاقی اقدار ہم دردی اور اشیائے صرف اور تجارتی س حوالے سے دھوکا دہی کرتے ہوئے رسول اکرم کا ارشاد حرام اور گرامی ہے قرار دیا ہوتی ہے اور ا س ہے کہ ا اور اس کے لیے گیا ہے
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔