گراں فروشی، ذخیرہ اندوزی… اسلامی تعلیمات کے منافی عمل
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ہم دردی اور غم خواری کا ماہِ مبارک، نیکیوں کا موسمِ بہار، رحمت، مغفرت اور جہنّم سے نجات کا مہینہ ’’رمضان المبارک‘‘ ہم پر سایہ فگن ہو رہا ہے۔ احادیثِ نبویؐ میں اِسے ’’شہرُ المُواساۃ‘‘ یعنی ہم دردی اور غم خواری کا مہینہ قرار دیا گیا ہے۔ ایسا مبارک مہینہ کہ جب سرکش شیاطین قید کردیے جاتے ہیں، خیر کے طالب کی حوصلہ افزائی کی جاتی اور بدی کے محور کو روک دیا جاتا ہے۔ یہ مہینہ اسلام کی عظمت کا نشان اور دین کا شعار ہے۔ اِس مقدّس اور بابرکت مہینے میں جو افسوس ناک اور حد درجہ قابلِ مذمّت امر سامنے آتا ہے، وہ منہگائی، گراں فروشی اور ناجائز منافع خوری ہے۔ رمضان آتے ہی اشیائے صَرف کی قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں اور اشیائے خور ونوش کی مصنوعی قلّت ہو جاتی ہے۔ اِس کی جتنی مذمّت کی جائے، کم ہے اور اِس اَمر پر جتنا افسوس کیا جائے، بجا ہے۔ اسلامی مملکت میں اور مسلمان ہوتے ہوئے ہمارا یہ کردار حد درجہ شرم ناک ہے۔
اسلام تو ہمیں ایثار و ہم دردی، خدمتِ خلق اور نفع رسانی کا حکم دیتا ہے۔ دنیا کے مختلف مذاہب کے ماننے والوں کا یہ عالم ہے کہ وہ اپنے مقدّس تہواروں کے موقع پر بنیادی ضروریاتِ زندگی کی اشیاء مقرّرہ قیمت سے کم کرکے سستے داموں فروخت کرتے ہیں، رعایتی بازار اور تجارتی میلے لگائے جاتے ہیں، جب کہ ہمارے ہاں معاملہ اِس کے بالکل برعکس ہے۔ یہ عمل اسلامی تعلیمات کے منافی، اعلیٰ اخلاقی اقدار کے برخلاف اور بدترین گناہ ہے۔ علاوہ ازیں، گراں فروشی بدترین مالی خیانت اور دھوکا دہی ہے، جس کے متعلق رسولِ اکرمؐ کا ارشادِ گرامی ہے: ’’جس نے دھوکا دہی اختیار کی، وہ ہم میں سے نہیں‘‘۔
ناجائز اور حرام ذرائع سے حاصل شدہ مال، حرام اور بدترین مال ہے، جو بدترین گناہ اور نیکیوں کی بربادی کا ذریعہ ہے۔ رسولِ اکرمؐ کا ارشادِ گرامی ملاحظہ ہو۔ سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ ’’آپؐ نے ایک ایسے شخص کا ذکر کیا، جو طویل سفر کرتا ہے، پراگندہ بال اور غبار آلود، وہ اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اُٹھاتا ہے اور کہتا ہے، اے پروردگار (میری دعائیں قبول فرما)! حالاں کہ اُس کا کھانا حرام، پینا حرام، لباس حرام اور وہ حرام میں پرورش کیا گیا، پھر کیوں کر اُس کی دُعا قبول کی جائے؟‘‘ (مشکوٰۃ کتاب البیوع)۔ رمضان المبارک اور موجودہ حالات کا تقاضا تو یہ ہے کہ عام دنوں کے مقابلے میں اپنے نفعے کی شرح کم کرکے بندگانِ خدا کے لیے راحت رسانی کا سبب اور ذریعہ بنا جائے۔
اسلام میں خدمتِ خلق، ایثار، راست گوئی، دیانت وامانت اور عدل و انصاف کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ یہ نظام انسانیت کی فلاح کا ضامن ہے۔ چناںچہ معاشی سرگرمیاں ہوں یا تجارتی معاملات اور باہمی لین دین، اسلام نے ان میں دیانت و امانت کو بنیادی اہمیت دی ہے۔ اِس حوالے سے اسلام کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ بنیادی طور پر یہ تمام سرگرمیاں انسانیت کی بھلائی اور نفع رسانی کے لیے ہیں۔ تجارتی معاملات اور کاروباری سرگرمیوں کی ابتدا اس سے ہوتی ہے کہ بنیادی اشیائے ضرورت اور صنعت و تجارت سے وابستہ اشیاء کے جو معیارات قائم کیے جائیں، اس میں دیانت و امانت اور عدل کے تقاضوں کو ملحوظ رکھیں۔ اس حوالے سے رسول اکرمؐ کا ارشادِ گرامی ہے: ’’جس میں امانت نہیں، اُس میں ایمان نہیں، جسے عہد کا پاس نہ ہو، اُس میں دین نہیں، اس ذات کی قسم، جس کے قبضۂ قدرت میں محمدؐ کی جان ہے، کسی بندے کا اُس وقت تک دین درست نہیں ہوگا، جب تک کہ اُس کی زبان درست نہ ہو اور اُس کی زبان درست نہ ہوگی، جب تک کہ اُس کا دل درست نہ ہو اور جو کوئی کسی ناجائز کمائی سے کوئی مال کمائے گا اور اُس میں سے خرچ کرے گا، تو اُس کے لیے اُس میں برکت نہیں دی جائے گی اور اگر وہ اُس میں سے خیرات کرے گا، تو وہ قبول نہ ہوگی اور جو اُس میں سے بچ رہے گا، وہ اُس کے دوزخ کی طرف سفر کا توشہ ہوگا، بُری چیز بُری چیز کا کفّارہ نہیں بن سکتی، البتہ اچھی چیز، کفّارہ ہوتی ہے‘‘ (علی متقی الھندی/ کنزالعمال)۔ اسلام کا معاشی نظام اور تجارتی اصول، معاشی عدل، عوام النّاس کو نفع رسانی اور خیر خواہی کی تعلیم دیتا ہے، چناںچہ فقہاء نے اِس حوالے سے اسلام کا یہ اصول بیان کیا ہے کہ ’’تمام انسان باہم ایک دوسرے کے محتاج ہیں اور ان کی ضروریاتِ زندگی کی تکمیل اُس وقت تک ممکن نہیں، جب تک وہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور باہمی ہم دردی کا مظاہرہ نہ کریں (امام راغب اصفہانی/ الذّریعہ الیٰ مکارم الشّریعہ)۔
معاشی عدل اور تجارتی معاملات میں دیانت و امانت کے حوالے سے قرآن و سنّت میں بڑی واضح تعلیمات ملتی ہیں۔ باہمی خرید وفروخت اور تجارتی معاملات میں بددیانتی، دھوکا دہی، ناپ تول میں کمی اور گراں فروشی کو اسلامی تعلیمات کے منافی عمل اور بدترین گناہ قرار دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے حضرت شعیب علیہ السّلام اللہ کے وہ برگزیدہ پیغمبر ہیں، جن کی دعوت اور اصلاح کا بنیادی نکتہ ہی تجارتی سرگرمیوں اور خرید و فروخت کے معاملات کو عدل اور دیانت و امانت کے اصولوں پر رائج کرنا اور اسے پوری طرح نافذ کرنا تھا۔ قرآن کریم میں اِس حوالے سے متعدّد ارشادات ملتے ہیں۔ سورۃ الاعراف میں حضرت شعیبؑ کی یہ ہدایت ہے کہ اُنہوں نے اپنی قوم سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ’’برادرانِ قوم، اللہ کی بندگی اختیار کرو، اُس کے سوا تمہارا کوئی پروردگار نہیں، تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی واضح رہ نمائی آگئی ہے، لہٰذا وزن اور پیمانے پورے کرو، لوگوں کو اُن کی چیزیں کم نہ دیا کرو‘‘۔ وہ مسلسل انحراف، بددیانتی اور اللہ کی نافرمانی کے سبب بالآخر بدترین عذابِ الٰہی سے دوچار ہوئے۔ سورۃ الرحمٰن میں ارشادِ ربّانی ہے: ’’اور اُسی نے آسمان کو بلند کیا اور ترازو قائم کی، کہ ترازو (سے تولنے) میں حد سے تجاوز نہ کرو اور انصاف کے ساتھ ٹھیک تولو اور تول کم مت کرو‘‘ (8-9)۔ سورۃ المطفّفین میں فرمایا گیا: ’’اور ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے خرابی ہے، جو لوگوں سے ناپ کرلیں، تو پورا لیں اور جب اُنہیں ناپ کر یا تول کر دیں، تو کم دیں، کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ (قیامت کے روز) اُٹھائے بھی جائیں گے، ایک بڑے سخت دن، جس دن تمام لوگ ربّ العالمین کے روبرو کھڑے ہوں گے‘‘۔ محسنِ انسانیت، رہبرِ آدمیت، خاتم الانبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سیرتِ طیبہ اور آپؐ کا اسوۂ حسنہ تجارتی معاملات میں دیانت و امانت، سچائی اور راست گوئی کی ایک روشن اور اعلیٰ مثال ہے، خرید وفروخت اور تجارتی معاملات میں آپؐ ہمیشہ اپنا معاملہ صاف رکھتے تھے۔ دیانت و امانت اور عدل و احسان کے اعلیٰ اصولوں پر عمل پیرا ہوتے تھے۔
اعلانِ نبوّت سے قبل جن لوگوں سے آپؐ کا تجارتی حوالے سے تعلق رہا، وہ بھی اس کے معترف اور آپؐ کی عظمت کے قائل نظر آتے ہیں، کفّارِ مکہ نے آپؐ کو ’’صادق و امین‘‘ کے خطابات سے نوازا۔ سائب نامی ایک صحابیؓ جب مسلمان ہو کر خدمتِ نبویؐ میں حاضر ہوئے، تو لوگوں نے ان کی تعریف کی، آپؐ نے فرمایا: ’’میں انہیں تم سے زیادہ جانتا ہوں۔ سائبؓ نے کہا، آپؐ پر میرے ماں باپ قربان ہوں، آپؐ میرے شریکِ تجارت تھے، کتنے اچھے شریک تھے، نہ کھینچا تانی کرتے اور نہ جھگڑا کرتے تھے‘‘ (ابو دائود)۔
قرآنِ کریم میں ارشادِ ربّانی ہے: ’’اے لوگو، جو ایمان لائے ہو، آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقوں سے نہ کھائو، مگر یہ کہ تجارت ہو، تمہاری باہمی رضا مندی سے‘‘ (سورۃ النساء: 29)۔ اس ارشادِ ربّانی سے حلال ذرائع سے مال کے حصول اور کسبِ حلال کی اہمیت واضح ہوتی ہے، جب کہ ناجائز ذرائع سے لوگوں کا مال حاصل کرلینے کو قرآن نے باطل قرار دیا ہے، ناجائز منافع خوری، دھوکا دہی اور گراں فروشی بھی باطل مال کے زمرے میں آتے ہیں، جسے حرام اور ناجائز قرار دیا گیا ہے۔ رسولِ اکرمؐ کا ارشادِ گرامی ہے: ’’سچّے اور امانت دار تاجر روزِ محشر انبیاءؑ، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوںگے‘‘۔ اس فرمانِ نبویؐ میں راست گو اور دیانت دار تاجر کے مقام ومرتبے کو بیان کرتے ہوئے گویا اسلامی معاشرے کے ہر تاجر کو دیانت داری، معاملات کو صاف رکھنے اور راست گوئی کی تعلیم دی گئی ہے، یہ اسلام کے معاشی نظام اور تجارتی اقدار کا بنیادی ستون ہے۔ رسول اکرمؐ کا ارشادِ گرامی ہے: ’’ساری مخلوق اللہ کا کنبہ ہے، اللہ کو اپنی مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب وہ ہے، جو اس کے کنبے سے زیادہ اچھا سلوک کرے‘‘ (مشکوٰۃ/ باب الشفقۃ والرحمۃ علی الخلق)۔
سیدنا انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرمؐ نے ارشاد فرمایا: ’’قسم ہے اُس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، کوئی بندہ اُس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا، جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی کچھ نہ چاہے، جو اپنے لیے چاہتا ہے‘‘ (بخاری)۔ گراں فروشی اور ناجائز منافع خوری سے انسانوں کے حقوق متاثر ہوتے ہیں، اعلیٰ اخلاقی اقدار پامال ہوتی ہیں، معاشی اور معاشرتی توازن میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے، لہٰذا اسلام نے اس کی مذمّت کرتے ہوئے اسے معاشی استحصال کا سبب اور ناجائز قرار دیا ہے۔ اسلام اس امر کا خواہاں ہے کہ تاجر اور صنعت کار کا یہ حق ہے کہ وہ شرعی اور معاشرتی حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنی جائز ضرورتوں کی تکمیل کرے، تاہم اُسے اپنے اس فرض سے غافل نہیں ہونا چاہیے کہ اُس کی تجارتی اور کاروباری سرگرمیاں انسانیت کے لیے خیر و فلاح اور خدمتِ خلق کی ضامن ہوں۔ اُس کی بنیاد ایثار و ہم دردی اور دیانت و امانت پر ہو۔ کاروباری دیانت کا ایک اصول یہ ہے کہ اشیائے صرف اور بنیادی ضروریاتِ زندگی کی اشیاء کی قیمتیں اور اُن کے نرخ جائز حدود میں رکھے جائیں۔ صارفین پر ناجائز دبائو نہ ڈالا جائے۔ گراں فروشی اور ناجائز منافع خوری کو فقہاء نے ’’غبنِ فاحش‘‘ سے تعبیر کیا ہے اور یہ اُصول متعین کیا گیا ہے کہ ناجائز منافع خوروں اور گراں فروشوں کو اسلامی ریاست عادلانہ اور جائز مناسب نرخ پر اشیائے صرف اور ضروریاتِ زندگی کے سامان کو فروخت کرنے پر پابند کرے۔
علاوہ ازیں قانون شکنی اور اس کی خلاف ورزی کی صُورت میں اُن کے خلاف تادیبی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے۔ نبی صادق و امین حضرت محمدؐ نے تجارت و معیشت کی ایسی تمام صُورتوں کو حرام اور ناجائز قرار دیا، جو غیر عادلانہ بنیادوں پر استوار ہوتی ہیں، جس سے براہِ راست انسانوں کے حقوق متاثر ہوتے ہیں۔ چناںچہ گراں فروشی اور ناجائز منافع خوری کے متعلق آپؐ نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص گرانی اور منہگائی کی غرض سے غلّہ اور دیگر اشیائے صرف روکتا ہے (ذخیرہ اندوزی کرتا ہے) وہ گناہ گار ہے‘‘ (صحیح مسلم، کتاب المساقاۃ)۔ آپؐ کا ارشادِ گرامی ہے: ’’ایسا شخص انتہائی بُرا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ غلّہ (اشیائے صرف) کو سستا کردے، تو وہ افسردہ ہوجائے اور منہگا ہوجائے تو اظہارِ مسرت کرے‘‘ (مشکوٰۃ)۔ امام بخاریؒ نے رسول اکرمؐ کا ارشادِ گرامی بیان فرمایا ہے کہ آپؐ نے ’’نجش‘‘ یعنی اشیائے صرف کو مہنگے داموں فروخت کرنے کی منصوبہ بندی کرنے سے بھی منع فرمایا‘‘ (صحیح بخاری، کتاب البیوع)۔
حضرت معقل بن یسارؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اکرمؐ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ: ’’جو شخص مسلمانوں کے بازار کے نرخ میں اس لیے دخل دے کہ اسے گراں کردے، تو اللہ تعالیٰ پر واجب ہوجاتا ہے کہ قیامت کے دن اُسے دہکتی ہوئی آگ میں ڈال دے‘‘ (سنن ابودائود)۔ ذخیرہ اندوزی، اشیائے صرف کی مصنوعی قلّت، گراں فروشی اور ناجائز منافع کے خاتمے کے لیے جس طرح تاجر برادری پر بنیادی ذمّے داری عاید ہوتی ہے، بالکل اسی طرح عوام النّاس کے بنیادی حقوق کا تحفّظ اور اس حوالے سے اقدامات کرنا ریاست کی بھی بنیادی ذمّے داری ہے۔ اسلام کے ابتدائی ادوار میں اس اہم مقصد کے حصول کے لیے مسلم حکم راں اور محکمۂ احتساب اپنی ذمّے داریاں ادا کرتے تھے۔ اسلام میں ریاست کا یہ بنیادی فریضہ ہے کہ وہ عوامی فلاح، عدل وانصاف کے قیام، تجارتی معاملات کی درستی، گراں فروشی، حرام اور ناجائز ذرائع آمدنی کے سدِّباب اور معاشی استحصال کے خاتمے کے لیے ایسے نگراں اور محتسب مقرّر کرے، جو اپنی ذمّے داریاں ادا کرتے ہوئے ناجائز تجارتی سرگرمیوں کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ اسلام میں ’’حسبہ‘‘ کا بنیادی مقصد امربالمعروف، نہی عن المنکر کا قیام، ناجائز اور اسلامی تعلیمات کے منافی تجارتی سرگرمیوں کو اسلامی تعلیمات اور اخلاقی اقدار کا پابند بنانا ہے۔ اس کارِ خیر کا آغاز عہدِ نبویؐ میں ہوا، روایت کے مطابق آپؐ بنفسِ نفیس بازار تشریف لے جاتے اور تجارتی سرگرمیوں کی نگرانی فرماتے۔
اسلامی معاشرے میں تاجر برادری کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اُنہیں معاشی، معاشرتی اور تجارتی سرگرمیوں میں دیانت و امانت، عدل و احسان، ایثار و ہم دردی کے جذبات اور اخلاقی اقدار پیشِ نظر رکھنی چاہئیں۔ ناجائز اور اخلاقی اقدار کے منافی تجارتی سرگرمیوں سے گریز کرنا چاہیے۔ ایثار، ہم دردی اور نفع رسانی وہ اعلیٰ اخلاقی قدر ہے، جس پر اسلام نے بے حد زور دیا ہے۔ رسول اکرمؐ کا فرمان ہے: ’’لوگوں میں بہتر وہ ہے جو انسانوں کو نفع پہنچاتا ہے‘‘۔ رمضان المبارک کا یہ مہینہ نیکیوں کا موسمِ بہار ہے، اس میں ہر نیکی کا اجر بڑھا دیا جاتا ہے، یہ ہم دردی اور غم خواری کا مہینہ ہے، اس ’’شہر المواساۃ‘‘ میں ہمیں، بالخصوص تاجروں کو، ایثار، خیر خواہی، خدمتِ خلق اور نفع رسانی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اس طرح کہ اپنے لیے تو سب ہی جیتے ہیں اِس جہاں میں… ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا۔
ڈاکٹر حافظ محمد ثانی
گلزار
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: گراں فروشی اور ناجائز منافع خوری اسلامی تعلیمات کے منافی تجارتی معاملات میں میں دیانت و امانت تجارتی سرگرمیوں اور نفع رسانی اخلاقی اقدار ہم دردی اور اشیائے صرف اور تجارتی س حوالے سے دھوکا دہی کرتے ہوئے رسول اکرم کا ارشاد حرام اور گرامی ہے قرار دیا ہوتی ہے اور ا س ہے کہ ا اور اس کے لیے گیا ہے
پڑھیں:
سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔
اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔
آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔
موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔
یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔
حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔
عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔
بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔
وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔