بلال قریشی کا احمد شہزاد سے متعلق پی سی بی سے بڑا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
پاکستانی اداکار بلال قریشی نے پاکستان کرکٹ بورد (پی سی بی) سے کرکٹر احمد شہزاد کو ایک موقع دینے کی درخواست کردی۔
سوشل میڈیا پر قومی ٹیم کے سابق کھلاڑی احمد شہزاد کا ایک کلپ تیزی سے وائرل ہورہا ہے جس میں وہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے حالیہ ایڈیشن میں منتخب نہ ہونے پر شکوہ کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ عمر اکمل اور احمد شہزاد نے اب تک کرکٹ سے باضابطہ ریٹائرمنٹ نہیں لی اور ان کا شکوہ ہے کہ بورڈ انہیں مواقع فراہم نہیں کررہا، یہاں تک کہ انہیں پی ایس ایل میں بھی منتخب نہیں کیا جاتا۔
View this post on Instagramپاکستانی اداکار بلال قریشی نے احمد شہزاد کا کلپ انسٹاگرام پر شیئر کیا اور کیپشن میں انہوں نے لکھا ’میں پی سی بی سے درخواست کرتا ہوں کہ احمد شہزاد کو ایک موقع دے تاکہ وہ اپنے 9 سالہ بیٹے اور پوری قوم کو ثابت کرسکے وہ کھیل سکتا ہے۔
وائرل ویڈیو میں نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں میزبان تابش ہاشمی نے احمد شہزاد سے سوال کیا کہ آپ پی ایس ایل کی وننگ ٹیم کا حصہ رہ چکے ہیں لیکن گزشتہ تین سال سے لیگ سے باہر ہیں تو آپ کو کیسا لگتا ہے؟
Ahmad Shahzad got emotional during the show "Harna Mana Hai "
Do you agree with him ?
Don't you think k abi b kahin na kahin Ahmad Shahzad main cricket baki hai?
Yar is bandy ny 18 19 saal cricket ko diye humara national hero hai zyadti mat karo????
@TheRealPCB @MohsinnaqviC42 pic.
احمد شہزاد نے کہا ’مجھے اپنے لیے بہت دکھ ہوتا ہے، ساتھی کھلاڑیوں کو دیکھ کر خوشی بھی ہوتی ہے لیکن اپنے لیے افسردہ ہوجاتا ہوں‘۔
احمد شہزاد یہ کہتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے کہ ’سب سے زیادہ دکھ اس بات کا ہے کہ میرا بیٹا اب 9 سال کا ہوگیا ہے اور وہ مجھے کھیلتا دیکھنا چاہتا ہے‘۔
میزبان تابش ہاشمی یہ صورتحال دیکھ کر فوری طور پر اپنی سیٹ سے اٹھ کر احمد شہزاد کے پاس پہنچے اور انہیں گلے لگاکر تسلی دی۔
آنکھوں سے جاری اشک پوچھتے ہوئے احمد شہزاد نے مزید کہا کہ ’بیٹا میرے ساتھ سوتا ہے، وہ میرا دل رکھنے کے لیے کہتا ہے بابا مجھے یاد ہے آپ کھیلتے تھے لیکن اب میں آپ کو اچھے طریقے سے یاد رکھ پاؤں گا‘۔
ان کا کہنا تھا کہ میں ویسے خوش ہوں لیکن یہ چیز ہے جو میرے دل کو لگی اور مجھے شدید دکھ ہوتا ہے‘۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔