Jasarat News:
2026-06-03@03:26:05 GMT

بی این پی کی 212 ،جماعت اسلامی کی 77نشستیں، سرکاری نتائج

اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260214-01-19
ڈھاکا،اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)بنگلا دیش کے الیکشن کمیشن میں ملک میں گزشتہ روز ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے نتائج کا اعلان کر دیا جس کے مطابق طارق رحمان کی بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) دو تہائی اکثریت سے کامیاب ہو گئی۔الیکشن کمیشن بنگلادیش کی جانب سے جاری کردہ سرکاری نتائج کے مطابق 299 نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں بی این پی نے 212 نشستیں لیکر واضح برتری حاصل کر لی ہے جبکہ جماعت اسلامی 77 نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت کا تختہ الٹنے میں اہم کردار ادا کرنے والی جین زی کی نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) 30 میں سے صرف6 نشستوں پر کامیاب ہو سکی۔ اسلامی اندلون بنگلادیش ایک نشست حاصل کر سکی۔بنگلادیش خلافت مجلس نے 2 نشستیں حاصل کیں جب کہ لافت مجلس اور دیگر مذہبی و سیاسی جماعتوں کی ایک ایک نشست ہے۔آزاد امیدواروں نے 7 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ چٹاگانگ کے چند حلقوں کے نتائج عدالت میں زیرسماعت ہیں۔الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابات میں مجموعی ٹرن آؤٹ 59.

44 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔بنگلا دیش کے ممکنہ وزیر اعظم طارق رحمان نے کارکنوں اور عوامی وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عوام خود کو محفوظ تصور کریں، انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنائے۔طارق رحمان نے خواتین کے حقوق اور معاشرے میں ان کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی آدھی آبادی خواتین پر مشتمل ہے، اس لیے ہماری جماعت ان کی فلاح و بہبود اور ترقی پر خصوصی توجہ دے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کو بااختیار بنائے بغیر قومی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔بی این پی کے منشور میں غریب خاندانوں کے لیے مالی امداد، وزیر اعظم کے عہدے کی مدت کو 10 سال تک محدود کرنا، غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعے معیشت کو مضبوط بنانا اور بدعنوانی کے خلاف اقدامات شامل ہیں۔انتخاب کے ساتھ ساتھ آئینی اصلاحات پر ریفرنڈم بھی کرایا گیا، جس میں دو مدت کی حد، غیر جانبدار نگران حکومت اور خواتین کی نمائندگی بڑھانے سمیت کئی تجاویز شامل تھیں۔ غیر سرکاری نتائج کے مطابق اکثریت نے اصلاحات کے حق میں ووٹ دیا ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ انتخاب بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔دوسری جانب جماعتِ اسلامی کے امیر شفیق الرحمان نے شکست تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ وہ مثبت اپوزیشن کا کردار ادا کریں گے۔انہوں نے ووٹ گنتی کے عمل پر غیر اطمینانی کا اظہار کرتے ہوئے انتخابی عمل پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔دریں اثناء جماعتِ اسلامی نے ووٹ گننے کے عمل پر دوبارہ سوالات اٹھائے ہیں۔جماعت اسلامی نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ نتائج میں تبدیلی کی گئی ،ہم انتخابات کے نتائج کے عمل سے مطمئن نہیں ہیں۔جماعت نے سب سے صبر و تحمل اختیار کرنے کی بھی اپیل کی۔جماعت اسلامی نے اپنے فیس بک پیج پر جاری بیان میں کہا کہ ووٹرز کی مثبت اور پرامن شمولیت کی تعریف کرتے ہیں، تاہم انتخابی نتائج کے عمل پر سوالات اٹھتے ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ 11 جماعتی اتحاد کے کئی امیدوار معمولی اور مشکوک فرق سے ہارے، غیر سرکاری نتائج میں بار بار تضادات اور غلط بیانی، انتخابی کمیشن کی جانب سے ووٹر ٹرن آؤٹ فیصد نہ جاری کرنا اور انتظامیہ کے کچھ حصوں کی بڑی پارٹی کی حمایت کے آثار، سب اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھتے ہیں۔جماعت نے عوام سے صبر کا مظاہرہ کرنے اور 11 جماعتی اتحاد کے باضابطہ پروگرام کا انتظار کرنے کی اپیل کی ہے اور کہا کہ بنگلادیش کے لیے ان کی جدوجہد جاری رہے گی۔یاد رہے کہ 300 نشستوں پر مشتمل بنگلادیش کے ہاؤس آف دی نیشن (جاتیا سنگساد) کے 299 حلقوں پر انتخابات ہوئے جبکہ ایک حلقے کے انتخابات جماعت اسلامی کے امیدوارکے انتقال کے باعث ملتوی کر دیے گئے۔ علاوہ ازیںبنگلادیش کے انتخابات میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے والی بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے رہنمانے کہا ہے کہ ان کی جماعت سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ کی حوالگی کے لیے بھارت سے باضابطہ طور پر مطالبہ کرے گی۔بی این پی کی پارٹی کمیٹی کے رکن کاکس بازار1 کے حلقہ انتخاب سے کامیاب ہونے والے صلاح الدین احمد نے ڈھاکا میں بی این پی کے دفتر کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت قانون کے مطابق شیخ حسینہ کی حوالگی کے لیے دباؤ ڈالے گی۔انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ بنگلادیش کی وزارتِ خارجہ اور بھارت کی وزارتِ خارجہ کے درمیان ہے، ہم بھارتی حکومت سے مطالبہ کریں گے کہ انہیں واپس بھیجا جائے تاکہ وہ عدالت میں مقدمات کا سامنا کریں۔خیال رہے کہ شیخ حسینہ اگست 2024 میں اپنی حکومت کے خلاف عوامی بغاوت کے بعد بھارت فرار ہوگئی تھیں۔گزشتہ برس نومبر میں ڈھاکا کی ایک عدالت نے انہیں انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں سزائے موت سنائی تھی۔ادھربی این پی نے دوبارہ اپنے رہنماؤں اور حامیوں سے کہا ہے کہ وہ فتح کی ریلیوں یا عوامی تقریبات سے گریز کریں۔پارٹی نے ایک ایکس پوسٹ میں کہا، کہ اس کے بجائے ہم قوم سے دعا کے دن کے طور پر گزارنے کی اپیل کرتے ہیں تاکہ بنگلہ دیش کے مستقبل کے لیے امن، استحکام اور رہنمائی حاصل ہو۔دریں اثناء بنگلہ دیش کے الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کو ’غیر جانبدار اور قابلِ اعتماد‘ قرار دیا ہے۔چیف الیکشن کمشنر نصیر الدین نے صحافیوں سے گفتگو میں کہامیں خود کو مطمئن محسوس کر رہا ہوں۔ ہم نے وعدہ کیا تھا کہ پْرجوش ماحول میں انتخابات کرائیں گے اور قوم کو مکمل طور پر غیر جانبدار اور قابلِ اعتماد الیکشن دیں گے اور ہمارا یقین ہے کہ ہم نے یہ ہدف حاصل کر لیا ہے۔ ہر کوئی اس کا اعتراف کر رہا ہے۔انھوں نے ووٹرز، سیاسی رہنماؤں اور صحافیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سب کے تعاون سے قابلِ قبول انتخابات ممکن ہو سکے۔الیکشن کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ گذشتہ روز ہونے والے انتخابات میں تقریباً 60 فیصد ووٹروں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے سربراہ طارق رحمان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا گیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے طارق رحمان کو بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی کی انتخابی کامیابی پر مبارکباد دی۔وزیرِاعظم آفس سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق وزیر اعظم نے بنگلادیش کے عوام کو کامیاب عام انتخابات کے انعقاد پر مبارکباد دی اور پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان دوطرفہ تعاون مزید بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی اور خطے کے امن و ترقی کے امور پر تبادلہ خیال بھی کیا۔اعلامیے کے مطابق دونوں رہنماؤں نے بیگم خالدہ ضیا کی پاک بنگلا دیش تعلقات کیلیے خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ رہنماؤں نے رابطے میں رہنے اورعوامی فلاح کے لیے مل کرکام کرنے پر اتفاق کیا۔اعلامیے کے مطابق وزیراعظم نے طارق رحمان کو جلد پاکستان کے دورے کی دعوت دی۔ادھرچین کے سفارتخانے نے بنگلہ دیش میں پارلیمانی انتخابات کو ’کامیاب‘ قرار دیتے ہوئے ڈھاکا اور بی این پی کو برتری حاصل کرنے پر مبارکباد دی ہے۔جمعے کو فیس بک پر جاری پیغام میں سفارتخانے نے کہا کہ وہ نئی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے اور چین بنگلہ دیش تعلقات کے نئے ابواب رقم کرنے کے منتظر ہیں۔چینی سرکاری میڈیا نے بھی ووٹوں کی گنتی کی کوریج میں مقامی میڈیا کی بی این پی کی فتح کی پیش گوئی کا بڑے پیمانے پر حوالہ دیا۔بیجنگ نے اگست 2024 میں عبوری حکومت کے قیام کے بعد ڈھاکا کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کے لیے سرمایہ کاری بڑھا کر آٹھ کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ دونوں ممالک نے دفاع اور طبی شعبوں میں تعاون کو بھی بڑھایا ہے۔

ڈھاکا: بنگلادیش کے عام انتخابات میں کامیابی کے بعد بی این پی کے سربراہ طارق رحمن خوشی کا اظہار کررہے ہیں

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: دیش نیشنلسٹ پارٹی کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات میں جماعت اسلامی الیکشن کمیشن سرکاری نتائج بنگلادیش کے ہونے والے نشستوں پر بنگلا دیش بنگلہ دیش بی این پی نتائج کے رہنماو ں کا اظہار انہوں نے کے مطابق کے ساتھ میں کہا کے عمل کے لیے دیش کے

پڑھیں:

گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ

صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کو متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا ووٹ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کسی قسم کی مداخلت یا دباؤ جمہوری اقدار کے منافی ہوگا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ صرف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے ہو کر گزرتا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی روایت نے ماضی میں پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے دوچار کیا، اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے فیصلے کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں عوام نے اپنا واضح فیصلہ دیا تھا، تاہم عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔

حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے مساوی اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے دباؤ، جانبداری اور غیر ضروری مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ عوام اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں گے، عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے انتخابات میں عوامی حمایت کے ساتھ بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی ممکن نہیں، لہذا تمام متعلقہ حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کا ہر صورت احترام کیا جائے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ