کراچی کے حق اور با اختیار شہری حکومت کیلیے آج سندھ اسمبلی پر دھرنا دیں گے،منعم ظفر
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے امیر ضلع گلبرگ کامران سراج، ٹاؤن چیئرمین گلبرگ نصرت اللہ، وائس چیئرمین محمد الیاس، چیئرمین یوسی 5 عارف منیر کے ہمراہ ٹی ایم سی گلبرگ کے تحت لال قلعہ پارک فیڈرل بی ایریا بلاک 8 عزیز آبادمیں 3 روزہ فلاور شو کا افتتاح کردیا ،افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے منعم ظفر خان نے کہا کہ جماعت اسلامی کراچی کے عوام کو ان کا حق دلانے ، بااختیار شہری حکومت کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی اورآج سندھ اسمبلی کے باہر دھرنا دے گی۔ جماعت اسلامی عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔ شہر کے حق پر کسی کو بھی ڈاکا ڈالنے نہیں دیں گے۔ جن لوگوں نے شہریوں سے جینے کا حق چھینا ہے ان کا تعاقب کریں گے۔ جماعت اسلامی کے 9 ٹاؤنز میں جس طرح تعمیر و ترقی کے کام ہورہے ہیں وہ سب کے سامنے ہیں۔ گزشتہ ڈھائی سال کے عرصے میں جماعت اسلامی کے ٹاونز نے واٹر اینڈ سیوریج کی مد میں 2 ارب روپے خرچ کیے جو صوبائی حکومت کے ذمے تھے۔ جماعت اسلامی ایک جانب تعمیر و ترقی کا کام اور دوسری جانب صوبائی حکومت سے اختیارات لینے کے لیے جدوجہد بھی کررہی ہے جبکہ صوبائی حکومت اختیارات اور وسائل دینے کے لیے بھی تیار نہیں ہے ۔ کراچی کے عوام ملک میں سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرتے ہیں ان کا حق ہے کہ انہیں سہولیات فراہم کی جائیں۔ گلبرگ ٹاؤن کا 25 سال قبل سلوگن تھا کہ پھول جیسے لوگ پھول جیسا ٹاؤن اور آج بھی یہی سلوگن ہے۔ کراچی دنیا کے بڑے شہروں میں شمار ہوتاہے لیکن کراچی کو جان بوجھ کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی صوبے سندھ پر18 سال سے قابض ہے۔ 21 سال سے کے فور کا منصوبہ مکمل نہیں ہوا اور نہ ہی شہریوں کے لیے ایک بوند پانی کا اضافہ ہوا۔ شہر میں 12 سے 15 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہے۔ حکمران عوام کو پانی،بجلی، سڑکوں سمیت دیگر سہولیات نہیں دے رہے۔ کریم آباد انڈر پاس ، ریڈ لائن نا مکمل منصوبے پیپلز پارٹی کی بد ترین نااہلی، کرپشن کا شاہکار ہے۔ اگر صوبائی حکومت عوام کو جینے کا حق نہ دے تو عوام چین سے نہیں بیٹھیں گے۔اپنا حق لے کر رہیں گے ۔ کامران سراج نے کہا کہ الحمدللہ آج ایک اور وعدے کی تکمیل کرکے لال قلعہ پارک بحال کیا گیا ہے۔ ہر طرف رنگ بکھرے ہوئے ہیں۔ گلیاں اور سڑکیں روشن ہیں،ہم چمکتا دمکتا گلبرگ ٹاؤن بنانے جارہے ہیں۔ محدود وسائل اور اختیارات نہ ہونے کے باوجود کام کر رہے ہیں۔ تعمیر و ترقی کا سفر اور کراچی کو حقوق دلانے کی جدوجہد بھی جاری رہے گی۔ نصرت اللہ نے کہا کہ اہل محلہ عزیز آباد کو پارک کی بحالی پر مبارکباد پیش کرتا ہوں اور سالانہ فلاور شو کی تقریب میں خوش آمدید کہتے ہیں ، ہم گلبرگ ٹاؤن میں شعبہ صحت اور تعلیم پر بھی کام کررہے ہیں اور کراچی کے عوام پر احسان نہیں بلکہ کراچی کے عوام کے ٹیکسوں کے پیسوں کو عوام پر ہی خرچ کررہے ہیں،کراچی ٹیکس دیتا ہے تو ملک کی معیشت چلتی ہے لیکن کراچی کو اس کا حق نہیں دیا جاتا۔ آج سے 5 سال قبل حافظ نعیم الرحمن نے حق دو کراچی تحریک کا آغاز کیا تھا اورکہا تھا کہ ہم اختیارات کا رونا نہیں روئیں گے بلکہ اختیارات سے بڑھ کر کام کریں گے۔ جماعت اسلامی کے 9 ٹاؤنز حافظ نعیم الرحمن کے وژن کے مطابق کام کررہے ہیں۔ تقریب سے چیئرمین یوسی 5 عارف منیر صدیقی،وائس چیئرمین عرفان شاہ، ڈائریکٹر پارک ندیم حنیف نے بھی خطاب کیا۔اس موقع پرسیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری، سینئر ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات صہیب احمد ودیگر بھی موجود تھے۔
اسٹاف رپورٹر
سیف اللہ
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کراچی کے عوام جماعت اسلامی صوبائی حکومت عوام کو کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 23 جولائی 2026ء ) وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا اعلان کردیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا ہے۔ پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔ جبکہ ڈیزل کی قیمت فی لیٹر قیمت میں 3 روپے 62 پیسے اضافہ کر دیا گیا ہے، ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی۔(جاری ہے)
نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 کے بعد ایک دن کیلئے ہوگا۔ یاد رہے وفاقی کابینہ نے پیٹرولیم مصنوعات کے لیے روزانہ قیمتوں کے تعین کا نیا نظام منظور کر لیا جس کے تحت اوگرا اب پیٹرول اور ڈیزل کی ایکس ڈپو قیمتیں روزانہ جاری کرے گا۔ پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں گزشتہ سات کاروباری دن کی اوسط عالمی قیمت کے مطابق ہوں گی، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا تعین عالمی مارکیٹ کے حساب سے کیا جائے گا۔ قیمتوں کے اعلان کے لیے وزیراعظم یا وفاقی حکومت کی پیشگی منظوری درکار نہیں ہوگی جبکہ اوگرا بغیر وزیراعظم یا حکومت کی منظوری کے قیمتوں کا اعلان کرے گا۔