بے لگام / ستارچوہدری
ہم اکثر بھول جاتے ہیں ، قید میں صرف ایک لیڈر نہیں، ایک انسان بھی ہوتا ہے ۔ ایک ایسا انسان جس کے بھی درد ہوتے ہیں، جس کی بھی آنکھیں ہوتی ہیں، جس کے بھی خواب ہوتے ہیں۔ مگر وہ انسان کوئی عام وجود نہیں ہوتا، وہ ایسا وجود ہوتا ہے جو زخموں کو تمغوں کی طرح پہنتا ہے ، جو تکلیف کو اپنی خاموش طاقت بنا لیتا ہے ، اور جو اندھیرے میں بھی سیدھا کھڑا رہنے کا ہنر جانتا ہے ۔ وہ انسان دیواروں سے نہیں ڈرتا، کیونکہ اس نے پہاڑوں سے ٹکرانے کی عادت بنائی ہوتی ہے ۔ وہ زنجیروں سے نہیں گھبراتا، کیونکہ اس کی سوچ ہتھکڑیوں سے زیادہ مضبوط ہوتی ہے ۔ اس کی آنکھ اگر بینائی کھو بھی دے تو بھی اس کا وژن اندھا نہیں ہوتا، کیونکہ کچھ لوگ آنکھوں سے نہیں حوصلے سے دیکھتے ہیں۔ وہ جانتا ہے کہ قید وقتی ہوتی ہے ، لیکن جھک جانا ہمیشہ کیلئے موت بن جاتا ہے ۔ اور وہ جھکنے والوں میں سے نہیں ہوتا۔ وہ، وہ ہوتا ہے جسے تاریخ سلاخوں سے نہیں سچ سے پہچانتی ہے ۔۔۔۔اور تاریخ ہمیشہ انہی کو یاد رکھتی ہے جو اندھیروں میں بھی روشنی کی ضد کرتے ہیں۔ تاریخ کا اصول بڑا سادہ ہے جو طاقت کے ساتھ کھڑا ہو وہ آج جیتتا ہے ، جو سچ کے ساتھ کھڑا ہو وہ ہمیشہ جیتتا ہے ۔کپتان آج قید میں ہے لیکن وہ کہانی بن چکا ہے اور کہانیاں سلاخوں میں نہیں رہتیں۔
اصل سوال یہ نہیں کہ عمران خان کب رہا ہوگا، اصل سوال یہ ہے کہ یہ قوم کب آزاد ہوگی۔۔۔؟عدالتیں فیصلے سناتی ہیں لیکن تاریخ فیصلے محفوظ رکھتی ہے ۔ ہر دور میں طاقتور یہ سمجھتا ہے کہ وہی سچ ہے اور قیدی جھوٹ۔ لیکن صدیوں بعد نام قیدیوں کے زندہ رہتے ہیں اورتخت مٹی میں مل جاتے ہیں۔تاریخ میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں، جو اقتدار سے بڑے ہوتے ہیں اور کچھ اقتدار ایسے ہوتے ہیں جو اپنے خوف سے چھوٹے ۔ کپتان آج کسی جیل کی سلاخوں کے پیچھے نہیں، وہ دراصل اس نظام کے ضمیر میں قید ہیں جو عوام کو خاموش رکھ کر خود کو محفوظ سمجھتا ہے۔ تین سال ہوچکے ہیں ایک سابق وزیراعظم کو، ایک مقبول ترین لیڈر کو، ایک کروڑوں لوگوں کی امید کو قید میں رکھے ہوئے ۔۔۔ اور جرم۔۔۔؟نہ قتل، نہ کرپشن، نہ لوٹ مار۔ جرم صرف یہ کہ اس نے عام آدمی کو بتایا کہ تم غلام نہیں ہو، تم شہری ہو، تمہاری آواز کی قیمت ہے ۔ یہ وہ جرم ہے جو ہر آمر کو، ہر جعلی جمہوریت کو، ہر کرسی کے پجاری کو ناقابلِ معافی لگتا ہے ۔عمران خان نے تین اسپتال بنائے جہاں عوام کا مفت علاج ہوتا ہے لیکن آج وہی شخص اپنی آنکھ کا علاج نہیں کرا سکتا۔ وہ شخص جس نے لاکھوں آنکھوں کو امید دی آج اپنی آنکھ کی بینائی کھو بیٹھا۔۔۔۔۔ اور ریاست کہتی ہے ” کتابیں نہ پڑھا کریں” ۔۔۔یہ کوئی جملہ نہیں، یہ ایک نظام کی ذہنیت ہے ۔ یہ وہ ریاست ہے جو چاہتی ہے قیدی اندھا بھی ہو، خاموش بھی۔۔۔۔ اور بے خبر بھی۔اور جب حکومتی بونے ایک قیدی کی بیماری پر طنز کریں تو سمجھ لیں کہ مسئلہ عمران خان نہیں ان کی اپنی بے قدری ہے ۔
یہ جنگ کسی فرد کی نہیں یہ جنگ آواز اور خاموشی کے درمیان ہے ۔۔۔ اور عمران خان آج بھی آواز کے ساتھ کھڑا ہے ۔جب کوئی شخص عوام کو بولنا سکھا دے تو پھر ریاست کو لوہے کی سلاخوں کی ضرورت پڑتی ہے ۔ کپتان کی سب سے بڑی طاقت اس کی تقریریں نہیں تھیں، اس کی پارٹی نہیں تھی، اس کا اقتدار بھی نہیں تھا۔ اس کی اصل طاقت عوام کا جاگ جانا تھا۔وہ ماں جو پہلے خاموش رہتی تھی اب سوال کرنے لگی۔ وہ مزدور جو قسمت کو کوستا تھا اب حق مانگنے لگا۔ وہ نوجوان جو بیرونِ ملک بھاگنا چاہتا تھا اب ملک بدلنے کی بات کرنے لگا۔ یہ سب اس نظام کیلئے سب سے خطرناک چیز ہے ۔ کیونکہ بھوکے لوگ تو برداشت ہو جاتے ہیں لیکن باخبر لوگ نہیں۔ اسی لیے عمران خان کو صرف جیل میں نہیں ڈالا گیا بلکہ وقت سے کاٹنے کی کوشش کی گئی۔ خبروں سے دور، عوام سے دور، دنیا سے دور۔۔۔ اور اب صحت سے بھی دور۔ قانون کہتا ہے قیدی کو علاج کا حق ہے لیکن یہاں قانون طاقت کے قدموں میں بیٹھا ہے ۔ یہاں انصاف اندھا نہیں، جان بوجھ کرآنکھیں بند کیے بیٹھا ہے ۔ یہ سب بدلہ نہیں یہ خوف ہے ۔ خوف اس دن سے جب عمران خان دوبارہ باہر آئے گا اور وہی آواز پھر سے دلوں کو جگا دے گی۔ کیونکہ قید جسم کو تو توڑ سکتی ہے خیال کو نہیں۔
یہ سمجھنا سب سے بڑی غلطی ہے کہ عمران خان کی قید صرف عمران خان کی کہانی ہے ۔۔۔ نہیں۔۔۔ یہ ایک قوم کی کہانی ہے ۔ جب ایک لیڈر کو عوام سے کاٹ دیا جاتا ہے تو دراصل عوام کو اپنے حق سے کاٹا جاتا ہے۔ یہ قید ایک جسم کی نہیں ایک سوال کی ہے ۔ وہ سوال جوعمران خان نے اٹھایا تھا کیا پاکستان صرف طاقتوروں کیلئے ہے یا عام آدمی کیلئے بھی۔۔۔؟ اسی سوال نے اسے خطرناک بنا دیا۔ یہاں جیلیں مجرموں کیلئے نہیں بلکہ سچ بولنے والوں کیلئے ہوتی ہیں۔ اورعدالتی کمرے انصاف کیلئے نہیں بلکہ وقت گزارنے کیلئے ۔ جب ریاست کسی کی بیماری پر ہمدردی کے بجائے طنز کرے تو یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ یہاں مسئلہ عمران خان نہیں، انسانیت ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہر ہنسی، ہر طنز، ہرتضحیک اصل میں خود کو یقین دلانے کی کوشش ہے کہ ” ہم مضبوط ہیں”، حالانکہ سب ڈرے ہوئے ہیں۔
کپتان آج قید میں ہے لیکن وہ کہانی بن چکا ہے اور کہانیاں سلاخوں میں نہیں رہتیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ عمران خان کب رہا ہوگا، اصل سوال یہ ہے کہ یہ قوم کب آزاد ہوگی۔۔۔؟
٭٭٭
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: اصل سوال یہ ہوتے ہیں سے نہیں نہیں ہو جاتا ہے ہوتا ہے ہے لیکن
پڑھیں:
وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس ) وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چین کی معروف کمپنی فیمسن کے چیف ایگزیکٹو افسر جیک چین کی قیادت میں وفد نے ملاقات کی، جس میں پاکستان میں غذائی تحفظ، جدید زرعی ٹیکنالوجی اور فوڈ اسٹوریج کے منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم نے چینی وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین مثالی دوست ہیں، جن کے درمیان معاشی شراکت داری اور دوستانہ تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بزنس ٹو بزنس تعاون سے یہ دوستی مزید مستحکم ہوگی۔شہباز شریف نے فیمسن کی جانب سے پاکستان میں اجناس کے اسٹوریج مراکز کو جدید اسٹیٹ آف دی آرٹ مراکز میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی متعارف ہوگی، غذائی تحفظ میں بہتری آئے گی اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ان منصوبوں میں پاکستان کی افرادی قوت کی ہنرمندی اور پیشہ ورانہ تربیت کو بھی شامل کیا جائے تاکہ مقامی افرادی قوت جدید زرعی ٹیکنالوجی سے مستفید ہو سکے۔فیمسن کے چیف ایگزیکٹو جیک چین نے پرتپاک میزبانی پر وزیراعظم اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم کے حالیہ دور چین کے دوران ہونے والی ملاقات کے نتیجے میں وہ پاکستان آئے ہیں تاکہ غذائی تحفظ سے متعلق قابلِ عمل منصوبوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرپراسیکیوٹر جنرل کی تعیناتی اسلام آباد بار سے ہو گی:اعظم نذیر تارڑ اگلی خبرلاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم