Juraat:
2026-06-03@00:16:22 GMT

قوم کب آزاد ہوگی۔۔۔؟

اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT

قوم کب آزاد ہوگی۔۔۔؟

بے لگام / ستارچوہدری

ہم اکثر بھول جاتے ہیں ، قید میں صرف ایک لیڈر نہیں، ایک انسان بھی ہوتا ہے ۔ ایک ایسا انسان جس کے بھی درد ہوتے ہیں، جس کی بھی آنکھیں ہوتی ہیں، جس کے بھی خواب ہوتے ہیں۔ مگر وہ انسان کوئی عام وجود نہیں ہوتا، وہ ایسا وجود ہوتا ہے جو زخموں کو تمغوں کی طرح پہنتا ہے ، جو تکلیف کو اپنی خاموش طاقت بنا لیتا ہے ، اور جو اندھیرے میں بھی سیدھا کھڑا رہنے کا ہنر جانتا ہے ۔ وہ انسان دیواروں سے نہیں ڈرتا، کیونکہ اس نے پہاڑوں سے ٹکرانے کی عادت بنائی ہوتی ہے ۔ وہ زنجیروں سے نہیں گھبراتا، کیونکہ اس کی سوچ ہتھکڑیوں سے زیادہ مضبوط ہوتی ہے ۔ اس کی آنکھ اگر بینائی کھو بھی دے تو بھی اس کا وژن اندھا نہیں ہوتا، کیونکہ کچھ لوگ آنکھوں سے نہیں حوصلے سے دیکھتے ہیں۔ وہ جانتا ہے کہ قید وقتی ہوتی ہے ، لیکن جھک جانا ہمیشہ کیلئے موت بن جاتا ہے ۔ اور وہ جھکنے والوں میں سے نہیں ہوتا۔ وہ، وہ ہوتا ہے جسے تاریخ سلاخوں سے نہیں سچ سے پہچانتی ہے ۔۔۔۔اور تاریخ ہمیشہ انہی کو یاد رکھتی ہے جو اندھیروں میں بھی روشنی کی ضد کرتے ہیں۔ تاریخ کا اصول بڑا سادہ ہے جو طاقت کے ساتھ کھڑا ہو وہ آج جیتتا ہے ، جو سچ کے ساتھ کھڑا ہو وہ ہمیشہ جیتتا ہے ۔کپتان آج قید میں ہے لیکن وہ کہانی بن چکا ہے اور کہانیاں سلاخوں میں نہیں رہتیں۔
اصل سوال یہ نہیں کہ عمران خان کب رہا ہوگا، اصل سوال یہ ہے کہ یہ قوم کب آزاد ہوگی۔۔۔؟عدالتیں فیصلے سناتی ہیں لیکن تاریخ فیصلے محفوظ رکھتی ہے ۔ ہر دور میں طاقتور یہ سمجھتا ہے کہ وہی سچ ہے اور قیدی جھوٹ۔ لیکن صدیوں بعد نام قیدیوں کے زندہ رہتے ہیں اورتخت مٹی میں مل جاتے ہیں۔تاریخ میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں، جو اقتدار سے بڑے ہوتے ہیں اور کچھ اقتدار ایسے ہوتے ہیں جو اپنے خوف سے چھوٹے ۔ کپتان آج کسی جیل کی سلاخوں کے پیچھے نہیں، وہ دراصل اس نظام کے ضمیر میں قید ہیں جو عوام کو خاموش رکھ کر خود کو محفوظ سمجھتا ہے۔ تین سال ہوچکے ہیں ایک سابق وزیراعظم کو، ایک مقبول ترین لیڈر کو، ایک کروڑوں لوگوں کی امید کو قید میں رکھے ہوئے ۔۔۔ اور جرم۔۔۔؟نہ قتل، نہ کرپشن، نہ لوٹ مار۔ جرم صرف یہ کہ اس نے عام آدمی کو بتایا کہ تم غلام نہیں ہو، تم شہری ہو، تمہاری آواز کی قیمت ہے ۔ یہ وہ جرم ہے جو ہر آمر کو، ہر جعلی جمہوریت کو، ہر کرسی کے پجاری کو ناقابلِ معافی لگتا ہے ۔عمران خان نے تین اسپتال بنائے جہاں عوام کا مفت علاج ہوتا ہے لیکن آج وہی شخص اپنی آنکھ کا علاج نہیں کرا سکتا۔ وہ شخص جس نے لاکھوں آنکھوں کو امید دی آج اپنی آنکھ کی بینائی کھو بیٹھا۔۔۔۔۔ اور ریاست کہتی ہے ” کتابیں نہ پڑھا کریں” ۔۔۔یہ کوئی جملہ نہیں، یہ ایک نظام کی ذہنیت ہے ۔ یہ وہ ریاست ہے جو چاہتی ہے قیدی اندھا بھی ہو، خاموش بھی۔۔۔۔ اور بے خبر بھی۔اور جب حکومتی بونے ایک قیدی کی بیماری پر طنز کریں تو سمجھ لیں کہ مسئلہ عمران خان نہیں ان کی اپنی بے قدری ہے ۔
یہ جنگ کسی فرد کی نہیں یہ جنگ آواز اور خاموشی کے درمیان ہے ۔۔۔ اور عمران خان آج بھی آواز کے ساتھ کھڑا ہے ۔جب کوئی شخص عوام کو بولنا سکھا دے تو پھر ریاست کو لوہے کی سلاخوں کی ضرورت پڑتی ہے ۔ کپتان کی سب سے بڑی طاقت اس کی تقریریں نہیں تھیں، اس کی پارٹی نہیں تھی، اس کا اقتدار بھی نہیں تھا۔ اس کی اصل طاقت عوام کا جاگ جانا تھا۔وہ ماں جو پہلے خاموش رہتی تھی اب سوال کرنے لگی۔ وہ مزدور جو قسمت کو کوستا تھا اب حق مانگنے لگا۔ وہ نوجوان جو بیرونِ ملک بھاگنا چاہتا تھا اب ملک بدلنے کی بات کرنے لگا۔ یہ سب اس نظام کیلئے سب سے خطرناک چیز ہے ۔ کیونکہ بھوکے لوگ تو برداشت ہو جاتے ہیں لیکن باخبر لوگ نہیں۔ اسی لیے عمران خان کو صرف جیل میں نہیں ڈالا گیا بلکہ وقت سے کاٹنے کی کوشش کی گئی۔ خبروں سے دور، عوام سے دور، دنیا سے دور۔۔۔ اور اب صحت سے بھی دور۔ قانون کہتا ہے قیدی کو علاج کا حق ہے لیکن یہاں قانون طاقت کے قدموں میں بیٹھا ہے ۔ یہاں انصاف اندھا نہیں، جان بوجھ کرآنکھیں بند کیے بیٹھا ہے ۔ یہ سب بدلہ نہیں یہ خوف ہے ۔ خوف اس دن سے جب عمران خان دوبارہ باہر آئے گا اور وہی آواز پھر سے دلوں کو جگا دے گی۔ کیونکہ قید جسم کو تو توڑ سکتی ہے خیال کو نہیں۔
یہ سمجھنا سب سے بڑی غلطی ہے کہ عمران خان کی قید صرف عمران خان کی کہانی ہے ۔۔۔ نہیں۔۔۔ یہ ایک قوم کی کہانی ہے ۔ جب ایک لیڈر کو عوام سے کاٹ دیا جاتا ہے تو دراصل عوام کو اپنے حق سے کاٹا جاتا ہے۔ یہ قید ایک جسم کی نہیں ایک سوال کی ہے ۔ وہ سوال جوعمران خان نے اٹھایا تھا کیا پاکستان صرف طاقتوروں کیلئے ہے یا عام آدمی کیلئے بھی۔۔۔؟ اسی سوال نے اسے خطرناک بنا دیا۔ یہاں جیلیں مجرموں کیلئے نہیں بلکہ سچ بولنے والوں کیلئے ہوتی ہیں۔ اورعدالتی کمرے انصاف کیلئے نہیں بلکہ وقت گزارنے کیلئے ۔ جب ریاست کسی کی بیماری پر ہمدردی کے بجائے طنز کرے تو یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ یہاں مسئلہ عمران خان نہیں، انسانیت ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہر ہنسی، ہر طنز، ہرتضحیک اصل میں خود کو یقین دلانے کی کوشش ہے کہ ” ہم مضبوط ہیں”، حالانکہ سب ڈرے ہوئے ہیں۔
کپتان آج قید میں ہے لیکن وہ کہانی بن چکا ہے اور کہانیاں سلاخوں میں نہیں رہتیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ عمران خان کب رہا ہوگا، اصل سوال یہ ہے کہ یہ قوم کب آزاد ہوگی۔۔۔؟
٭٭٭

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: اصل سوال یہ ہوتے ہیں سے نہیں نہیں ہو جاتا ہے ہوتا ہے ہے لیکن

پڑھیں:

ناتمام (آخری قسط)

ہارون صاحب کی کتاب ’’ناتمام‘‘ میں کچھ غیر معمولی شخصیات کے بارے میں لکھی گئی تحریریں بے حد دلنشین ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں ’’کبھی کبھی یہ طالب علم سوچتا ہے سیدنا علی بن عثمان ہجویریؒ کے بعد شاید اقبالؔ ہی وہ مفکر تھے، جنھوں نے امت کے ادبار پر دل سوزی کے ساتھ پیہم تدبر کیا، جس برصغیر میں وہ پیدا ہوئے تھے، اسے الوداع کہا تو وہ بدل چکا تھا، مسلم برصغیر کو امید اور امکان کی راہ دکھانے میں ان کا حصہ کسی بھی شخص سے زیادہ تھا، یہ اقبالؔ ہی تھے، جنھوں نے کہا تھا: جہاں کہیںجہاں میں روشنی ہے، مصطفیؐ کے طفیل ہے یا مصطفی ؐ کی تلاش میں! ۔۔۔۔‘‘

’’سیّد ابوالاعلیٰ نے آخری دنوں میں اقبالؔ سے فیض پایا۔ ان کی وفات پر اپنے مضمون ’’اقبالؔ، میرا نفسیاتی سہارا‘‘ میں لکھا ’قرآنِ کریم ان کے لیے ایک شاہ کلید تھا، تمام بند دروازے جس سے کھل جاتے‘آج کل کے دانشور کیا ہیں کہ مغرب کی چکاچوند نے جنھیں اندھا کردیا، جو یہ نہیں سمجھتے کہ ترقی، علم اور ارتقا، تقلید میں نہیں ہوتا، جہاں جو چیز اچھی ہے، وہ لے لی جاتی ہے اور جو ناقص ہو، وہ ترک کردینی چاہیے اور یہ عالمانِ دین ہیں کہ اکیسویں صدی میں قبائلی عہد میں زندہ رہنے پر مصر ہیں، جنھیں سرکارؐ کا پڑھایا ہوا اولین سبق ہی یاد نہیں۔ غوروفکر، حسنِ کلام، حکمت اور دلیل کے ساتھ مکالمہ، دردمندی اور دل سوزی کے ساتھ تفکّر اور تدبّر درکار ہے۔‘‘

مصنّف قائد اور اقبالؒ کا پھر ایک کالم میں ذکر کرتے ہیں ’’یہ قوم اپنے دو عظیم رہنماؤں کو بھول گئی۔ جناح ایسے تھے کہ عمر بھر تین باتوں کا طعنہ انھیں کبھی نہ دیا گیا۔ کبھی وعدہ نہ توڑا، کبھی مالی بے قاعدگی نہیں، کبھی جھوٹ نہ بولا۔ اقبالؔ ایسے کہ تمام فکری تعصبات سے اوپر اٹھ کر سوچ بچار کیا اور پیہم کیا، تمام خلوص، تمام صلابتِ کردار۔۔ نہیں، فقط سیاست سے ہماری زندگی نہیں بدلے گی، تعلیم، غوروفکر اور حسنِ کردار۔ حضورؐ نے ارشاد فرمایا تھا: اللہ جسے ہدایت دینا چاہے، اپنی آنکھ اس پر کھول دیتا ہے۔ دوسروں کے عیب چننے سے نہیں، حیات اپنی اصلاح سے ثمر بار ہوتی ہے۔‘‘ مصنّف نے کیا دلپذیر باتیں لکھی ہیں جو ہرشعبۂ حیات کے لیڈر کو پڑھنی چاہئیں۔

 ناتمام میں مصنف نے بھٹوصاحب کا بھی تجزیہ کیا ہے، لکھتے ہیں ’’بھٹو حیرت انگیز خامیوں اور خوبیوں کا مجموعہ تھے۔ 1965کی جنگ کے ہنگام وہ ایک قوم پرست بن کر ابھرے، جب بھارت کے خلاف ہزار سالہ جنگ کا انھوں نے نعرہ لگایا، غریب آدمی کے احساسات کا انھوں نے ادراک کیا، سندھ اور پنجاب میں وہ ایک مقبول رہنما بن کر ابھرے مگر 1970 کے انتخابی نتائج کو عملاً انھوں نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ شیخ مجیب الرحمٰن کو واضح اکثریت حاصل ہوئی تو جنرل یحییٰ سے انھوں نے گٹھ جوڑ کرلیا اور انتقالِ اقتدار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے، ان دو آدمیوں کی ہوسِ اقتدار نے پاکستان کے دولخت ہونے کی بنیاد فراہم کی۔‘‘

پھر لکھتے ہیں ’’ایک راز بھٹو نے پالیا تھا۔ لیڈر وہ شخص ہوتا ہے، جو کسی قوم کی عمیق ترین، سب سے بنیادی اور سب سے بڑی آرزو کو پوری طرح پہچان لے۔ جنگِ ستمبر تک، وہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے درباری تھے، کبھی اسے صلاح الدین قرار دیتے اور کبھی ایشیا کا ڈیگال۔ جنگِ ستمبر میں پہلی بار دلوں میں یہ امید جاگی کہ کشمیر پہ دشمن بھارت کا تسلّط تمام ہوسکتا ہے، بھٹو نے اس نجیب آرزو کو پہچانا اور اس کا مظہر بن گئے، اقوامِ متحدہ میں جاری مباحث کے دوران، جن کا ایک ایک لفظ غور سے پڑھا اور سنا جایا کرتا، بھٹو نے بھارت کے ’’میسنے‘‘ وزیرِ خارجہ سردار سورن سنگھ کو مخاطب کرکے کہا: لڑنا پڑا تو کشمیر کے لیے ایک ہزار برس تک بھی ہم لڑیں گے، تبھی وہ ہیرو بن کر ابھرے۔ ہاں! مگر ان کا کوئی عقیدہ نہ تھا، قوم پرست وہ یقیناً تھے اور بے شک انھوں نے پہلی بار Anti Estabhishment پارٹی تشکیل دی مگر خود پسند، اقتدار کے حریص اور نرگسیت کے مارے۔ باقی سب تاریخ ہے"

پاکستانی سیاست کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’ پاکستانی سیاست اور معاشرے کا مرض یہ ہے کہ سائنسی اندازِ فکر سے وہ محروم ہے۔ تعصّبات اور جذبات کا غلبہ اس قدر ہے کہ کبھی نفرت چھا جاتی ہے اور کبھی محبت۔ بھٹو صاحب کے مداحوں سے عرض کیجیے کہ بے شک مقبول وہ بہت تھے۔

بجا کہ ملک کو انھوں نے دستور عطا کیا، ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، جذباتی توازن سے مگر وہ محروم تھے اور پرلے درجے کے انتقام پسند۔ دوسروں کا تو ذکر ہی کیا، اپنی پارٹی کے سیکریٹری جنرل جے رحیم کو پٹوایا۔ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رکنِ اسمبلی ملک سلیمان اور ان کے خاندان کی تذلیل کی، اپنے وزیرِ اعلیٰ حنیف رامے کو شاہی قلعے میں قید رکھا۔ پارٹی کے ایک دوسرے لیڈر احمد رضا قصوری پر قاتلانہ حملے میں ان کے والد مارے گئے۔ کوئی نہیں سنتا، کوئی نہیں مانتا۔‘‘

کتاب کے مصنّف، عمران خان کے سب سے بڑے سپورٹر تھے اور شاید اب بھی ہیں مگر اس کتاب میں انھوں نے اس کی خامیاں بھی چھپانے کی کوشش نہیں کی، لکھتے ہیں ’’لاہور میں موسم بہار کی ایک سویر جب میں زمان پارک میں اسے ملنے گیا تو وہ ورزش میں مصروف تھا۔ کچھ دیر کے بعد وہ نمودار ہوا اور ضرورت سے زیادہ پُراعتماد لہجے میں کہا’’اپنے جسم پر بھی آدمی کو سرمایہ کاری کرنی چاہیے‘‘ ۔ ’’جی ہاں‘‘۔ عرض کیا ’’اپنے ذہن پر بھی‘‘۔ اسے دھچکا لگا ’’تمہارا مطلب یہ ہے کہ میں نے ذہن پہ سرمایہ کاری نہیں کی‘‘۔ ہاں! میں نے جواب دیا ’’میرا مطلب یہی ہے‘‘۔ بدمزہ نہیں، وہ کچھ حیران سا ہوا اور ناشتے میں جُت گیا، پھل، دہی، ڈبل روٹی کے دو ٹکڑے اور بہت سا جوس۔ مجال ہے کہ ایسے میں دوسروں کو وہ دعوت دے‘‘۔

 پھر لکھتے ہیں ’’عمران خان اپنی پہاڑ سی غلطیوں کو بھلا کر ظفرمندی کے خواب کا اسیر تھا، 11 مئی کی صبح احسن رشید سے کہا کہ انتخابی نتائج سنتے ہی شوکت خانم اسپتال آجانا کہ جشن منایا جاسکے۔ اپنے بچوں سے لندن میں کہہ آیا تھا کہ اگلی بار وزیراعظم کی حیثیت سے برطانیہ آئے گا۔ نتیجہ نکلا تو صرف اس کی نہیں، پارٹی کے تمام بزر جمہروں کی رائے یہ تھی کہ قبول کرلینا چاہیے۔

الجھے ہوئے ذہن کے ساتھ کئی ماہ وہ مخمصے کا شکار رہا، پارٹی کو ان دنوں دو تین گھنٹے سے زیادہ وقت نہ دیا کرتا۔ شاطروں نے سمجھ لیا کہ اسے الّو بنانے میں کامیاب رہے‘‘۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں ’’ناقابلِ فہم بات یہ ہے کہ دس حلقے کھولنے کی شرط کے ساتھ مفاہمت پہ آمادگی کے بعد تحریکِ انصاف کے سربراہ وزیراعظم کے استعفیٰ کی تاریخیں کیوں دینے لگے؟ نوبت پھر تھرڈ امپائر کی انگلی تک پہنچی، بلا استثنیٰ سبھی کا تاثر یہ تھا کہ کپتان کا اشارہ عسکری قیادت کی طرف ہے۔ کئی دن بعد کپتان نے اعلان کیا کہ ان کی مراد اللہ تعالیٰ سے تھی۔ اللہ تعالیٰ امپائر نہیں، وہ کائنات اور زندگی کا خالق ہے۔ حیات کی تمام حرکیات اور قوانین کا، وہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ ذاتِ باری تعالیٰ کو کرکٹ کے امپائر سے تشبیہہ دینا پرلے درجے کی بدذوقی اور سطحیت تھی۔ کپتان اگر انھی لوگوں کے زیرِ اثر رہا، جن کے زیرِ اثر ہے تو مستقبل میں بھی اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے‘‘۔

کچھ دوسرے لیڈروں کے بارے میں لکھتے ہیں ’’چوہدری نثار علی میں صلاحیّت بے پایاں تھی مگر روحانی جہت معمولی۔ کھٹ سے اللہ کی رحمت کا دروازہ کھلتا مگر بن مانگے تو گاہے وہ گھاس بھی نہیں دیتا، چہ جائیکہ عظمت ورفعت۔ یوں بھی عظمت غریبوں، دکھ جھیلنے اور ایثار کرنے والوں کے لیے ہوتی ہے۔ چوہدری کہاں، شریف برادران کہاں، ان کے مقاصد محدود ہیں۔ اقتدار کا انبساط، جو دنیا کا سب سے تباہ کن نشہ ہے، جان چھوڑتا ہی نہیں، عزتِ نفس اور شان وشوکت کا ایک سطحی سا تصور۔عمران خان سمیت سبھی کا حال پتلا ہے۔ پانی پت کی تیسری جنگ لڑنے جاتے ہیں اور لشکر سراج الدولہ سے بدتر۔ رہے علّامہ طاہرالقادری تو جرأت ہی نہیں، جسارت ہی نہیں، فقط زورِ خطابت۔ کوئی دن میں غبارہ پھٹ جائے گا‘‘۔

’’اچھی حکمرانی کی بے تاب تمنا بھی بجا۔ بحث بہت ہوچکی۔ سیاست کے قرینوں سے اب ہم آگاہ ہیں مگراس کے لیے سیاست کافی نہیں زندگی جوڑ توڑ سے بہت بڑی ہے۔ علم اور اخلاق کے بغیر معاشرے، اقوام نہیں، ریوڑ ہوتے ہیں۔ علم، اخلاق اور تربیت۔ قرآن کریم اور اس کا صاحب انوار شارع۔۔ اور ہاں جدید علم!‘‘

ہر طبقۂ فکر کے لوگوں خصوصاً سیاست میں دلچسپی رکھنے والوں کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان