ٹرمپ کا کاربن اخراج قوانین میں نرمی کا فیصلہ، عالمی تشویش بڑھ گئی
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ماحولیاتی پالیسی کے شعبے میں بڑا یوٹرن لیتے ہوئے سابق صدر باراک اوباما کے دور میں نافذ کیے گئے ایک اہم فیصلے کو منسوخ کر دیا ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق اس اقدام کے تحت گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سے متعلق سخت ضوابط میں نرمی کی گئی ہے، جسے وائٹ ہاؤس نے امریکی معیشت کے لیے ریلیف پیکیج قرار دیا ہے، تاہم عالمی سطح پر اس فیصلے نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
2009ء میں امریکی ماحولیاتی تحفظ کے ادارے (انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی) نے گرین ہاؤس گیسوں کو عوامی صحت کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کاربن اخراج کم کرنے کے قواعد متعارف کرائے تھے۔ انہی ضوابط کی بنیاد پر گاڑیوں اور صنعتی شعبے پر سخت پابندیاں عائد کی گئیں۔
اب ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ضرورت سے زیادہ ریگولیشن امریکی صنعت، خصوصاً آٹو سیکٹر، پر مالی بوجھ ڈال رہی تھی۔ سرکاری بیان کے مطابق نئی پالیسی سے گاڑیوں کی تیاری کی لاگت میں فی یونٹ ہزاروں ڈالر تک کمی آ سکتی ہے، جس کا فائدہ صارفین کو بھی ہوگا۔
دوسری جانب ماحولیاتی تنظیموں اور ماہرین نے اس فیصلے کو موسمیاتی تبدیلی کے خلاف عالمی کوششوں کے لیے شدید دھچکا قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا جیسے بڑے صنعتی ملک کی پالیسی میں نرمی عالمی درجہ حرارت میں اضافے کی رفتار تیز کر سکتی ہے۔
دوسری جانب متعدد تنظیموں نے بھی عدالت سے رجوع کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے، کیونکہ 2009 کا اقدام امریکی عدالتی فیصلے کے بعد سامنے آیا تھا جس نے وفاقی حکومت کو اخراج ریگولیٹ کرنے کا اختیار دیا تھا۔
ماہرین موسمیات خبردار کر رہے ہیں کہ اگر بڑی معیشتیں کاربن میں کمی کے وعدوں سے پیچھے ہٹتی ہیں تو اس کے اثرات ترقی پذیر ممالک پر زیادہ مرتب ہوں گے۔ پاکستان پہلے ہی شدید موسمی تغیرات، غیر معمولی بارشوں، سیلاب، خشک سالی اور گلیشیئرز کے پگھلنے جیسے چیلنجز سے دوچار ہے۔
عالمی سطح پر اخراج میں اضافہ زرعی پیداوار، پانی کے ذخائر اور غذائی سلامتی پر مزید دباؤ ڈال سکتا ہے، جس کا براہِ راست اثر پاکستان سمیت متعدد ممالک کی معیشت پر پڑنے کا خدشہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: دیا ہے
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔