گورننس میں ٹیکنالوجی کا بڑھتا ہوا عمل دخل عالمی منظر نامہ بدل رہا ہے: صدر
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) صدر مملکت آصف علی زرداری نے قیادت اور استحکام کے موضوع پر بین الاقوامی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ شرکاء کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتا ہوں۔ بین الاقوامی ورکشاپ کے شرکاء سے گفتگو باعث افتخار ہے۔ دنیا کی تیزی سے بدلتی جغرافیائی صورتحال میں سکیورٹی خطرات کا سامنا ہے۔ گورننس میں ٹیکنالوجی کا بڑھتا ہوا عمل دخل عالمی منظر نامہ بدل رہا ہے۔ دنیا کو موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج کا سامنا ہے۔ فیک نیوز بھی موسمیاتی تبدیلی کی طرح دنیا کیلئے ایک چیلنج ہے۔ سکیورٹی، ٹیکنالوجی، سائبر خطرات، انفارمیشن وار فیئر چیلنجز ہیں۔دریں اثناء صدر آصف علی زرداری نے فیڈرل ضیاء الدین یونیورسٹی اسلام آباد کی گورننگ باڈی کے پہلے اجلاس کی صدارت کی۔ چانسلر ڈاکٹر عاصم حسین نے گورننگ باڈی کے اراکین کا تعارف کرایا۔ صدر نے کہا کہ یونیورسٹی محض ایک اور تعلیمی ادارہ نہ بنے بلکہ اسے مستقبل سے ہم آہنگ، ٹیکنالوجی سے مزین مرکزِ امتیاز کے طور پر ترقی دی جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تعلیمی پروگرامز، اساتذہ کی بھرتی اور انفراسٹرکچر کی ترقی اعلیٰ قومی اور بین الاقوامی معیار کے مطابق ہو، اور ترقی کے ساتھ معیار کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے طبی تعلیم میں مصنوعی ذہانت کے انضمام، ڈیجیٹل ہیلتھ سسٹمز، ٹیلی میڈیسن اور ڈیٹا پر مبنی تحقیق کی اہمیت پر زور دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران پر امریکی جارحیت کے بعد عالمی توانائی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ برطانوی خام تیل 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات کا مربن خام تیل 108 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہونے لگا ہے، جو عالمی منڈی میں توانائی کی بڑھتی ہوئی بے یقینی کی عکاسی کرتا ہے۔ادھر قدرتی گیس کی قیمت بھی بڑھ کر 2.95 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (MMBtu) ہو گئی ہے، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں کشیدگی کے اثرات مزید نمایاں ہو رہے ہیں۔