کینیا نے 15 سال بعد صومالیہ کے ساتھ سرحد کھولنے کا اعلان کردیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بخبر رساں اداروں کے مطابق یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان سیکورٹی تعاون اور انٹیلی جنس شیئرنگ کے معاملات میں حالیہ مہینوں کے دوران نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔
اس حوالے سے کینیا کے صدر ولیم روٹو نے کہا ہے کہ اپریل سے سرحدی گزرگاہوں کے ذریعے باقاعدہ تجارتی اور سفری سرگرمیوں کا آغاز ہو جائے گا، جس سے مقامی معیشت کو سہارا ملے گا۔
یاد رہے کہ 2011 میں شدت پسند تنظیم الشباب کی کارروائیوں کے بعد سرحد بند کر دی گئی تھی۔ 2013 میں نیروبی کے ویسٹ گیٹ شاپنگ مال اور 2015 میں گاریسا یونیورسٹی پر حملوں نے سیکورٹی خدشات کو مزید گہرا کر دیا تھا، جس کے نتیجے میں سرحدی نگرانی سخت کر دی گئی تھی۔
اب حکام کا کہنا ہے کہ بہتر سرحدی انتظام، جدید نگرانی کے آلات اور رجسٹریشن نظام کے ذریعے خطرات کو کم کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے مویشیوں، زرعی اجناس اور دیگر اشیا کی قانونی تجارت کو فروغ ملے گا، جو تاریخی طور پر دونوں ممالک کے درمیان اہم رہی ہے۔
تاہم ناقدین خبردار کر رہے ہیں کہ سیکورٹی کے تقاضوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ حکومتی حلقوں کا اصرار ہے کہ نئی حکمت عملی کے تحت سرحد کھولنے کا اقدام علاقائی استحکام اور اقتصادی بحالی کے لیے سودمند ثابت ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں تیز ہواؤں کے ساتھ ہلکی بارش کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ ریسکیو 1122 نے صوبے بھر میں اپنی تمام ضلعی ٹیموں کو ہائی الرٹ کردیا ہے۔
ترجمان ریسکیو 1122 بلال احمد فیضی کے مطابق خراب موسمی صورتحال کے باعث ضلع بنوں کے مختلف علاقوں میں اب تک 20 سے زیادہ افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرتے ہوئے مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ مردان، پشاور اور دیگر اضلاع میں بھی آندھی اور تیز ہواؤں کے باعث متعدد ایمرجنسی واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
پشاور کے مختلف مقامات پر درخت گرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس کے بعد ریسکیو 1122 کی امدادی ٹیمیں رکاوٹیں ہٹانے اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔
بلال احمد فیضی نے کہا کہ ریسکیو 1122 کی تمام ضلعی ٹیمیں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فوری طور پر ریسکیو 1122 سے رابطہ کریں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بارش تیز ہوائیں خیبرپختونخوا زخمی وی نیوز