سرکاری اداروں کی ضروریات اور بڑھتے قرضے ملکی معیشت کیلیے چیلنج بن گئے
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
اسلام آباد: وفاقی وزارتِ خزانہ نے اپنی سالانہ کارکردگی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ سرکاری اداروں کے بڑھتے ہوئے قرضے اور مالی ضروریات قومی معیشت کیلئے سنجیدہ چیلنج بنتے جا رہے ہیں۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25 کے دوران سرکاری ملکیتی اداروں کا مجموعی منافع کم ہو کر تقریباً 709 ارب روپے رہ گیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں کمی ظاہر کرتا ہے۔
ایک دستاویز کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومت نے گزشتہ مالی سال میں ان اداروں کو تقریباً 2.
اسی طرح خالص مالی بہاؤ میں نمایاں کمی نے پالیسی سازوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومتی ضمانتوں، سبسڈی اور گردشی قرضوں پر انحصار نے قومی خزانے پر اضافی دباؤ ڈال دیا ہے۔
خصوصاً توانائی کے شعبے میں بڑھتے واجبات اور ادائیگیوں میں تاخیر نے لیکویڈیٹی کے مسائل کو مزید گہرا کیا ہے، جس کے اثرات تیل و گیس اور بجلی کی کمپنیوں پر واضح طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
وزارتِ خزانہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر سرکاری اداروں میں اصلاحات، شفافیت اور مالی نظم و ضبط کو یقینی نہ بنایا گیا تو یہ صورتحال ملکی مالیاتی استحکام اور معاشی ترقی کی رفتار کو متاثر کر سکتی ہے۔
دوسری جانب اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ پائیدار بہتری کے لیے ساختی اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔
قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔
ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،
وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،