گلگت، آغا راحت کی قیادت میں انجمن امامیہ اور ہیت آئمہ جمعہ کے وفد کا نومل کا دورہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
اس موقع پر وفد نے امامیہ سپریم کونسل نومل کے دفتر کا باقاعدہ افتتاح کیا۔افتتاحی تقریب کے دوران آغا راحت حسین نے خطاب کرتے ہوئے نومل کے عہدیداران اور کارکنان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انہوں نے ہمیشہ ملی و دینی امور میں فعال اور مؤثر کردار ادا کیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ قائد ملت جعفریہ آغا سید راحت حسین الحسینی کی سرپرستی میں انجمن امامیہ اور ہیئتِ آئمہ جمعہ و جماعت کے عہدیداران پر مشتمل ایک وفد نے نومل کا دورہ کیا۔ اس موقع پر وفد نے امامیہ سپریم کونسل نومل کے دفتر کا باقاعدہ افتتاح کیا۔افتتاحی تقریب کے دوران آغا راحت حسین نے خطاب کرتے ہوئے نومل کے عہدیداران اور کارکنان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انہوں نے ہمیشہ ملی و دینی امور میں فعال اور مؤثر کردار ادا کیا ہے۔ خصوصاً انجمن امامیہ سپریم کونسل نومل کی خدمات قابلِ تحسین ہیں، جنہوں نے ہمیشہ مرکز گلگت سے مربوط رہتے ہوئے ہر فیصلہ اور ہدایت پر لبیک کہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ نہ صرف تنظیمی طور پر مضبوط ہے بلکہ علاقے میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر، اصلاحِ معاشرہ اور عوامی فلاح کے کاموں میں بھی بھرپور انداز میں شریک رہا ہے، جو قابلِ ستائش ہے۔
تقریب کے اختتام پر امام جمعہ و الجماعت نومل شیخ نئیر عباس مصطفوی نے خطاب کرتے ہوئے گلگت سے آئے ہوئے وفد کا شکریہ ادا کیا اور آغا راحت کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ بھی مرکز کے ہر فیصلے پر لبیک کہنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ مزید برآں، چیئرمین امامیہ سپریم کونسل نومل ڈاکٹر عبد العلی نے اپنے خطاب میں وفد کی نومل آمد اور دفتر کے باضابطہ افتتاح پر دلی تشکر کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی قیادت کی جانب سے دورہ اور حوصلہ افزائی نومل کے کارکنان کے لیے باعثِ تقویت ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ امامیہ سپریم کونسل نومل، مرکز گلگت کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھے گی اور ملی و دینی سرگرمیوں میں ہمیشہ صفِ اول کا کردار ادا کرے گی۔ تقریب کے اختتام پر ملتِ جعفریہ کے اتحاد، تنظیمی استحکام اور علاقے کی ترقی و خوشحالی کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امامیہ سپریم کونسل نومل کرتے ہوئے انہوں نے تقریب کے نومل کے ادا کیا کہا کہ
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔