غزہ امن فورس کے لیے شرائط واضح کردیں، داخلی امور میں مداخلت ناقابل قبول ہے: حماس
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
غزہ بورڈ آف پیس کے جمعرات کو ہونے والے اجلاس سے پہلے فلسطینی مزاحمتی تنظیم کا اہم اقدام سامنے آگیا۔
غیرملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق حماس نے غزہ امن فورس بھیجنے والے ممالک کیلئے شرائط واضح کردیں۔ حماس کا کہنا ہےکہ امن فورس سرحد پر رہے اور فلسطین کے سول، سیاسی اور سکیورٹی امور میں مداخلت نہ کرے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ غزہ میں عالمی فورس پر اعتراض نہیں اگر وہ فریقین کےدرمیان حفاظتی تہہ کےطور پرہوں۔
ترجمان بسیم نعیم نے فلسطین کے داخلی امور میں مداخلت کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی اہلکاروں نے مداخلت کی تو فلسطینی انہیں قابضین کامتبادل تصورکریں گے۔
حماس کا کہنا ہےکہ عالمی فورس کاکردار فریقین کو الگ رکھنا، جنگ بندی قائم رکھنا ہونا چاہیے۔
یاد رہے کہ بورڈ آف پیس کےاجلاس میں فلسطین میں عبوری حکومت، حماس، مستقل جنگ بندی پر بات ہوگی۔ بورڈ آف پیس اجلاس کے ایجنڈہ میں عالمی امن فورس سےمتعلق اموربھی شامل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: امن فورس
پڑھیں:
دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
کراچی : دیو ہیکل بحری جہاز ‘ایم ایس سی ڈیلیٹا ‘ کراچی پورٹ پر لنگر انداز ہوگیا ، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔تفصیلات کے مطابق دنیا کا دیو ہیکل کنٹینر بحری جہاز "ایم ایس سی ڈینلیٹا” کامیابی کے ساتھ کراچی پورٹ پہنچ گیا ہے اور کے پی ٹی کے مخصوص ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا۔کراچی پورٹ ٹرسٹ نے بتایا کہ یہ بحری جہاز اپنی نوعیت اور حجم کے اعتبار سے انتہائی وسیع ہے، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔کے پی ٹی کا کہنا تھا کہ 400 میٹر طویل اور 67 میٹر چوڑا یہ بحری جہاز 255,288 ڈیڈ ویٹ ٹن گنجائش رکھتا ہے، جو اسے دنیا کے بڑے تجارتی جہازوں میں شامل کرتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ اتنے بڑے جہاز کی آمد اس بات کا مظہر ہے کہ کراچی پورٹ جدید سہولیات اور بڑے بحری جہازوں کو سنبھالنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ادارے کے مطابق ایسے بڑے جہازوں کی آمد سے بندرگاہ کی استعداد میں مزید اضافہ ہوگا، عالمی شپنگ کمپنیوں کا اعتماد مضبوط ہوگا اور پاکستان کی تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔