data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (اسٹاف ر پورٹر)ڈائریکٹرجنرل نیب کراچی شکیل احمد درانی نے کہا کہ نیب صوبائی سطح پر 1500 ارب روپے کی سرکاری اراضی واگزار کرچکا ہے،زمینوں کے مسائل کے حل کے لیے نیب اور سندھ حکومت ٹاسک فورس قائم کرنے جارہی ہے، ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز(آباد)کے مطالبے کے مطابق زمینوں کی فروخت نیلامی کے ذریعے کرنی چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آباد ہاؤس میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر ڈی جی نیب راولپنڈی وقار احمد چوہان،چیئرمین آباد محمد حسن بخشی، سینئر وائس چیئرمین سید افضل حمید،وائس چیئرمین طارق عزیز،چیئرمین سدرن ریجن احمد اویس تھانوی،سابق چیئرمین آباد محسن شیخانی،جنید اشرف تالو اور بلڈرز اور ڈیولپرز کی بڑی تعداد موجود تھی۔ ڈی جی نیب کراچی شکیل احمد درانی نے مزید کہاکہ نیب اور سندھ حکومت خصوصی ٹاسک فورس قائم کرنے جارہی ہے، زمینوں کے مسائل حل کرنے کیلیے صوبائی ٹاسک فورس جلد متحرک ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ نیب اورسندھ گورنمنٹ کی خصوصی ٹاسک فورس کو جلد فعال کردیا جائے گا۔نیب اور وزیر اعلیٰ سندھ زمینوں کے مسائل پر آن بورڈ ہیں۔صوبائی سطح پر نیب نے 1.

5 ٹریلین مالیت کی زمینوں کو واگزار کرایا ہے ۔سرکار کی 10 کھرب روپے مالیت کی زمینوں کو واگزار کرانے کا منصوبہ شروع ہوگیا۔ زمینوں سے متعلق صوابددیدی اختیارات کرپشن کا سبب بنتے ہیں سندھ گورنمنٹ سے واگزار زمینوں پرپبلک پارکس بنانے پر پلان زیر غور ہے۔ اس موقع پرچیئرمین آباد محمد حسن بخشی نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کو ترقی دینی ہے تو کراچی شہر کو اپنانا ہوگا اور اس شہر کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔انہوں نے بتایاکہ گزشتہ دو سال میں نیب ایک مختلف اور مؤثر ادارہ بن گیاہے، جس نے بزنس کمیونٹی کو ریلیف اور کاروباری مواقع دیے ہیں،نیب اور آباد کے درمیان تعلق گزشتہ 14 سال میں مضبوط ہوا ہے اور یہ رشتہ اب تناور درخت کی طرح ہے۔حسن بخشی نے کہا کہ پانچ زمینیں واگزار کرائی گئی ہیں، جن میں پارک کی زمینیں بھی شامل ہیں۔ چیئرمین نیب نے آباد کو ان زمینوں پر مل کر کام کرنے کی دعوت دی اور زمینوں کے ٹائٹل کے مسائل حل کرنے کے لیے نیب کوآگاہ کرے گا۔ نیب کی جانب سے کلیئرنس ملنے کے بعد ٹائٹل کا مسئلہ حل ہوجائے گااور اس اقدام کے بعد بلڈرز پر نیب کے کیسز نہیں بنیں گے، جس سے کراچی میں سرمایہ کار مطمئن ہوں چیئرمین آباد نے بزنس کمیونٹی اور نیب کے درمیان کمیٹی بنانے کا اعلان کیا تاکہ معاملات کورٹ سے باہر حل ہو سکیں اور سالوں سے التوا کا شکار کیسز حل کی طرف بڑھیں۔اس موقع پر ڈی جی نیب راولپنڈی وقار احمد چوہان نے کہا کہ نیب باخبر رہنے کیلیے آباد کی رپورٹس کاگہرائی سے مشاہدہ کرتا ہے،ملکی تاریخ میں پہلی بار نیب نے آن لائن پراپرٹی سسٹم تیار کرلیا ہے،ملک بھر کی 1 ہزار26 سوسائٹیوں کے لے آؤٹ پلان آن لائن پراپرٹی سسٹم میں شامل ہیں۔ نیب کا آن لائن پراپرٹی سسٹم عوام کے لیے متعارف کرایا جائے گا جس سے آن لائن سسٹم میں سوسائٹیوں کے منظور شدہ لے آؤٹ پلان میں اضافہ ہوتا رہے گا۔اس موقع پر آباد کے سابق چیئرمین محسن شیخانی نے کہا کہ زمینوں سے منسلک سرکاری اداروں میں ڈیجیٹلائزیشن فارمولے پر کام نہیں ہورہا ہے۔ سرکاری اداروں کی مہر لگنے کے بعد بھی زمینوں کی وقعت محفوظ نہیں، عدالتوں کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔سرکاری اداروں میں ڈیجیٹلائزیشن ہونے کے بعد زمینوں کے 80 فیصد مسائل حل ہوجائیں گے۔

اسٹاف رپورٹر گلزار

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: زمینوں کے مسائل چیئرمین ا باد ٹاسک فورس نے کہا کہ ڈی جی نیب ا ن لائن نیب اور کہ نیب کے بعد

پڑھیں:

اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔

انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم