جائیداد کے شعبے میں شفافیت کے لیے قومی احتساب بیورو کا آن لائن نظام متعارف
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
جائیداد کے شعبے میں شفافیت بڑھانے کے لیے ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے قومی احتساب بیورو نے جامع آن لائن جائیداد نظام کا اجرا کر دیا ہے۔
مذکورہ نظام کے ذریعے ملک بھر کی 1,026 رہائشی سوسائٹیوں کے منظور شدہ نقشہ جاتی منصوبے ایک کلک پر دستیاب ہوں گے۔
یہ اقدام چیئرمین قومی احتساب بیورو کی ہدایات پر عمل میں لایا گیا۔
اس کا اعلان ڈائریکٹر جنرل کراچی شکیل احمد درانی اور ڈائریکٹر جنرل اسلام آباد و راولپنڈی وقار احمد چوہان نے ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کے دورے کے موقع پر کیا۔
نئے برقی نظام کا مقصد متاثرین کے حقوق کا تحفظ، تعمیر کنندگان کے لیے قوانین کو آسان بنانا، کاروباری برادری کو ہراسانی سے بچانا اور تعمیرات و ترقی کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے۔
وقار احمد چوہان نے اس موقع پر کہا کہ یہ ڈیجیٹل اقدام ملکی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا قدم ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ادائیگی کے باوجود خریداروں کو پلاٹ کی فائلیں نہ ملنے کا مسئلہ بالخصوص اسلام آباد اور راولپنڈی میں زیادہ پایا جاتا ہے، جس کے ازالے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔
نئے نظام میں فی الحال ایک ہزار سے زائد سوسائٹیوں کے منظور شدہ نقشہ جاتی منصوبے شامل کیے گئے ہیں اور مزید سوسائٹیوں کی منظوری کے ساتھ معلوماتی ذخیرے کو مسلسل تازہ کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ادارہ آباد کی رپورٹس کا باریک بینی سے جائزہ لیتا ہے اور شعبے کو درپیش مسائل کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے حل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
شکیل احمد درانی نے انسداد بدعنوانی اقدامات کے حوالے سے بتایا کہ صوبائی سطح پر ڈیڑھ کھرب روپے مالیت کی سرکاری زمین واگزار کرائی جا چکی ہے، جبکہ مزید 10 کھرب روپے مالیت کے اثاثوں کی وصولی کے لیے جامع حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ زمین سے متعلق مسائل کے حل کے لیے احتساب ادارے اور حکومت سندھ کے حکام پر مشتمل مشترکہ عملی دستہ قائم کیا جا رہا ہے، جس پر وزیر اعلیٰ سندھ کی منظوری بھی حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ زمین کی الاٹمنٹ میں صوابدیدی اختیارات اکثر بدعنوانی کا باعث بنتے ہیں، اس لیے زمین کی فروخت کھلی نیلامی کے ذریعے ہونی چاہیے۔
مزید یہ کہ واگزار کرائی گئی زمین کو عوامی مفاد کے لیے باغات میں تبدیل کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے، تعمیراتی برادری کی قیادت نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا۔
چیئرمین آباد محمد حسن بخشی نے کہا کہ گزشتہ 14 برسوں میں احتساب ادارے اور آباد کے تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کی ترقی کے لیے کراچی کی مکمل سرپرستی ناگزیر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب احتساب ادارہ زمین کے مالکانہ حقوق پر اجازت نامہ جاری کر دے تو بعد ازاں تعمیر کنندگان کے خلاف مقدمات درج نہ کیے جائیں، اس اقدام سے شہر میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آباد احتساب اسلام آباد الاٹمنٹ ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز پلاٹ ٹیکنالوجی راولپنڈی زمین سندھ شکیل احمد درانی محمد حسن بخشی وزیر اعلی وقار احمد چوہان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام آباد الاٹمنٹ ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز پلاٹ ٹیکنالوجی راولپنڈی شکیل احمد درانی وزیر اعلی وقار احمد چوہان نے کہا کہ انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
کراچی میں اضافی پانی کا منصوبہ کے فور کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی۔
ایکسپریس نیوز کو واٹر کارپوریشن حکام کے سینئر افسران نے اس کی تصدیق کی کہ منصوبے میں مزید ڈھائی سال لگ سکتے ہے، اگر کام اسی طرح ہوتا رہے تو اس منصوبے میں وفاق، سندھ حکومت ، بین الاقومی مالیتی اداروں کی فنڈنگ بھی کی گئی۔
حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہوچکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1ارب 20 کروڑ گیلن ہے جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کر نے کے لئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔
2014 میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بناناتھا جس کی لاگت 25 ارب روپے بتا ئی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا تاہم پھر اس کو واپڈ کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہوسکا۔
کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026 کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ ایکپسریس نیوز نے مختلف ذرائع سے جو تفصیلا ت حاصل کیں ان کے مطابق کے فور منصوبہ 2026 میں بھی مکمل نہیں ہوسکے گا اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029 کی جنوری تک ہے۔
ایک ذرائع نے بتایا کہ اگر کام اسی رفتار سے کام چلتا رہا تو نومبر 2025 کو آگمیٹیشن کام نیپا چورنگی سے شروع ہوا جو حسن اسکوائر تک محیط ہے، اس کی لمبائی 2 اعشاریہ 7 کلو میٹر طویل ہے اب تک مکمل نہیں ہوسکا کیونکہ یہ تو صرف ابتداء ہے اصل کام تو آر ون، آر ٹو، آر تھری کا کام جو اب تک شروع ہی نہیں ہوا۔
سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کا ٹھیکہ ہی نہیں ہوسکا کہ کام کون کریں گا آر ون ،آر ٹو ، آر تھری ہے کیا یہ ریروائر کی لائنیں ہے آر ون 26 کلومیٹر طویل ہے ، آر ٹو40کلومیٹر طویل ہے جبکہ آرتھری 28 کلومیٹر طویل بتائی جا تی ہے۔
یہ لائنیں شہر کے وسط سے ہوتی ہوئی گزریں گی ان لائنوں کا مختلف نمبرز دئیے گئے ہے یہ لائنیں ڈلنے کے بعد ہی کراچی کو اضافی پانی مل سکے گا جب لائنوں کا مکمل شروع ہوگا تو شہر کی اہم شاہراہوں کو کھودنا پڑے گا، جس میں 72 انچ اور 96 انچ کی لائنیں ڈالی جا ئیں گی۔
صرف ایک روڈ آر ٹو کی تفصیلات فراہم کرر ہے ہیں یہ ریزر وائر ٹو نادرن بائی سے واپڈ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے سپرد کریں گی جو کھدائی کرتی ہوئی۔
نادرن بائی پاس، ٹول پلازہ سے سپرہائی وے ، پھر جنجال گوٹھ سے ہوتی ہوئی سہراب گوٹھ ، وہاں سے ابوالحسن اصفہانی روڈ ، ڈسکو بیکری سے ہوتی ہے گلشن چورنگی ، رب میڈیکل سے ہوتی ہوئی ہے سرسید یونی ورسٹی سےنیپا چورنگی پر آگمینٹیشن سے منسلک کیا جا ئے گا۔
پھر یہ حسن اسکوائر سے ہوتا ہوا غریب آباد ، لیا قت آباد ، ناظم آباد، حبیب بنک چورنگی ، سے ہوتی ہوئی گلبائی تک جا ئیں گی، یہ راستہ ہے (آر ٹو) ریزر وائر ٹو کے فور کے لئے ڈالی جانی والی لائن اس کے لئے جب لائن ڈالنے کا کام ہو گا تو کھدائی ہوگی جس میں 72 انچ اور کسی مقام پر 96 انچ کی لائن ڈالی جا ئیں گی۔
اندازہ لگانا مشکل نہیں یہ 94 کلو میٹر کی لائنیں ڈالنے کے لئے 80 ارب روپے لگے اس کے لئے 2 بین الاقومی مالیتی ادارے 80 فیصد قرضے کی صورت میں فنڈ فراہم کر یں گے جبکہ 20 فیصد فنڈ سندھ حکومت فراہم کر یگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ 80 ارب روپے صرف آرون، آرٹو، آر تھری کی لائنیں ڈالنے میں خرچ ہوں گے جبکہ 124 ارب ٹرانسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشنز، فلٹر پلانٹٹس اور دیگر کاموں میں خرچ ہوں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جا نے ہے جن میں ٹراسمیشن لائن ، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنا نے کے کام کی ذمہ داری ہے جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن ، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے آگمیٹیشن کانیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025 سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا بلکل بین الاقومی مالیتی ادارے نے اس کو غیر معیا ری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جا ئیں گی اس وقت شہریوں کو آمد ورفت میں مزید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑیگا۔