Express News:
2026-06-03@02:11:29 GMT
بدبخت بہن اور بھائی نے مل کر باپ کو قتل کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
جھنگ میں بدبخت بہن اور بھائی نے مل کر باپ کو قتل کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق جھنگ کے علاقے ماڑی بلوچاں میں بھائی بہن نے مل کر باپ کو قتل کر دیا.
15 سالہ فرخ نے 13 سالہ بہن کے ساتھ مل کر باپ کو قتل کرکے لاش صحن میں دفنا دی. ملزموں کی نشاندہی پر آلہ قتل کلہاڑی گھر کی چھت سے برآمد ہوئی۔
ملزم بہن بھائی سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔ مقتول کی اپنی بیوی سے علیحدگی ہو چکی تھی۔
ملزم بیٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ مقتول باپ مجھے جنسی زیادتی کا نشانہ بناتا تھا اور تشدد بھی کرتا تھا۔ جب اپنے بھائی کو اس بارے میں بتایا تو اس نے باپ کو قتل کر دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مل کر باپ کو قتل کر باپ کو قتل کر دیا
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔