ٹی20 ورلڈ کپ: پاکستان اور بھارت کے کپتانوں کے درمیان ایک بار پھر ہینڈ شیک نہیں ہوا
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
پاکستان اور بھارت کے درمیان ٹی20 ورلڈ کپ کے میچ میں آج ایک بار پھر ٹاس کے وقت دونوں کپتانوں نے ہاتھ نہیں ملایا۔
مئی 2025 کی پاک بھارت جنگ کے بعد بھارت بوکھلاہٹ کا شکار ہے، اور کھیل کے میدان میں بھی سیاست کو لے آیا ہے۔
مزید پڑھیں: ایشیا کپ میں ہاتھ نہ ملانے کا تنازعہ، اس حوالے سے کرکٹ قوانین کیا ہیں؟
روایتی طور پر ٹاس کے وقت دونوں ٹیموں کے کپتان ہاتھ ملاتے ہیں، اور پھر میچ ختم ہونے کے بعد دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں میں بھی ہینڈ شیک ہوتا ہے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان ہاتھ نہ ملانے کا معاملہ سب سے پہلے گزشتہ برس ایشیا کپ میں سامنے آیا تھا، جہاں بھارتی ٹیم نے پاکستان کے ساتھ ہاتھ ملانے سے گریز کیا۔
مصافحہ نہ کرنے پر کرکٹ قوانین کیا ہیں؟
کرکٹ کے قوانین مرتب کرنے والے ادارے ایم سی سی کے مطابق احترام، کرکٹ کی روح کا بنیادی حصہ ہے۔ نتیجہ کچھ بھی ہو، مخالف ٹیم کو مبارکباد دینا، اپنی ٹیم کی کامیابیوں کا لطف اٹھانا، امپائرز اور مخالفین کا شکریہ ادا کرنا لازمی ہے۔
ایم سی سی مزید کہتا ہے کہ کرکٹ ایک ایسا کھیل ہے جو قیادت، دوستی اور ٹیم ورک کو فروغ دیتا ہے اور مختلف قومیتوں، ثقافتوں اور مذاہب کے کھلاڑیوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میچ کے بعد مصافحہ محض رسم نہیں بلکہ ’کرکٹ کی روح‘ کا ایک لازمی حصہ سمجھا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: اسپورٹس مین شپ نظر انداز: بھارتی کھلاڑیوں کا پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ ملانے سے گریز
ماہرین کے مطابق اگر کوئی ٹیم اس روایت کو نظر انداز کرے تو یہ عمل قوانین کی تکنیکی خلاف ورزی نہ سہی مگر ’کرکٹ کی روح‘ کے برعکس ضرور تصور کیا جاتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بھارت پاکستان ٹی20 ورلڈ کپ ہینڈ شیک تنازع وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت پاکستان ٹی20 ورلڈ کپ ہینڈ شیک تنازع وی نیوز
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔