بھارت کا 6طیارے گرنے پر تاحال غصہ برقرار، کپتانوں نے ہاتھ نہیں ملایا
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
بھارت کا 6طیارے گرنے پر تاحال غصہ برقرار، کپتانوں نے ہاتھ نہیں ملایا WhatsAppFacebookTwitter 0 15 February, 2026 سب نیوز
کولمبو(آئی پی ایس )ایشیا کپ کے بعد ٹی 20 ورلڈ کپ میں بھی کھیل کی سپرٹ کے منافی سوچ کے تحت بھارتی ہٹ دھرمی برقرار رہی اور بھارتی ٹیم کے کپتان نے پاکستانی کپتان کے ساتھ ہینڈ شیک نہیں کیا۔ذرائع کے مطابق بھارت کا 6طیارے گرنے پر تاحال غصہ برقرار ہے اور پاک بھارت میچ میں ہینڈ شیک نہ کرنے کا فیصلہ بھارتی ٹیم کی جانب سے کیا گیا ہے، کرکٹ حلقوں میں افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے، کہا گیا ہے کہ ہینڈ شیک نہ ہونے سے کرکٹ کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔
میچ کے آغاز سے قبل دونوں ٹیموں کے درمیان بھی روایتی ہینڈ شیک یا رسمی مصافحہ دیکھنے میں نہیں آیا، جس پر سوشل میڈیا اور شائقینِ کرکٹ کے حلقوں میں بحث شروع ہو گئی۔ذرائع کے مطابق ٹاس کے موقع پر دونوں ٹیموں کی ملاقات مختصر رہی اور کھلاڑی براہِ راست اپنی اپنی تیاریوں میں مصروف ہو گئے جبکہ دنیا نیوز کے ذرائع نے میچ سے قبل ہی ہینڈ شیک نہ ہونے کی اطلاع کی تصدیق کر دی تھی۔میچ سے ایک روز قبل پریس کانفرنس کے دوران ہینڈ شیک کے سوال پر بھارتی کپتان کا کہنا تھا کہ ہینڈ شیک کے لیے 24 گھنٹے انتظار کر لو، اچھی کرکٹ کھیلنے آئے ہیں، اچھی کرکٹ کھیلیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہینڈ شیک کا سسپنس کل ختم کر دیں گے، 24 گھنٹے رک جائیں، ہینڈ شیک کا انتظار کرو، ابھی کھانا کھائیں سو جائیں کل دیکھیں کہ کیا ہوتا ہے۔بھارت کے سابق مایہ ناز کرکٹر اور کمنٹیٹر سنجے منجریکر نے بھی پاکستانی کھلاڑیوں سے ہینڈ شیک نہ کرنے کے بی سی سی آئی کے فیصلے کو احمقانہ قرار دیا۔ سنجے منجریکر نے ایکس اکاونٹ پر لکھا بھارت نے جو “ہاتھ نہ ملانے” والی حرکت شروع کی ہے یہ بڑی احمقانہ ہے، یہ ہمارے جیسے ملک کے شایانِ شان نہیں ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسری لنکن بورڈ کی سید محسن نقوی کے اعزاز میں خصوصی تقریب سری لنکن بورڈ کی سید محسن نقوی کے اعزاز میں خصوصی تقریب اسلام آباد میں رمضان دسترخوان کیلئے رجسٹریشن اور اجازت نامہ حاصل کرنا لازمی قرار پاکستان بنگلہ دیش نالج کوریڈور کا آغاز، علامہ محمد اقبال اسکالرشپس کے تحت بنگلہ دیشی طلبہ کا پہلا گروپ پاکستان پہنچ گیا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ، پاکستان کا ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ جائیداد کے شعبے میں شفافیت لانے کیلئے قومی احتساب بیورو کا آن لائن نظام متعارف اسلام آباد میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کا مارگلہ ٹریل تھری پر انسدادِ موٹاپا ہائیک کا انعقادCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔
Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026
انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔
دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا
انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔
It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026
ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔
انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان
پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔
انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور
صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔
انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب