کراچی کے شہری صوبہ بنانے کے حق میں نہیں: وزیر اعلیٰ سندھ
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
کراچی: (دنیا نیوز) وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی کو صوبہ بنانے کی کل بھی کچھ لوگوں نے باتیں کیں، کراچی کے شہری صوبہ بنانے کے حق میں نہیں،
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ صوبائی اسمبلی دوتہائی اکثریت سے قرارداد منظور کرے تو صوبہ بنتا ہے،صوبہ بنانے کا آئین میں درج طریقہ ہی ٹھیک ہے، نہ میری مرضی نہ کسی اور کی۔
مرادعلی شاہ کا کہنا تھا کہ کراچی میں ترقیاتی کام جارہی ہیں، پل بنانے کیلئے انتظامیہ کو 100 دن کا چیلنج دیا گیا تھا، کراسنگ روڈ نہ ہونے کی وجہ کافی حادثات ہوئے تھے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ مجھے پورا یقین ہے باقی منصوبوں پر بھی ڈپٹی میئر کی ٹیم سب مل کر کام کریں گے، اس سال کے بجٹ میں کورنگی کاز کا پل مکمل کیا، عظیم پورہ پل کو 100 دن میں مکمل کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس سال کراچی میں 300 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے ہوں گے، ملیر میں فلائی اوور کی تعمیر سے شہریوں کو فائدہ ہوگا، آئندہ 4 سے 6 ہفتے تک شاہراہ بھٹو کو قیوم آباد تک مکمل کرلیں گے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ میئر کراچی کو عظیم پورہ فلائی اوور بنانے کا ایک اور چیلنج دے رہا ہوں، شاہراہ بھٹو کو قیوم آباد سے کاٹھوڑ تک جلد مکمل کرلیں گے۔
وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ کراچی کے شہری صوبہ بنانے کے حق میں نہیں، جب آپ کے پاس پاور تھی تو بوری بند لاشیں ملتی تھیں، کیا آپ کو اس دور کی بوری بند لاشیں یاد نہیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ متحد رہے گا، سندھ نے پاکستان بنوایا ہے، سندھ نے پاکستان کے لیے دوبار قرارداد منظور کی، اگر تم سندھ توڑنے کا سوچتے ہو تو پاکستان کیلئے سچے نہیں۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ ہم بلدیاتی اداروں کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں، تم نہیں چاہتے، وزیراعظم کا یہ کام نہیں کہ وہ گلی میں گٹر کے ڈھکن لگائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مراد علی شاہ نے کہا کہ
پڑھیں:
کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
صدر مسلم لیگ (ن) نوازشریف(nawaz shrif) کا کہنا ہے کہ کسی پر تنقید کرکے،کسی کی برائی کرکے ووٹ نہیں مانگتا بلکہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔
گلگت میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ کسی پارٹی یا حکومت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، حکومت ملنے پر کیوں اس علاقے کو نظر انداز کیا گیا؟
کیوں اس علاقے پر توجہ نہیں دی گئی؟ جب وزیراعظم تھا تو کئی بار گلگت آیا اور اسکردو گیا تھا، کئی برسوں بعد آپ سے گفتگو کرکے بہت خوشی ہورہی ہے۔
نوازشریف نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور وزیراعظم بننے سے بھی پہلے گلگت،اسکردو آیاتھا، گلگت، بلتستان، اسکردو سے مجھے دلی محبت ہے، جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ گلگت کہاں ہے؟ میرا دل روتا ہے کہ آپ کا پیسہ آپ پر کیوں نہیں لگا یاگیا۔
صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ کسی ایک پارٹی نے یہاں منصوبے کی بنیاد نہیں رکھی، جومیرےزمانے میں ایئرپورٹ تھا، آج بھی وہی ہے، شہبازشریف سے کہوں گا اس ایئرپورٹ کو بڑا کریں، جیٹ طیارے لینڈ کرنے اور ٹیک آف کی گنجائش پیدا کریں گے۔
نوازشریف کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں لواری ٹنل 70سال سے مکمل نہیں ہورہی تھی، ہم نے اربوں روپےخرچ کرکے لواری ٹنل مکمل کی، یہاں منصوبہ شروع ہوتا ہے تو مکمل ہونے کا نام نہیں لیتا۔
گلگت بلتستان میں 10،10 اور12،12گھنٹےکی لوڈشیڈنگ منظور نہیں۔ ووٹ ملے نہ ملے، آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کرسکتے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت آئی تو یہاں ہر دوسرے تیسرے ماہ آتارہوں گا، اپنی نگرانی میں منصوبے مکمل کراؤں گا، تمام اسٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر آپ کے حق میں فیصلہ کریں گے۔ تجارت بڑھنے پر گلگت بلتستان بہت خوشحال ہوجائے گا۔
مزید پڑھیں:پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
نوازشریف نے کہا کہ مجھے کیوں نکالا؟ کیوں مجھے ملک چھوڑ کر جانا پڑا؟ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا۔ قصور آپ کا بھی ہے۔