سزائے موت اور عمر قید کے مقدمات 45 روز میں نمٹانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
چیف جسٹس کی سربراہی میں کام کرنے والے لا اینڈ جسٹس کمیشن نے سزائے موت اور عمر قید کے مقدمات 45 دنوں میں نمٹانے کا ہدف مقرر کرلیا۔چیف جسٹس کی سربراہی میں لا اینڈ جسٹس کمیشن کا 47واں اجلاس ہوا جس میں عدالتی امور پر غور کیا گیا۔اعلامیے کے مطابق لا اینڈ جسٹس کمیشن نے سزائے موت، عمر قید کے مقدمات 45 دنوں میں نمٹانے کا ہدف مقرر کیا جس کے تحت آئندہ سوا ماہ میں تمام کیسز کو نمٹایا جائے گا۔اعلامیے کے مطابق انصاف سے محروم شہریوں کے لیے مفت قانونی مشورے کا جامع فریم ورک تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ پاکستان لا اینڈ جسٹس کمیشن سیکریٹریٹ کو ہائی کورٹز اور بار کے تعاون سے عمل درآمد کی ہدایت بھی کی گئی۔اجلاس میں ایکسیس ٹو جسٹس فنڈ کے ذریعے فنڈنگ کے امکانات پر غور کیا گیا جبکہ خاندانی قوانین، کریمنل پروسیجر اور ای فائلنگ سمیت دیگر اصلاحات کا جائزہ بھی لیا گیا۔اجلاس میں انکلوسیو اور ریسپانسیو قانون سازی کے عزم کے ساتھ عدالتی نظام کو مضبوط بنانے کی توثیق کی گئی۔اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان کی قیادت میں اکتوبر 2024 سے فوجداری مقدمات کی مجموعی زیر التوا تعداد 19 ہزار 549 سے کم ہو کر 12 ہزار 705 رہ گئی۔اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ 9 تا 14 فروری 2026 کے دوران سپریم کورٹ نے سزائے موت اور عمر قید سے متعلق 354 فوجداری مقدمات نمٹائے.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سزائے موت اور عمر قید لا اینڈ جسٹس کمیشن اعلامیے کے مطابق کے مقدمات چیف جسٹس کیا گیا
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔